سپریم کورٹ نے آرمی چیف کی مدت ملازمت میں توسیع کا نوٹیفیکیشن معطل کر دیا

Home Forums Siasi Video سپریم کورٹ نے آرمی چیف کی مدت ملازمت میں توسیع کا نوٹیفیکیشن معطل کر دیا سپریم کورٹ نے آرمی چیف کی مدت ملازمت میں توسیع کا نوٹیفیکیشن معطل کر دیا

#142
Bawa
Participant
Offline
  • Expert
  • Threads: 147
  • Posts: 12982
  • Total Posts: 13129
  • Join Date:
    24 Aug, 2016

Re: سپریم کورٹ نے آرمی چیف کی مدت ملازمت میں توسیع کا نوٹیفیکیشن معطل کر دیا

Bawa sahib

محترم باوا صاحب

اسلام علیکم

امید ہے کے آپ خیریت سے ہیں

آپ سے اتنے سالوں کی شناسائی ہے اور آپ اچھی طرح جانتے ہیں کے میں کسی بھی سوال کا کوئی موزوں اور مدلل جواب نہیں دے سکتا پھر بھی آپ اپنا صبر آزما رہے ہیں اور جانتے ہوے بھی کے میں اس امتحان میں ناکام ہو جاؤں گا آپ میرا امتحان لے رہے ہیں

میرے بونگے جواب مندرجہ ذیل ہیں اور ان جوابوں پر میری کافی کھچائی ہو گی

١) اگر قانون ہے ہی نہیں تو نہ تو عدالت اس اقدام کو غلط قرار دے سکتی ہے نہ درست . اگر قانون ہو کے توسیح نہیں دی جاسکتی اور کوئی حکومت بری فوج کے سربراہ کو توسیح دیتی تو خلاف قانون ہوتی. اگر قانون موجود ہی نہیں تو کسی اقدام کو خالف قانون کیسے قرار دیا جا سکتا ہے . میرے خیال میں عدالت نے بحران سے بچنے کے لئے ایک راستہ نکالا ہے اور اس فیصلہ کا سبب ایک قانون کے بننے کی بھی امید بندھ گئی ہے

٢) اعلی عدالت نے میرے خیال میں اپنے حدود سے تجاوز نہیں کیا ہے کیونکہ میرے خیال میں عدالت کے پاس حق ہے کے وہ ماضی کی مثالوں کو مد نظر رکھ کر ، اور قانون میں کسی قسم کی کمی کو پورا کرنے کے لئے کوئی راہ تجویز کرے

٣) میرے خیال میں تمام قوانین ایک وقت میں ہی نہیں بنے ہیں نہ بن سکتے ہیں. جسے جیسے چیزیں تبدیل ہوتی ہیں اور قوانین میں کمی نظر آتی ہے یا نئے واقعات رونما ہوتے ہیں تو قوانین میں اضافہ یا تبدیلی ہوتی رہتی ہےاور اس بار بھی ایسا ہی ہو رہا ہے . پہلے کوئی قانون نہیں تحت لہٰذا ایک قانون کی ضرورت پیش آ گئی یہ نظریہ ضرورت ضرور ہیے مگر اس بار ضرورت ایک قانون کی ہے

٤) ہاں عدالت یہ ضرور کہہ سکتی تھی کے اس بار کوئی توسیح نہیں ہو گی اور قانون بننے کے بعد مستقبل میں کسی اور سربراہ کی توسیح ہو سکتی ہے مگر اس طرح ممکن ہے کہ اداروں اور محکموں میں کوئی کشمکش جاری ہو جاتی اور عدالت ابھی اتنی مضبوط نہیں ہیں کہ اس کشمکش کا مقابلہکر سکے . یہ چھوٹی فتح بھی میرے لئے بہت ہے

٤) عدالت کے اس اقدام سے موجودہ حکومت کی کافی سبکی ہوئی ہے، بری فوج کے سربراہ کے حوالے سے بھی تنقید ہوئی ہے اور میرے خیال میں آیندہ اس قسم کے فیصلے لینے میں مستقبل کی حکومتیں کافی ہچکچائیں گی

اگر عدالت یہ اقدام نہ اٹھاتی تو بہت حد تک ممکن ہے کہ اس توسیح کو قبول کر کے آگے بڑھ جاتے . اگر کوئی تنقید بھی کرتا بھی تو اس حکومت کی مخالفت براۓ مخالفت کی وجہ سے کرتا . عدالت کے اس اقدام تک کسی نے بھی یہ مدعا بیان نہیں کیا تحت کے حکومت نے کس قانون کے تحت یہ فیصلہ کیا ہے. اب جب عدالت نے خود ہی یہ سوال اٹھایا ہے تو بیچاری عدالت پر ہی انگلیاں اٹھنی شروع ہو گئی ہیں.

