غلیظ الفاظ

Home Forums Non Siasi غلیظ الفاظ غلیظ الفاظ

#25
JMP
Participant
Offline
Thread Starter
  • Professional
  • Threads: 258
  • Posts: 4330
  • Total Posts: 4588
  • Join Date:
    7 Jan, 2017

Re: غلیظ الفاظ

معزز و محترم پیرِ دانشگردی جناب جے ایم پی صاحب دامت برکاتہ العالیہ العظمی چرن چھونے کی اجازت چاہتا ہوں اور امید کرتا ہوں کہ مزاجِ عالی بخیر ہونگے تھریڈ کے ٹاپک کو لے کرایک کشمکش ہے امید ہے بغیر لگی لپٹی رکھے رہنمائی فرمائیں گے اس صحفہ کی پوسٹ نمبر 36 میں ایک پارسا پُھدو نے ذیل کا جملہ تحریر کیا ہے پوچھنا آپ سے یہ تھا کہ لال رنگ کے الفاظ غلیظ کے زمرے مییں آئیں گے یا نہیں؟ دردِ زہ ایک طبی اصطلاح ہے جو حکیم کثرت سے اپنی روز مرہ تشخیص میں یُوز کرتے ہیں لیکن ایک اُسترے والے نے ان الفاظ کو ولگر قرار دیکر میری پوسٹ ڈیلیٹ کر دی ہے جبکہ دوسری طرف ایک لفظ ہے یوتھیا، جو کسی شرپسند تخیلق کار نے یوتھ اور چُوتیا کے آمیزے سے بنایا ہے، اُسی اُسترے والے کو لفظ یوتھیا رس ملائی لگتا ہے اسی طرح فورم کے ایک اور نونی ممبر، اطہر، جن میں بقلم خود نیازی نفرت کوٹ کوٹ کر بھری ہوئی ہے جو بظاہر ادب آداب اور سلام اسلام کے داعی اور ڈیفینڈر بھی ہیں، نے اس لفظ یوتھیا پر مزید گرہ لگاتے ہوئے اپنے لئے لفظ “یوطیا” پسند فرمایا ہے جو بظاہر یوتھیا اور قومِ لوط کی طرف اشارے کے مرکب سے تیار کیا گیا ۔ ۔ ۔۔ اور اپنے اُسترے والے کو اس لفظ میں بھی کبھی کوئی ولگیرٹی نظر نہیں آئی اسلئے اس پر بھی کچھ تبصرہ فرمائیں کہ آخر یہ لوگ اِن دوہرے معیارات سے کیا حاصل کرنا چاہتے ہیں؟؟ اگر تو مقصد فورم کی مقدس گائے عُرف پارسا پھدو کا تحفظ ہے تو یہ اس وقت تک ناممکن ہے جب تک یہ مجھے مستقل بین نہیں کر دیتے :bigsmile: :bigsmile: :bigsmile: JMP

Salman sahib

محترم سلمان صاحب

١) مجھے اردو کی بہت کم سمجھ ہے اور ہر گذرتے دن سے کچھ کچھ سمجھنے لگا ہوں مگر ابھی بھی اردو پر ایک فیصد عبور بھی حاصل نہ کر سکا ہوں . انگریزی سے کوئی خاص شغف نہیں ہے لہٰذا انگریزی بھی مشکل سے سمجھ آتی ہے اور ہندی تو بلکل ہی نہیں. اس پر آپ اتنی مشکل اردو لکھتے ہیں اور اس میں ہندی کے لفظ استعمال کرتے ہیں تو بہت کم کم بات سمجھ پاتا ہوں

٢) آپ کو میرے پاؤں چھونے کی کوئی ضرورت نہیں.. میں اپنے والد، والدہ، استاد یا بزرگوں کا پاؤں تو چھونے میں عار محسوس نہیں کرتا مگر اس کے علاوہ اس عمل کے خلاف ہوں . دوسرا مجھ میں نہ ایسی کوئی فضلیت ہے یا قابلیت کے کوئی میرے پاؤں چھوے . اگر آپ نے یہ بات کسی بھی احترام کے حوالے سے کہی ہے تو بہت شکریہ مگر اس کی نہ ضرورت ہے نہ موقع نہ رواج. ہاں اگر کسی مزاح کے پیراے میں کی ہے تو آپ کے حس مزاح کو پہلے بھی پسند کرتا تھا اور اس بار بھی

٣) لال رنگ کے الفاظ ایک فعل کو ظاہر کرتے ہیں اور یہ فعل گو حقیقت ہے مگر ان الفاظ کا استعمال جس حوالے سے ہوا ہے وہ غلط ہے. تمام فوج کی تمام محترم ماؤں کو اس فعل سے اس گفتگو میں شریک کرنا اور وہ بھی فوج سے اپنی نا پسندگی بلکہ نفرت کے اظہار کے لئے ایک انتہائی نازیبا، تکلیف دہ اور عامیانہ عمل ہے میری نظر میں. میرے خیال میں کوئی بھی شخص اپنی والدہ، بیوی، بہن، بیٹی یا کسی بھی خاتوں رشتےدار کے لئے ایسا لفظ نہ خود کہے گا گا نہ کسی اور سے سننا پسند کرے گا تو خود اس کا استعمال کرنا اور وہ بھی اپنے اختلاف کی وجہ سے میری نظر میں ایک غلیظ کام ہے

٤) جن دوسرے الفاظ کا آپ نے ذکر کیا ہے وہ میرے خیال میں ارود کے الفاظ نہیں ہیں بلکہ اردو کو بگاڑ کر تخلیق کئے گئے ہیں اور یہ حقیقت تو ہو سکتے ہیں مگر ان الفاظ کا کسی اور پر استعمال کرنا اور وہ بھی اپنے سیاسی اختلافت کی بنیاد پر غیر ضروری ہے. کوئی شخص ان الفاظ کا استعمال کر کے اپنی نا پسندگی کا اظہار تو کرسکتا ہے کیونکہ اس پر کوئی قدغن نہیں ہے مگر ایسا کرنا میرے نزدیک بلکل ضروری نہیں ہے. میں اس بات کو کسی پر لاگو نہیں کرسکتا کیونکہ یہ میرے اختیار اور حقوق میں نہیں ہے البتہ میں ایک عمل کر سکتا ہوں کے خود ان الفاظ کا استعمال نہ کروں اور کبھی کبھار اس کوشش میں کامیاب رہتا ہوں اور اکثر نہیں

Navigation

Do NOT follow this link or you will be banned from the site!