سپریم کورٹ نے آرمی چیف کی مدت ملازمت میں توسیع کا نوٹیفیکیشن معطل کر دیا

Home Forums Siasi Video سپریم کورٹ نے آرمی چیف کی مدت ملازمت میں توسیع کا نوٹیفیکیشن معطل کر دیا سپریم کورٹ نے آرمی چیف کی مدت ملازمت میں توسیع کا نوٹیفیکیشن معطل کر دیا

#140
JMP
Participant
Offline
  • Professional
  • Threads: 230
  • Posts: 4114
  • Total Posts: 4344
  • Join Date:
    7 Jan, 2017

Re: سپریم کورٹ نے آرمی چیف کی مدت ملازمت میں توسیع کا نوٹیفیکیشن معطل کر دیا

نمستے محترم جے بھائی جی امید ہے آپ خیریت سے ہیں. آپکو فورم پر دیکھکر پتہ چلتا ہے کہ ویکینڈ شروع ہوگیا ہے لگتا ہے آپ عدالتوں کے مثبت رول کے بارے میں کافی خوش فہمی کا شکار ہیں. کیا آپ سے جنرل باجوہ کی ایکسٹینشن کے کیس کے حوالے سے چند سوال کر سکتا ہوں؟ سنا تھا کہ عدالتیں صرف آئین اور قانون کے مطابق فیصلے کرتی ہیں یا پھر آئین اور قانون کی تشریح کرتی ہیں. سپریم کورٹ نے جنرل باجوہ کو جو چھ ماہ کی ایکٹینشن دی ہے وہ کس آئین اور قانون کی رو سے دی ہے؟ کیا سپریم کورٹ کے پاس (نظریہ ضرورت کے علاوہ) اس کا کوئی اختیار تھا؟ کیا سپریم کورٹ نے آرمی چیف کو ایکسٹینشن دے کر اپنی حدود سے تجاوز نہیں کیا ہے؟

Bawa sahib

محترم باوا صاحب

اسلام علیکم

امید ہے کے آپ خیریت سے ہیں

آپ سے اتنے سالوں کی شناسائی ہے اور آپ اچھی طرح جانتے ہیں کے میں کسی بھی سوال کا کوئی موزوں اور مدلل جواب نہیں دے سکتا پھر بھی آپ اپنا صبر آزما رہے ہیں اور جانتے ہوے بھی کے میں اس امتحان میں ناکام ہو جاؤں گا آپ میرا امتحان لے رہے ہیں

میرے بونگے جواب مندرجہ ذیل ہیں اور ان جوابوں پر میری کافی کھچائی ہو گی

١) اگر قانون ہے ہی نہیں تو نہ تو عدالت اس اقدام کو غلط قرار دے سکتی ہے نہ درست . اگر قانون ہو کے توسیح نہیں دی جاسکتی اور کوئی حکومت بری فوج کے سربراہ کو توسیح دیتی تو خلاف قانون ہوتی. اگر قانون موجود ہی نہیں تو کسی اقدام کو خالف قانون کیسے قرار دیا جا سکتا ہے . میرے خیال میں عدالت نے بحران سے بچنے کے لئے ایک راستہ نکالا ہے اور اس فیصلہ کا سبب ایک قانون کے بننے کی بھی امید بندھ گئی ہے

٢) اعلی عدالت نے میرے خیال میں اپنے حدود سے تجاوز نہیں کیا ہے کیونکہ میرے خیال میں عدالت کے پاس حق ہے کے وہ ماضی کی مثالوں کو مد نظر رکھ کر ، اور قانون میں کسی قسم کی کمی کو پورا کرنے کے لئے کوئی راہ تجویز کرے

٣) میرے خیال میں تمام قوانین ایک وقت میں ہی نہیں بنے ہیں نہ بن سکتے ہیں. جسے جیسے چیزیں تبدیل ہوتی ہیں اور قوانین میں کمی نظر آتی ہے یا نئے واقعات رونما ہوتے ہیں تو قوانین میں اضافہ یا تبدیلی ہوتی رہتی ہےاور اس بار بھی ایسا ہی ہو رہا ہے . پہلے کوئی قانون نہیں تحت لہٰذا ایک قانون کی ضرورت پیش آ گئی یہ نظریہ ضرورت ضرور ہیے مگر اس بار ضرورت ایک قانون کی ہے

٤) ہاں عدالت یہ ضرور کہہ سکتی تھی کے اس بار کوئی توسیح نہیں ہو گی اور قانون بننے کے بعد مستقبل میں کسی اور سربراہ کی توسیح ہو سکتی ہے مگر اس طرح ممکن ہے کہ اداروں اور محکموں میں کوئی کشمکش جاری ہو جاتی اور عدالت ابھی اتنی مضبوط نہیں ہیں کہ اس کشمکش کا مقابلہکر سکے . یہ چھوٹی فتح بھی میرے لئے بہت ہے

٤) عدالت کے اس اقدام سے موجودہ حکومت کی کافی سبکی ہوئی ہے، بری فوج کے سربراہ کے حوالے سے بھی تنقید ہوئی ہے اور میرے خیال میں آیندہ اس قسم کے فیصلے لینے میں مستقبل کی حکومتیں کافی ہچکچائیں گی

اگر عدالت یہ اقدام نہ اٹھاتی تو بہت حد تک ممکن ہے کہ اس توسیح کو قبول کر کے آگے بڑھ جاتے . اگر کوئی تنقید بھی کرتا بھی تو اس حکومت کی مخالفت براۓ مخالفت کی وجہ سے کرتا . عدالت کے اس اقدام تک کسی نے بھی یہ مدعا بیان نہیں کیا تحت کے حکومت نے کس قانون کے تحت یہ فیصلہ کیا ہے. اب جب عدالت نے خود ہی یہ سوال اٹھایا ہے تو بیچاری عدالت پر ہی انگلیاں اٹھنی شروع ہو گئی ہیں.

قطع نظر اس کے کے یہ فیصلہ اپنے حدود کے اندر رہ کر کیا ہے یا حدود سے باہر، اس بار عدالت نے ایک طاقتور محکمہ کے حوالے سے ایک اقدام کیا ہے . میں اپنی عادت کے مطابق اس پر تنقید کرنے والا تھا پھر سوچا کیوں نہ اس کا کوئی مثبت پہلو ڈھونڈنے کی کوشش کروں. میں مانتا ہوں کے میری بات میں دلیل نہیں ہے ، وزن نہیں ہے کوئی قانونی جواز نہیں ہے اور ممکن ہے کے کسی اصول کا ساتھ بھی نہیں ہے مگر پھر بھی کیا حرج ہے کے میں اس بات کو ایک اور زاویہ سے دیکھوں

Navigation

Do NOT follow this link or you will be banned from the site!