نالائقی کا تعلق نہ جمہوریت نہ آمریت سے

Home Forums Siasi Discussion نالائقی کا تعلق نہ جمہوریت نہ آمریت سے نالائقی کا تعلق نہ جمہوریت نہ آمریت سے

#11
Qarar
Participant
Offline
  • Professional
  • Threads: 110
  • Posts: 2762
  • Total Posts: 2872
  • Join Date:
    5 Jan, 2017

Re: نالائقی کا تعلق نہ جمہوریت نہ آمریت سے

پوری تحریر

میں اتنا بڑا نالائق ہوں کے درست طریقے سے تحریر کی نقل کو یہاں چپساں بھی نہیں کر سکا

_______________

اکستان کا پرابلم نالائقی ہے۔ انفرادی ہنر ہم میں ہو گا لیکن ہماری تاریخ ثابت کرتی ہے کہ اجتماعی طور پہ ہم پرلے درجے کے نالائق لوگ ہیں۔ کوئی کام ہم سے سیدھا ہوتا ہے؟ سڑکوں سے لے کر دفتری کاموں تک، ہم کہیں بھی دیانتداری کا مظاہرہ کر سکتے ہیں؟ کیفیت ایسی ہو تو نظامِ حکومت آپ جو مرضی لے آئیں نتیجہ وہی نکلے گا جو ہمارے اجتماعی حال میں نظر آتا ہے۔ کوئی ایک ادارہ تو ہو جو ہماری نالائقی سے بچا ہو۔ انگریز اچھا بھلا نظام تعلیم دے گئے تھے، اس کا ہم نے بیڑہ غرق کر دیا۔ تعلیم کے حوالے سے غور کرنے کی بات یہ کہ ہمارے تمام تر مذہبی دعووں کے باوجود پاکستان میں جس کسی کی تھوڑی سی استطاعت ہو چاہتا ہے کہ اس کے بچے مشنری یا انگریزی سکولوں میں تعلیم حاصل کریں۔ پاکستان میں تعلیم کی معراج یہی مشنری سکول اور کالج رہے ہیں۔ یہ اور بات ہے کہ مشنری سکولوں کو بھی ہم نے نہیں بخشا اور ان کا وہ معیارِ تعلیم و تدریس نہیں رہا جو گزرے وقتوں میں ہوا کرتاتھا۔ یہ امر دلچسپی سے خالی نہیں کہ مولانا محمد خان شیرانی‘ جو جے یو آئی کے بڑے لیڈر ہیں اور اسلامی نظریاتی کونسل کے چیئرمین بھی رہے ہیں‘ نے اپنے ایک بیٹے کا داخلہ ایچی سن کالج لاہور میں کرایا۔ یعنی دوسروں کو تلقین مدرسوں کی تعلیم کی اور اپنا فرزند ملک کے صفِ اول کے انگریزی سکول میں۔ یہ الگ بات ہے کہ فرزند زیادہ دیر وہاں ٹھہر نہ سکا۔ سڑکیں اور پل اچھے بھلے بنتے تھے۔ انگریزوں کے پرانے پلوں پہ ایک نظر دوڑائی جائے تو پتا چلتا ہے کہ تعمیر کے معیار کیا ہوا کرتے تھے۔ اب ان کاموں میں کتنے گھپلے ہوتے ہیں ہم سب جانتے ہیں۔ ریلوے نظام ہمارے ہاتھوں تباہ ہوا۔ اینگلو انڈین یعنی جنہیں ہم دیسی انگریز کہتے تھے ریلوے نظام میں کلیدی ذمہ داریاں سنبھالا کرتے تھے۔ وہ سب چھوڑ گئے۔ سچ تو یہ ہے کہ ہم نے تقریباً ساری اینگلو انڈین آبادی کو یہاں سے بھگا دیا۔ ریاست کا ماحول ہی ایسا بن گیا کہ اُن دیسی انگریزوں نے یہاں سے ہجرت کرنے میں اپنی بہتری سمجھی۔ ان کا رنگ ہمارے جیسا تھا لیکن انگریز اثر کی وجہ سے محنت اور ڈسپلن اُن کے مجموعی مزاج میں ہم پکے دیسیوں سے تھوڑا زیادہ تھا۔ ایک زمانے میں ریلویز کا بہت اچھا نظام ہوا کرتا تھا۔ پھر خرابی کیا بربادی آتی گئی اور آج ریلویز کا نظام کھنڈر بننے کے قریب پہنچ چکا ہے۔ یہ ذہن نشین رہے کہ آج بھی جو ادارے ہیں سارے کے سارے انگریزوں کے بنائے ہوئے تھے۔ قانون ان کے، عدالتی نظام ان کا، ضابطے کی کارروائیاں سب ان کی ترتیب کردہ۔ آفرین ہو ہماری اجتماعی صلاحیتوں پہ کہ کوئی ایک ادارہ نہیں جو ہماری اجتماعی نالائقی سے بچ گیا ہو۔ نہیں، صرف ایک ادارہ ہے جس نے اپنے آپ کو بچا رکھا ہے اور وہ ہے عسکری شعبہ۔ عسکری اداروں نے بہت حد تک انگریز کے ورثے کو سنبھال کے رکھا ہوا ہے۔ نعرے جو بھی ہوں، ان اداروں کا مزاج یا جسے ہم انگریزی میں ethos کہتے ہیں وہی ہے جو انگریز کے زمانے سے چلا آ رہا ہے۔ ہندوستان کی فوج ہو یا بنگلہ دیش اور پاکستان کی، اِن کی تنظیم اور ٹریننگ کے طریقہ کار وہی ہیں جو ہمیں ورثے میں ملے۔ پی آئی اے واحد ادارہ ہے جو ہمارے ہاتھوں سے بنا۔ جب تک اس کے سربراہ وہ رہے جن کی تعلیم و تربیت انگریزی ماحول میں ہوئی تھی‘ اس کا معیار بلند رہا۔ ایئر مارشل نور خان اور ایئر مارشل اصغر خان پاکستانی تربیت گاہوں کی پیداوار نہ تھے۔ ان کی سکولنگ اور تربیت انگریز اداروں میں ہوئی۔ جو مزاج ان کا وہاں بنا اُسی مزاج کو انہوں نے پی آئی اے کا حصہ بنایا۔ جب پاکستانی جمہوریت یونین بازی کی شکل میں پی آئی اے میں داخل ہوئی تو ہماری ایئر لائن بربادی کے راستے پہ چل نکلی۔ یہ بات بھی ہے کہ نور خان اور اصغر خان جیسے سربراہ پی آئی اے میں آنا بند ہو گئے۔ آتے بھی کیسے جب وہ ساری پود ہی ختم ہوتی گئی۔ جو ماحول ہم نے ملک کا بنا دیا ہے اُس میں کسی معجزے سے ہی کوئی نور خان یا اصغر خان پیدا ہوسکتا ہے۔ اب تو انہی پہ گزارا کرنا پڑتاہے جوموجود ہیں۔ ایسے میں جمہوریت اورآمریت کی بحث بے معنی ہے۔ تاریخِ دنیا میں زیادہ کارنامے آمروں کے کھاتوں میں آتے ہیں۔ سکندرِ اعظم ہو یا چنگیز خان وہ سب آمر تھے۔ جولیئس سیزر، نپولین، آپ نام لیتے جائیں سارے کے سارے اپنے زمانوں کے مردِ آہن تھے۔ جمہوریت تو پچھلے سوسال کی پیداوار ہے۔ برطانیہ میں پہلے آئی اوریورپ کے دیگر ممالک میں بہت عرصے بعد اس کی جڑیں مضبوط ہوئیں۔ ہمارا المیہ یہ رہاہے کہ جمہوریت تو یہاں تھی ہی کمزور اورجو آمر آئے انہوں نے بھی نالائقی کے فن میں کمال کر دیا۔ کوئی سوچ، فکر، ویژن کسی ایک میں نہ تھا۔ مطلق العنانیت تو تب کسی کام کی کہ آپ کے سامنے کوئی سوچ ہو۔ مصطفی کمال اتاتُرک ایک آمر تھا۔ اندازہ لگائیے کہ ہٹلر جیسا آدمی بھی اتا تُرک کو ایک بڑا آدمی سمجھتا تھا۔ لیکن اتاتُرک جیسے کتنے اور لیڈر مسلم ممالک میں پیدا ہوئے ہیں؟ پچھلے سوسال میں اتاتُرک جیسا لیڈر کسی مسلم ملک کو نصیب نہیں ہوا۔ کامیاب جرنیل تو تھا ہی لیکن شکست کی راکھ سے اس نے ایک نئے وطن کی تعمیر بھی کی۔ جاپان کو جمہوریت امریکیوں نے دی‘ نہیں تو وہ خالصتاً ایک آمرانہ ملک تھا۔ چین میں تو ہے ہی ایک پارٹی سسٹم۔ اور جو ہمارا تصورِ جمہوریت ہے اس کو تو چین مانتا ہی نہیں۔ اس کا یہ مطلب ہرگز نہیں کہ پاکستان میں آمریت ہونی چاہیے۔ جیسے عرض کیا‘ ہماری آمریتیں بھی نالائق نکلیں۔ چین جیسی آمریت کے ہم قابل نہیں۔ ہمارا وہ تاریخی پسِ منظر ہی نہیں جس کی بدولت ہم انقلاب کی راہوں پہ چل سکیں‘ لیکن ہمارا مسئلہ جمہوریت نہیں۔ یہاں آپ انگریز کی پارلیمنٹ لے آئیں ہم نے اس کو ناکارہ بنادینا ہے۔ کہنے کا مطلب یہ کہ محض جمہوریت کسی چیز کا حل نہیں۔ روس کی جمہوریت آئی اور سوویت یونین کی وحدت کا شیرازہ بکھر گیا۔ بورس یلسن جمہوری طور پہ روس کے صدر منتخب ہوئے تھے اور اُن سے نکماّ سربراہ پوری روس کی تاریخ میں نہیں ملتا۔ روس کی تنزلی کو ولادیمیر پیوٹن نے روکا اور جمہوری طریقوں سے نہیں بلکہ ایک مردِآہن کے طورپر۔ ہمارے شہروں کاگند کیسے صاف ہو؟ پاکستانی عوام کو صفائی کا درس کون دے گا؟ کراچی کے قدرتی نالے جوکہ بارشوں کا پانی سمندر میں لے جاتے تھے بند ہوئے تو چاہے ملک میں کوئی آمر حکومت کررہا تھا یا جمہوریت کی بہار تھی‘ لوٹ مار کا بازار ہر دور میں گرم رہا۔ آمر مسلط ہو یا انتخابات کا انعقاد ہورہا ہو، کبھی کرپشن کا خاتمہ اس ملک میں ہوا؟ پٹوار اورتھانے کا نظام ہر موسم میں ایک طرزکا رہا۔ پھر ہم جو مڈل کلاسیے یا خودساختہ دانشور ہیں جمہوریت اورآمریت کی بحث میں کیوں پڑے رہتے ہیں؟ 95 فیصد عوام کو کوئی فرق نہیں پڑتاکہ یہاں کو ن سا نظامِ حکومت ہے۔ پاکستان میں کب چیزیں ہونے لگیں گی؟ ہرکام کی رفتار کب تیز ہوگی؟ بے ایمانی‘ جواب معاشرے میں اتنی پھیل چکی ہے‘ اس کی سطح کب تھوڑی نیچے آسکے گی؟ مسائل تو یہ ہیں۔ اِن کا حل کیا ہے؟ ہم پنجابیوں میں خوبیاں بہت ہیں‘ لیکن کچھ کام ہمارے بس کی بات نہیں۔ ریاست ایسی بن چکی ہے، خاص طورپہ ایسٹ پاکستان کے الگ ہونے کے بعد، کہ ہم پنجابیوں کا پلڑا اس میں بھاری ہوگیا ہے۔ آبادی اوروسائل کے لحاظ سے باقی قومیتوں سے ہمارا وزن زیادہ ہے۔ اس بنا پہ ریاست چلانے کی ذمہ داری بھی ہمارے کندھوں پہ زیادہ ہے۔ لیکن تاریخِ پاکستان ثابت کرتی ہے کہ فنِ حکمرانی ہم پنجابیوں کو نہیں آتی۔ سکندراعظم سے لے کر آج تک ہم پنجابی مہاراجہ رنجیت سنگھ کو چھوڑ کر کبھی اقتدار میں نہیں رہے۔ حکمرانی کے جوہر پھر ہمیں کہاں سے آئیں گے؟

