عدم برداشت کو برداشت کرنے کا نتیجہ

Home Forums Internationl News عدم برداشت کو برداشت کرنے کا نتیجہ عدم برداشت کو برداشت کرنے کا نتیجہ

#5
Athar
Participant
Offline
  • Professional
  • Threads: 111
  • Posts: 2158
  • Total Posts: 2269
  • Join Date:
    21 Nov, 2016

Re: عدم برداشت کو برداشت کرنے کا نتیجہ

آپ حضرات نے میرے موقف کی تائید ہی کی ہے، تردید نہیں ۔ میری نظر میں اس وقت دو قسم کی قابلِ ذکر تہذیبیں ہیں جو تصادم کے کنار پر ہیں، ان میں سے ایک تہذیب وہ ہے جو صدیوں پرانے فکری ورثے کی مالک ہے، ان کے نزدیک کاغذ کی کتابیں، پتھروں کی عمارتیں (مساجد) ، پرانے زمانوں کے فوتشدگان زندہ انسانوں سے زیادہ اہمیت رکھتے ہیں اور ان کیلئے یہ اپنی جان دینا اور دوسروں کی جان لینا باعثِ فخر جانتے ہیں، آزادی فکر ان کے نزدیک ابلیس کی ایجاد ہے، دوسری قوموں کو تو درکنار، یہ خود ایک دوسرے کو بہت مشکل سے برداشت کرتے ہیں۔

دوسری تہذیب وہ ہے جو انسانی جان کو کسی بھی کاغذ پتھر سے زیادہ مقدم سمجھتے ہیں، جو آزادی فکر پر یقین رکھتے ہیں اور باہم گفت و شنید میں جوتم پیزار ہونا ان کی روایت نہیں ہے، یہ اختلافِ رائے کو بھرپور سپیس دینے کے قائل ہیں۔ میری رائے میں ان دو تہذیبوں سے تعلق رکھنے والے افراد میں بہت زیادہ فرق ہے، ان کی سوچ میں ہزاروں سال کا فاصلہ ہے اور ان کا ایک ساتھ رہنا معاشرتی امن کیلئے تباہ کن ہے۔ یورپی معاشرے چونکہ موخر التہذیب سے تعلق رکھتے ہیں، اس لئے انہوں نے اپنی برداشت کے دامن کو حد سے زیادہ وسعت دے کر ہزاروں سال پرانی تہذیب کے فکری وارثان کو اپنے اندر پناہ دینے کی بھیانک غلطی کی ہے اور اس کا خمیازہ انہیں آنے والے وقت میں مزید بھگتنا ہوگا۔ ٹرمپ نے اس خطرے کو بھانپ لیا تھا اور اس کے ساتھ بہت سے امریکیوں نے بھی فرسودہ تہذیب کے وارثان سے جان چھڑانے کیلئے ٹرمپ کو ووٹ دے کر اپنا نمائندہ منتخب کیا، ٹرمپ فی الحال اپنے معاشرے کی تلخیص کے عمل میں ناکام نظر آتا ہے۔ ۔ سویڈن والے کیس نے بہت سے لوگوں کو جھنجھوڑا ہے اور اب لوگوں کو احساس ہورہا ہے کہ کس قسم کے مذہبی جنونی ان کے درمیان رہ رہے ہیں، ابھی تو اقلیت میں ہیں تو یہ حال ہے، کل کو ان کی تعداد ذرا بڑھ گئی تو یہ ان معاشروں کا کیا حال کریں گے۔

آپ کی یہ ایک مرغ کی ٹانگ میری تحریر کا جواب نہیں

برداشت اور عدم برداشت کی اصل وجہ کو نظر انداز کر کے آپ ادھ ادھوری کہانیاں قصے بیان کر کے فلاسفر کے درجے پر فائز ہونے کی کوشش کرتے رہیں ہو نہیں سکیں گے

عدم برداشت یہ نہیں کہ خود پرتو کوئی مصیبت نازل ہوئی نہیں اور دوسرے کی دستار کو پیروں میں روند کر اُسے عدم برداشت کا طعنہ دیا جائے

مجھے شوق نہیں کہ میں صفحے کالے کرتا رہوں دو ٹوک موقف چند سطروں میں بیان کر دیا اب آپ چاہے جتنے مرضی صفحۓ کالے کرتے رہیں لیکن اصل بات وہی رہے گی کہ جب تک خود پر مصیبت نازل نہ ہوئی ہے خود اُن حالات سے نہ گزرا گیا ہو جیسے حالات دوسروں کے لیئے بنائے گئے ہوں تب تک “برداشت اور عدم برداشت”کا ڈھکوسلہ انصاف کے میعار پرپورا نہیں اتر سکتا۔

Navigation

Do NOT follow this link or you will be banned from the site!