بے بس وزیراعظم

Home Forums Siasi Discussion بے بس وزیراعظم بے بس وزیراعظم

#183
shahidabassi
Participant
Offline
  • Expert
  • Threads: 31
  • Posts: 7133
  • Total Posts: 7164
  • Join Date:
    5 Apr, 2017

Re: بے بس وزیراعظم

شاھد عباسی صاحب نونیوں کو بھنگڑے ڈالنے کا موقع بھی تو عمران خان نے خود ہی فراہم کیا ہے …نہ ضمانتی بانڈ والی شرط لگاتا اور نہ ہی اس کا بینڈ باجا بجتا ….نواز شریف رن آوٹ ہوتا ہوتا …ایک فل ٹاس پر چوکا لگا گیا آپ چونکہ اس فورم پر فوجی اسٹیبلشمنٹ کی ترجمانی کے فرائض سر انجام دیتے ہیں …آپ کچھ تبصرہ کرنا پسند فرمائیں گے؟ یہاں دو ہی امکانات لگتے ہیں ایک …فوج عمران کی اپوزیشن لیڈران کی پکڑ دھکڑ سے تنگ آئی ہی تھی …نواز شریف سے ڈیل کرکے..اسے باہر بھجوا کر اب شاید کچھ استحکام آئے اور فوج کو معیشت اور دیگر امور وغیر پر توجہ دینے کا موقع ملے دو ..فوج کو احساس ہوگیا ہے کہ عمران پر امیدیں لگانا فضول ہے …اس کا بوریا بستر سمیٹا جاۓ ..اور شہباز شریف کی درخواست قبول کرکے اسے بوٹ پالش کرنے کا موقع دیا جاۓ …یوں مریم اور نواز مائنس ہو جائیں گے اور پارٹی کنٹرول شہباز کے ہاتھوں میں آجاۓ گا …دونوں عمران اور شہباز ایک سے بڑھ کر ایک بوٹ چاٹییے ہیں …آیندہ کی پروموشنز ہوں ..افغان امور ہوں یا بھارت سے تعلقات ..شہباز کا ان سے کوئی لینا دینا نہیں ہوگا …شہباز کی صورت میں انہیں عمران کے جیسی ایک اور کٹھ پتلی مل جاۓ گی جس کا بازو مروڑ کر کوئی بھی کام کروایا جاسکے گا آپ کیا کہتے ہیں؟

قرار صاحب، میں تو فوج کی نمائندگی نہی کرتا لیکن مجھے افسوس ہے کہ آپ کی شریف مارکہ جمہوریت سرِبازار لٹ گئی اور آپ کی امیدوں کے محور ووٹ کی عزت کو جی ایچ کیو کی دہلیز پر گروی رکھ کر ایک بار پھر پیا گھر سدھار گئے اور مریم بی بی نے اسٹیبلشمنٹ کے تسموں سے اپنی زبان پر گانٹھ لگا کر اس ڈیل پر اپنی شمولیت کی مہر بھی ثبت کر دی۔ آپ صرف شہباز شریف کو بوٹ پالشیا گردان کر نواز اور مریم کو کسی اور جگہ پارک کرنے کی صد کوشش کر لیں لیکن ہر ذی شعور جانتا ہے کہ آوے کا آوہ ہی اس ڈیل پر راضی اور اس کا حصہ ہے۔ یہ آپ جیسے ان سارے جمہور پسندوں کے لئے ایک سبق ہے جو ہر نونی حکومت کے آخری سالوں میں میاں نواز شریف کو سپہ سالارِ جمہوریت گردان کر اس کے ہاتھ پر بیت کر لیتے ہیں۔

۔
فوج کا بیوروکریسی، سیاست دانوں کی اکثریت، عدلیہ اور میڈیا پر مکمل کنٹرول کسی بھی سیاست دان کو دو آپشن ہی دیتا ہے کہ وہ سر نگوں کر کے اپنی باری پر بوٹ چاٹ حکومت سجائے اور باری آنے تک اسی کھیل کا مہرہ بنا رہے یا پھر مولوی کفایت یا رانا ثناالللہ کی طرح جوتے کھائے اور جیل کاٹے۔ تیسرا آپشن صرف باہر بیٹھ کر طوطا مینا کی کہانی الاپنے میں ہے جو آپ کر رہے ہیں لیکن اس سے کسی کو سروکار نہی ہے۔ میں پاکستان میں بیٹھا ہوں اور لگتا یہی ہےکہ لوگوں کو عمران اور نواز پر غصہ تو ہے لیکن فوج پر نہی، یا دوسرے لفظوں میں فوج کا رول انڈر ڈسکشن ہی نہی ہے۔ کسی سیاستدان یا ملک میں بیٹھے جرنلسٹ میں ہمت نہی کہ ان کا نام بھی لے سکے۔ جو جوتے کھا کر باہر نکلتا ہے اتنی ہی زیادہ فوج کی تعریفیں کرتا ہے۔ آپ کو یہ لفظ اچھا نہی لگتا لیکن واقعی سچوایشن کانسٹینٹ ہے اور مستقنل قریب میں بدلتی نظر نہی آتی۔ جو لوگ سوشل میڈیا سے تحریک نکلنے کی آس لگائے بیٹھے تھے ان کے لئے بھی یہ خبر ہے کہ آئی ایس پی آر سوشل میڈیا پر دس کے مقابلے نوے فیصد سے آگے ہے۔

۔
رہے آپ کے دو آپشن تو میرے خیال میں یہ دونوں ہی سہی ہیں۔ پہلا فوری اور دوسرا مستقبل کے لئے۔ نواز شریف کے ہارٹ پیشنٹ ہونے بارے کوئی دو رائے نہی اور فوج اسے رکھ کر کسی حادثے کی صورت الزام لینے کو تیار نہی تھی اور اکانومی کی بہتری کے لئے روز روز کی کھچ کھچ سے بھی چھٹکارہ چاہتی تھی۔ جب کہ انہیں ریزرو گھوڑا بھی تیار رکھنا ہے۔ شہباز مستقبل قریب میں پنجاب میں وزیراعلی بنے یا اگلی دفعہ کا وزیراعظم جو کچھ بھی بننا ہے اسے ہی بننا ہے۔ پنجاب کے لئے موجودہ حکومت کو وارننگ مل چکی ہے اور بڑے پیمانے پر ردوبدل بھی جاری ہے لیکن بشری بیبی ے استغارے سے ہٹ کر بزدار کی چھٹی انہیں منظور نہی۔ اب دیکھو بزدار چھا جاتا ہے یا شہباز۔

Navigation

Do NOT follow this link or you will be banned from the site!