ایاز امیر کا کالم حسب معمول غلط توجیہات اور اخذ کردہ ناقص نتائج سے بھرپور ہے …صرف ایک بات پر میرا  اتفاق ہے کہ پاکستانی قوم بہت نالائق ہے

میں چند چیدہ چیدہ نکات زیر بحث لانے کی کوشش کرتا ہوں
موصوف نے یہ لکھا ہے کہ پاکستان کا ہر شعبہ ابتری کا  سوائے فوج کے جس نے اپنے آپ کو سنبھال کر رکھا ہوا ہے …اب سوال یہ بنتا ہے کہ صاف ستھری وردی پہن کر …درجنوں میڈل سجا کر ..بینڈ باجوں والی پریڈ کروانا ہی ڈسپلن کا اور بہتری کا نام ہے تو فوج اس میں سب سے آگے ہے  اور بہترین ادارہ ہے …ورنہ اصل حقیقت تو یہ ہے کہ قوم اپنا پیٹ کاٹ کر اس ادارے کو ملک کا دفاع کرنے کا پابند کرتی ہے مگر یہ بے غیرت ہر دوسرا کام کرتے ہوں سوائے اپنے اس اصل کام کے جس کے لیے اس ادارے کو بنایا گیا تھا …بے تحاشا رقوم خرچ کرنے کے باوجود فوج نے کسی ایک بھی مرحلے پر قوم کو سرخرو نہیں کیا …پے در پے شکستوں کی ذلتیں ہی دیکھی ہیں …میرے خیال میں سب سے زیادہ ابتری کا شکار اور شتر بے مہار محکمہ صرف فوج کا ہی ہے …یہاں ایاز امیر نے صرف  اپنے سابقہ فوجی ہونے کا حق ادا کرنے کی ناکام کوشش کی ہے

پھر ایاز امیر نے ہمیشہ کی طرح جمہوریت کی خرابیوں کا رنڈی رونا رویا ہے …یعنی جمہوریت کو آئے تو صرف سو  سال ھوئے ہیں ..ورنہ ماضی کی  دنیا تو صرف ڈکٹیٹروں کے سہارے چلتی رہی ہے …اس ڈفر کو اتنی معمولی سے بات سمجھ میں نہیں آتی کہ دنیا چلتی تو رہی تھی مگر کیا بڑے اعلیٰ طریقے سے چل رہی تھی؟ ان ماضی کی تمام سپر پاورز اور بادشاہتوں کے اندر عوام کس حال میں تھے؟ کیا ان کو بنیادی حقوق میسر تھے ؟ کیا اظہار راۓ کی آزادی تھی ..کیا مذہبی آزادی تھی؟ کیا مرد اور عورتوں کے حقوق کے درمیان  خلیج زیادہ گہری نہیں تھی؟
میرا ایاز امیر سمیت پاکستانیوں سے ایک سوال ہے کہ اگر ایک  سو عام پاکستانیوں  کو یہ موقع دیا جاۓ کہ وہ برطانیہ  اور چین کے درمیان ایک ملک کا انتخاب کریں  جس میں وہ سیٹل ہونا چاہیں  تو یہ پاکستانی کس ملک کا انتخاب کریں گے؟ لازمی برطانیہ کا ..مگر کیوں؟ حالانکہ چین تو دنیا کی دوسری بڑی معاشی طاقت ہے ..برطانیہ سے تو وہ بہت آگے ہے ..پھر چین کیوں نہیں؟
اگر روس اور سویڈن میں سے ایک ملک کے انتخاب کا موقع دیا جاۓ تو اکثریت پھر سویڈن کو چنے گی ..اس کیا کیا وجہ ہے؟ حالانکہ بقول ایاز امیر روس کے مرد آہن پوٹن نے تو روس کو امریکا کے ہم پلہ دنیا کی بڑی طاقت بنا رکھا ہے…پھر روس یا چین رہائش کے لیے …نوکری کے لیے …یا زندگی گزارنے کے لیے اولین ترجیح کیوں نہیں؟

