Altaf Hussain Rocks!!!!

Home Forums Siasi Discussion Altaf Hussain Rocks!!!! Altaf Hussain Rocks!!!!

#21
Shirazi
Participant
Offline
Thread Starter
  • Professional
  • Threads: 169
  • Posts: 2197
  • Total Posts: 2366
  • Join Date:
    6 Jan, 2017

Re: Altaf Hussain Rocks!!!!

کہتے ہیں پرتگالی،فرنچ اور ایسٹ انڈیا کمپنی والے اسی لئے ہندوستان پر قبضہ کرنے آئے کہ یہاں موجود قدرتی وسائل اور زرعی زمینوں نے انکو اپنی طرف متوجہ کیا۔پھر اسی غیر زمین کیلئے پرتگالیوں اور فرنچ اور بعد میں فرنچ اور انگریزوں کی جنگیں بھی ہوئیں۔مگر اس زمین کےباسی ہاری ہی رھے۔
تخلیق پاکستان کےبعدہی سیاستدانوں پرکرپشن کےالزامات عائدہوناشروع ہوئے۔انکے خلاف انکوائری کمیشن بنے۔اس
کا آغازقائداعظم نے26اپریل1948کوسندھ حکومت کوختم کرکےکیا۔سندھ کےوزیراعلی ایوب کھوڑو کیخلاف مقدمہ چلانےکیلئےخصوصی عدالت بنائی گئ۔یہ15مئی1948کی بات ہے۔قائدنے بھی احتساب ہی کیا۔
جیسےہندکی زرعی زمینوں نےہرطاقتورکواپنی طرف متوجہ کیا۔بالکل اسی طرح اسکے محافظوں نےاس سےخوب حصہ وصول کیا۔1955میں کوٹری بیراج کی تکمیل کےبعدگورنرجنرل غلام محمدنےآبپاشی سکیم شروع کی۔اس سےفائدہ عسکری اورسول افسران نےاٹھایا۔جبکہ حقیقت میں یہ زمین مقامی افرادمیں تقسیم ہوناتھی۔
کوٹری بیراج کی زمین مقامی چارلاکھ کاشتکاروں میں تقسیم ہونی تھی۔مگرایسانہ ہوا۔یہ زمین عسکری اورسول افسران میں بانٹ دی گئی۔کچھ تفصیل:
1:جنرل ایوب خان۔۔500ایکڑ
2:کرنل ضیااللّہ۔۔500ایکڑ
3:کرنل نورالہی۔۔500ایکڑ
4:کرنل اخترحفیظ۔۔500ایکڑ
5:کیپٹن فیروزخان۔۔243ایکڑ
6:میجرعامر۔۔243ایکڑ
7:میجرایوب احمد۔۔500ایکڑ
8:صبح صادق۔۔400ایکڑ
صبح صادق چیف سیکرٹری بھی رھے۔1962میں دریائےسندھ پرکشمورکےقریب گدوبیراج کی تعمیرمکمل ہوئی۔اس سےسیراب ہونےوالی زمینیں جن کاریٹ اسوقت5000-10000روپےایکڑ تھا۔عسکری حکام نےصرف500روپےایکڑکےحساب سےخریدا۔یہ مقامی افرادکیساتھ ظلم تھا۔
گدوبیراج کی زمین تھی من پسند افسران میں بانٹ دی گئی۔اسکی کچھ تفصیل یوں ہے:
1:جنرل ایوب خان۔۔247ایکڑ
2:جنرل موسی خان۔۔250ایکڑ
3:جنرل امراؤ خان۔۔246ایکڑ
4:برئگیڈئر سید انور۔۔246ایکڑ
اسکے علاوہ دیگر کئ افسران کوبھی اس متاع بےبہا سے نوازا گیا۔
ایوب خان کےعہدمیں مختلف سخصیات کومختلف بیراجوں پرزمین الاٹ کی گئی۔انکی تفصیل یوں ہے:
1:ملک خدا بخش بچہ وزیر زراعت۔۔158ایکڑ
2:خان غلام سرور خان،سابق وزیرمال۔۔240ایکڑ
3:جنرل حبیب اللّہ وزیرداخلہ۔۔240ایکڑ
4:این-ایم-عقیلی وزیرخزانہ۔۔249ایکڑ
5:بیگم عقیلی۔۔251ایکڑ
6:اخترحسین گورنر مغربی پاکستان۔۔150ایکڑ
7:ایم-ایم-احمد مشیراقتصادیات۔۔150ایکڑ
8:سیدحسن ڈپٹی چیرمین پلاننگ۔۔150ایکڑ
9:نوراللّہ ریلوے انجیئر۔۔150ایکڑ
10:این-اے-قریشی چیرمین ریلوے بورڈ۔۔150ایکڑ
11:امیرمحمد خان سیکرٹری صحت۔۔238ایکڑ
12:ایس-ایم-شریف سیکرٹری تعلیم۔۔239ایکڑ
جن جنرلوں کوزمین الاٹ ہوئی۔انکی تفصیل یوں ہے:
1:جنرل کے-ایم-شیخ۔۔150ایکڑ
2:میجر جنرل اکبرخان۔۔240ایکڑ
3:برئگیڈیر ایف-آر-کلو۔۔240ایکڑ
4:جنرل گل حسن خان۔۔150ایکڑ
گوھر ایوب کےسسرجنرل حبیب اللّہ کوہربیراج پروسیع قطعۂ اراضی الاٹ ہوا۔جنرل حبیب اللّہ گندھاراکرپشن سکینڈل کےاہم کردارتھے۔
جنرل ایوب نےجن ججزکوزمین الاٹ کی۔انکی تفصیل کچھ یوں ہے:
1:جسٹس ایس-اے-رحمان 150ایکڑ
2:جسٹس انعام اللّہ خان۔۔240ایکڑ
3:جسٹس محمد داؤد۔۔240ایکڑ
4:جسٹس فیض اللّہ خان۔۔240ایکڑ
5:جسٹس محمد منیر۔۔150ایکڑ
جسٹس منیرکواٹھارہ ہزاری بیراج پربھی زمین الاٹ کی گئی۔اسکےعلاوہ ان پرنوازشات رھیں۔
ایوب خان نےجن پولیس افسران میں زمینیں تقسیم کیں۔انکی کچھ تفصیل یوں ہے:
1:ملک عطامحمدخان ڈی-آئی-جی 150ایکڑ
2:نجف خان ڈی-آئی-جی۔۔240ایکڑ
3:اللّہ نوازترین۔۔240ایکڑ
نجف خان لیاقت علی قتل کیس کےکردارتھے۔قاتل سیداکبرکوگولی انہوں نےماری تھی۔اللّہ نوازفاطمہ جناح قتل کیس کی تفتیش کرتےرھے۔
1942میں سندھ میں انگریز سرکار کے خلاف ایک بغاوت شروع کی۔جس کاآغازحروں نےکیا۔حروں نےمکھی کےجنگلات کو اپنامرکزبنایا۔تقسیم پاکستان کےبعد1952میں فوج نےحروں کو وہاں سے نکال کربنجرعلاقوں میں آبادکیا۔جس پرحروں نےاحتجاج کیا۔جی-ایم-سیداور دیگر راہنماؤں نےحروں کاساتھ دیاتھا۔
1982میں حکومت پاکستان نےکیٹل فارمنگ سکیم شروع کی۔اسکا مقصدچھوٹےکاشتکاروں کوبھیڑبریاں پالنےکیلئےزمین الاٹ کرنی تھی۔مگراس سکیم میں گورنرسندھ جنرل صادق عباسی نےسندھ کےجنگلات کی قیمتی زمین 240روپےایکڑکےحساب سےمفت بانٹی۔اس عرصےمیں فوج نےکوٹری،سیھون،ٹھٹھہ،مکلی میں25لاکھایکڑزمین خریدی۔
1993میں حکومت نےبہاولپور میں 33866ایکڑزمین فوج کےحوالےکی۔جون2015میں حکومت سندھ نےجنگلات کی9600ایکڑ قیمتی زمین فوج کےحوالےکی۔24جون2009کوریونیوبورڈ پنجاب کی رپورٹ کےمطابق 62% لیزکی زمین صرف 56 اعلی عسکری افسران میں بانٹی گئی۔جبکہ انکاحصہ صرف10% تھا۔شایدیہ خبرکہیں شائع نہیں ہوئی۔
2003میں تحصیل صادق آباد کےعلاقےنوازآباد کی2500ایکڑزمین فوج کےحوالےکی گئی۔یہ زمین مقامی مالکان کی مرضی کےبغیردی گئی۔جس پرسپریم کورٹ میں مقدمہ بھی ہوا۔اسی طرح پاک نیوی نےکیماڑی ٹاؤن میں واقع مبارک گاؤں کی زمین پرٹریننگ کیمپ کےنام پرحاصل کی۔اس کاکیس چلتارہا۔اب یہ نیول کینٹ کاحصہ ہے۔
2003میں اوکاڑافارم کیس شروع ہوا۔اوکاڑافارم کی16627ایکڑزمین حکومت پنجاب کی ملکیت تھی۔یہ لیزکی جگہ تھی۔1947میں لیزختم ہوئی۔حکومت پنجاب نےاسےکاشتکاروں میں زرعی مقاصدسےتقسیم کیا۔2003میں اس پرفوج نےاپناحق ظاھرکیا۔اسوقت کےڈی۔جیISPRشوکت سلطان کےبقول فوج اپنی ضروریات کیلئےجگہ لےسکتی ہے۔
2003میں سینٹ میں رپورٹ پیش کی گئی۔جسکےمطابق فوج ملک27ہاؤسنگ سکیمزچلارہی ہے۔اسی عرصےمیں16ایکڑکے130پلاٹ افسران میں تقسیم کئےگئے۔فوج کےپاس زمین کی تفصیل:
لاھور۔۔12ہزارایکڑ
کراچی۔۔12ہزارایکڑ
اٹک۔۔3000ایکڑ
ٹیکسلا۔۔2500ایکڑ
پشاور۔۔4000ایکڑ
کوئٹہ۔۔2500ایکڑ
اسکی قیمت 300بلین روپےہے۔
2009میں قومی اسمبلی میں یہ انکشاف ہوابہاولپورمیں سرحدی علاقےکی زمین380روپےایکڑکےحساب سےجنرلزمیں تقسیم کی گئی۔جنرل سےلیکرکرنل صاحبان تک کل100افسران تھے۔چندنام یہ ہیں:
پرویزمشرف،جنرل زبیر،جنرل ارشادحسین،جنرل ضرار،جنرل زوالفقارعلی،جنرل سلیم حیدر،جنرل خالدمقبول،ایڈمرل منصورالحق۔
مختلف اعدادوشمارکےمطابق فوج کےپاس ایک کروڑبیس لاکھ ایکڑزمین ہے۔جوملک کےکل رقبےکا12%ہے۔سترلاکھ ایکڑکی قیمت700ارب روپےہے۔ایک لاکھ ایکڑکمرشل مقاصدکیلئےاستعمال ہورہی ہے۔جسکو کئی ادارےجن میں فوجی فاؤنڈیشن،بحریہ فاؤنڈیشن،آرمی ویلفیئرٹرسٹ استعمال کررھےہیں

Navigation

Do NOT follow this link or you will be banned from the site!