سپریم کورٹ نے آرمی چیف کی مدت ملازمت میں توسیع کا نوٹیفیکیشن معطل کر دیا

Home Forums Siasi Video سپریم کورٹ نے آرمی چیف کی مدت ملازمت میں توسیع کا نوٹیفیکیشن معطل کر دیا سپریم کورٹ نے آرمی چیف کی مدت ملازمت میں توسیع کا نوٹیفیکیشن معطل کر دیا

#143
Ghost Protocol
Participant
Offline
  • Professional
  • Threads: 138
  • Posts: 4379
  • Total Posts: 4517
  • Join Date:
    7 Jan, 2017

Re: سپریم کورٹ نے آرمی چیف کی مدت ملازمت میں توسیع کا نوٹیفیکیشن معطل کر دیا

و علیکم السلام محترم جے بھائی جی آپ سے شناسائی ہے تو آپ سے سوال پوچھا ہے کیونکہ آپکی صلاحیتوں کا ہمیشہ سے قائل رہا ہوں لگتا ہے میں اپنا سوال صحیح طریقے سے نہیں پوچھ سکا ہوں. میرا سوال یہ تھا کہ میرے خیال میں آئین اور قانون کی رو سے یہ صرف صدر کا اختیار ہے کہ وہ وزیر اعظم کی ایڈوائس پر آرمی چیف کا انتخاب کرے یا اسے ایکسٹینشن دے. سپریم کورٹ کا کام صرف یہ دیکھنا ہے کہ کیا وزیر اعظم / صدر نے آرمی چیف کا انتخاب آئین اور قانون کے مطابق ہے؟ اگر آئین اور قانون کے مطابق کیا ہے تو ٹھیک ہے اور اگر آئین اور قانون کے مطابق نہیں کیا ہے تو غلط ہے اور اسے ختم کرنا لازم ہے سپریم کورٹ کو آرمی چیف کو چھ ماہ کی ایکسٹینشن دینے کا اختیار کس نے دیا ہے یا سپریم کورٹ کو آرمی چیف کو ایکسٹینشن دینے کا اختیار کونسا آئین اور قانون دیتا ہے؟ کیا سپریم کورٹ نے آرمی چیف کو ایکسٹینشن دے کر اپنے دائرہ اختیار سے تجاوز نہیں کیا ہے؟ آپ نے فرمایا ہے کہ اعلی عدالت نے میرے خیال میں اپنے حدود سے تجاوز نہیں کیا ہے کیونکہ میرے خیال میں عدالت کے پاس حق ہے کے وہ ماضی کی مثالوں کو مد نظر رکھ کر ، اور قانون میں کسی قسم کی کمی کو پورا کرنے کے لئے کوئی راہ تجویز کرے کیا یہ سپریم کورٹ کی کھلم کھلا منافقت نہیں ہے کہ ایک قانون میں مدت کا ذکر نہ ہونے کی وجہ سے ایک تین بار کے منتخب وزیر اعظم کے کیس میں اس مدت کو تا حیات قرار دے دیا گیا جبکہ ایک قانون میں مدت کا ذکر نہ ہونے کی وجہ سے ایک آرمی چیف کے کیس میں اسے خود سے چھ ماہ کی ایکسٹینشن دے کر معاملہ پارلیمنٹ کو مدت کا تعین کرنے کیلیے بھیج دیا گیا؟ ایک سویلین وزیر اعظم اور ایک آرمی چیف کیلیے الگ الگ انصاف کے پیمانے کیوں؟ کیا نواز شریف کی تا حیات نا اہلی کیس میں نا اہلی کی مدت کا تعین کرنے کیلیے پارلیمنٹ کو کیس بھیجنا ضروری نہیں تھا؟ اب میں اس عدلیہ کو فوجیوں کی لونڈی کہوں یا نہ کہوں؟ ان منافق ججز کو پتہ تھا کہ اگر نواز شریف کا کیس میں مدت کے تعین کیلیے پارلیمنٹ کو بھیجا گیا تو پارلیمنٹ دو تہائی کی اکثریت سے نا اہلی کی مدت چھ ماہ بھی کر سکتی ہے اور اسی خوف سے ان ججز نے خود سے ہی اسے تا حیات نا اہل قرار دے دیا تھا

میرے خیال میں تو چور کمانڈروں کی کانفرنس میں ایک قرار داد منظور ہونی چاہئے کہ افواج کے سپاہی سے سربراہ تک کی تقرری،مدت ملازمت اور اسمیں توسیع اور خدمت گزاری کے عیوض انکے بھتے (پروٹیکشن منی) کی شرح اور اسمیں اضافہ کا اختیار صرف اور صرف افواج کے اختیار میں ہونی چاہئے تاکہ اپنے ہی ہاتھوں لگائے گئے وزیر اعظم اور ججوں کے ہاتھوں اس قسم کی تذلیل سے بچا جائے. اگر فوج یہ رسمی سا اختیار واپس بھی لے لیتی ہے تو کس نے کیا اکھاڑ لینا ہے

Navigation

Do NOT follow this link or you will be banned from the site!