قطع نظر اس کے کے یہ فیصلہ اپنے حدود کے اندر رہ کر کیا ہے یا حدود سے باہر، اس بار عدالت نے ایک طاقتور محکمہ کے حوالے سے ایک اقدام کیا ہے . میں اپنی عادت کے مطابق اس پر تنقید کرنے والا تھا پھر سوچا کیوں نہ اس کا کوئی مثبت پہلو ڈھونڈنے کی کوشش کروں. میں مانتا ہوں کے میری بات میں دلیل نہیں ہے ، وزن نہیں ہے کوئی قانونی جواز نہیں ہے اور ممکن ہے کے کسی اصول کا ساتھ بھی نہیں ہے مگر پھر بھی کیا حرج ہے کے میں اس بات کو ایک اور زاویہ سے دیکھوں

و علیکم السلام محترم جے بھائی جی

آپ سے شناسائی ہے تو آپ سے سوال پوچھا ہے کیونکہ آپکی صلاحیتوں کا ہمیشہ سے قائل رہا ہوں

لگتا ہے میں اپنا سوال صحیح طریقے سے نہیں پوچھ سکا ہوں. میرا سوال یہ تھا کہ میرے خیال میں آئین اور قانون کی رو سے یہ صرف صدر کا اختیار ہے کہ وہ وزیر اعظم کی ایڈوائس پر آرمی چیف کا انتخاب کرے یا اسے ایکسٹینشن دے. سپریم کورٹ کا کام صرف یہ دیکھنا ہے کہ کیا وزیر اعظم / صدر نے آرمی چیف کا انتخاب آئین اور قانون کے مطابق ہے؟ اگر آئین اور قانون کے مطابق کیا ہے تو ٹھیک ہے اور اگر آئین اور قانون کے مطابق نہیں کیا ہے تو غلط ہے اور اسے ختم کرنا لازم ہے

سپریم کورٹ کو آرمی چیف کو چھ ماہ کی ایکسٹینشن دینے کا اختیار کس نے دیا ہے یا سپریم کورٹ کو آرمی چیف کو ایکسٹینشن دینے کا اختیار کونسا آئین اور قانون دیتا ہے؟

کیا سپریم کورٹ نے آرمی چیف کو ایکسٹینشن دے کر اپنے دائرہ اختیار سے تجاوز نہیں کیا ہے؟

آپ نے فرمایا ہے کہ اعلی عدالت نے میرے خیال میں اپنے حدود سے تجاوز نہیں کیا ہے کیونکہ میرے خیال میں عدالت کے پاس حق ہے کے وہ ماضی کی مثالوں کو مد نظر رکھ کر ، اور قانون میں کسی قسم کی کمی کو پورا کرنے کے لئے کوئی راہ تجویز کرے

کیا یہ سپریم کورٹ کی کھلم کھلا منافقت نہیں ہے کہ ایک قانون میں مدت کا ذکر نہ ہونے کی وجہ سے ایک تین بار کے منتخب وزیر اعظم کے کیس میں اس مدت کو تا حیات قرار دے دیا گیا جبکہ ایک قانون میں مدت کا ذکر نہ ہونے کی وجہ سے ایک آرمی چیف کے کیس میں اسے خود سے چھ ماہ کی ایکسٹینشن دے کر معاملہ پارلیمنٹ کو مدت کا تعین کرنے کیلیے بھیج دیا گیا؟

ایک سویلین وزیر اعظم اور ایک آرمی چیف کیلیے الگ الگ انصاف کے پیمانے کیوں؟ کیا نواز شریف کی تا حیات نا اہلی کیس میں نا اہلی کی مدت کا تعین کرنے کیلیے پارلیمنٹ کو کیس بھیجنا ضروری نہیں تھا؟ اب میں اس عدلیہ کو فوجیوں کی لونڈی کہوں یا نہ کہوں؟

ان منافق ججز کو پتہ تھا کہ اگر نواز شریف کا کیس میں مدت کے تعین کیلیے پارلیمنٹ کو بھیجا گیا تو پارلیمنٹ دو تہائی کی اکثریت سے نا اہلی کی مدت چھ ماہ بھی کر سکتی ہے اور اسی خوف سے ان ججز نے خود سے ہی اسے تا حیات نا اہل قرار دے دیا تھا

Navigation

Do NOT follow this link or you will be banned from the site!