اس کی وجہ یہ ہے کہ ان آمریتوں نے ملکی سطح پر معاشی ترقی  تو ضرور لائی ہے مگر عوام پابندیوں میں جکڑے ھوئے ہیں …ہر پاکستانی کی خواہش ہوگی کہ وہ وہاں جاۓ جہاں اس کو آزادیاں ہوں …اقلیت کی حق تلفی نہ ہو ..مذہبی آزادیاں ہوں وغیرہ وغیرہ ..اور یہ بنیادی حقوق صرف ان ممالک میں ملتے ہیں جہاں جمہوریت ہے ..اسی وجہ سے پاکستانیوں کی ترجیح یورپ امریکا اور کینیڈا وغیرہ ہیں ..روس اور چین نہیں

پتا نہیں جمہوریت کو ہمیشہ معاشی خوشحالی سے کیوں جوڑا جاتا ہے …اور ایاز امیر جیسے کالم نویسوں سمیت عوام کو بھی جمہوریت کی بنیادی ابجد سے واقفیت نہیں ہے …جمہوریت کا ایک بلواسطہ فائدہ ضرور ہوسکتا ہے کہ چونکہ ہر جماعت نے پانچ سال بعد الیکشن میں جانا ہوتا ہے اس لیے ڈیلیور کرنا اس جماعت کی ضرورت ہوتی ہے …لیکن جمہوریت میں لازمی نہیں کوئی ڈیلیور کرے ..اگر کوئی لیڈر عوام کو بیوقوف بناکر ..اور صرف نعروں کی بنا پر جیت جاۓ تو شاید ڈیلیور نہ کرسکے مگر جمہوریت تو قصوروار نہیں …الزام تو عوام اپنے آپ کو دیں کہ کیوں ماموں بن گئے اور دھوکہ کھا گئے …جمہوریت میں اپنی اصلاح کا موقع ہوتا ہے ..ایک غلط فیصلہ کرلیا تو پانچ سال بعد الیکشن میں کسی اور کو موقع دیا جاسکتا ہے
پھر ایاز امیر جیسے  لوگوں کا گھسا پٹا فقرہ کہ جمہوریت تو  صرف صنعتی انقلاب کی بائی پروڈکٹ ہے …او بھائی اب پاکستان میں تو صنعتی انقلاب پتا نہیں کتنی صدیوں بعد آئے گا تو اس وقت تک کیا امب چوپے جائیں؟ آمریت سے کام چلایا جاۓ؟ پھر یہ لوگ آئیں بائیں شائیں کرتے ہیں کہ نہیں ہم یہ تو نہیں کہتے کہ پاکستان میں جمہوریت نہیں ہونی چاہیے…سوال یہ ہے کہ جمہوریت کو قبول کرتے وقت …اگر مگر چونکہ چنانچہ البتہ وغیرہ کیوں کرتے ہو؟

موصوف ایک اور جگہ فرماتے ہیں کہ یونین بازی نے پی آئی اے کا بیڑا غرق کردیا حالانکہ ورکرز کے حقوق کے لیے یونینز  ایک بہت اہم کردار ادا کرتی ہیں ورنہ بزنس مالکان زیادہ سے زیادہ منافع کی حرص میں ورکرز کو کچھ بھی نہ دیں …پی آئی اے کے زوال کی ایک بڑی وجہ اس کی نجکاری نہ ہونا ہے یونین بازی نہیں

جہاں تک پنجابیوں کی بات کہ انہوں نے کبھی حکمرانی کی ہی نہیں لہٰذا انہیں کچھ پتا ہی نہیں ….اس پر میں یہ کہنا چاہوں گا کہ بھارت کو ہی دیکھ لیں ..ساری عمر باہر سے لوگ آکر حکمرانی کرتے رہے مگر اب وہ لوگ معاشی میدان اور فوجی میدان میں اپنے جھنڈے گاڑ رہے ہیں ..آخر انہیں حکمرانی کے آداب کیسے آگئے؟ دوسروں کے گھر کے سامنے لگی گھاس ہمیشہ زیادہ ہری  نظر آتی ہے

پاکستانیوں کی نالائقی کی ایک نہیں کئی وجوہات ہیں …دنیا مذہب سے دور جارہی ہے مگر یہ مذہب سے چمٹتے جارہے ہیں …کون سا غیر ملکی ہے جو پاکستان آکر اغوا برائے تاوان کا خطرہ مول لے گا …ہم افغانستان میں اپنی پراکسی حکومت بنانے کے خواب نہیں چھوڑتے جس نے دہشت گردی کی ایسی فضا بنا دی ہے جو کسی بھی بیرونی انویسٹمنٹ کے لیے سازگار نہیں …بھارت سے صلح کرکے ہم اپنے لیے معاشی خوشحالی کا راستہ کھول سکتے ہیں جہاں ہمیں ایک بڑی فوج پالنے کی ضرورت نہیں ..مگر ایسا نہیں کرنا چاہتے ….فوج کے ہاتھوں متعدد بار ڈسے جانے کے باوجود گھوم پھر کر اسی طرف دیکھتے ہیں کہ شاید کوئی مسیحا آجاۓ اور ملک کے سارے دلدر دور کردے …بنیادی ضرورت اپنی ترجیحات کو درست کرنے کی ہے
جمہوریت ملک  میں قومی اتفاق راۓ پیدا کرتی ہے …معاشرے میں ہم آہنگی اور یگانگت کی فضا پیدا کرتی ہے …برداشت پیدا کرتی ہے ..عوام کو ان کے بنیادی حقوق دیتی ہے
جیسے صوبوں میں اختیارات اور مالی معاملات کس خوش اسلوبی سے آئین میں ترامیم کرکے حل کرلیے گئے …گیلانی حکومت میں بلوچوں کو ان کے کچھ حقوق دینے کی کوشش ہوئی اور ان کے تحفظات کا کچھ نہ کچھ ازالہ ہوا ..مگر اب یہ حالت ہے کہ اس موجودہ ملٹری جمہوریت ملک اغوانستان بن چکا ہے بلوچستان ہو یا اسلام
آباد …شہریوں کو سر عام اٹھا لیا جاتا ہے
ایاز امیر جیسے لوگ دل سے آمریت چاہتے ہیں جہاں ایک فوجی آمر سب کو “سیدھا” کردے …یہ لوگ  اشاروں کنایوں میں اس کی آرزو بھی کرتے ہیں ..لیکن جوتے پڑنے کے ڈر سے صاف صاف کہ نہیں سکتے
یاد رکھیں کہ دیر پا تبدیلی صرف وقت سے آتی ہے اور ان جیسے نام نہاد دانشوروں کو  شارٹ کٹ نہیں ڈھونڈنا چاہئے

Navigation

Do NOT follow this link or you will be banned from the site!