کک باکسر سے سنجیدہ مکالمہ

Home Forums Hyde Park / گوشہ لفنگاں کک باکسر سے سنجیدہ مکالمہ کک باکسر سے سنجیدہ مکالمہ

#209
shahidabassi
Participant
Offline
  • Expert
  • Threads: 31
  • Posts: 6898
  • Total Posts: 6929
  • Join Date:
    5 Apr, 2017

Re: کک باکسر سے سنجیدہ مکالمہ

شاہد بھاہی ترقی کے دو ماڈل ہیں جن پر چل کر دور جدید میں ملکوں نے ترقی کی ہے – ایک ترقی یافتہ ملکوں کا ماڈل ہے جس کے تحت چین ، جاپان اور کوریا وغیرہ نے ترقی کی ہے اور دوسرا ترقی پذیر ملکوں کا ماڈل ہے جس کے تحت انڈیا نے ترقی کی ہےدیکھتے ہیں دونوں ماڈلوں میں کیا فرق ہے اور پاکستان اب کس ماڈل پر چل رہا ہے – پہلا ترقی یافتہ ملکوں کا ماڈل ہے جس میں انہوں نے اپنی ایکسپورٹ بڑھائی اور پوری دنیا کو تیار مال بیچنے لگے وہ سستا خام مال غریب ملکوں سے خرید کر انہی کو مہنگا تیار مال بیچتے ہیں جدید دور میں اس اس ماڈل میں تھوڑی سے تبدیلی یہ آئی ہے کہ پہلے مشینیں بھی یہ بنا کر بیچتے تھے مگر یہ اب تھوڑی کم ہو گئی ہیں کیوں کہ وہ ملک خود بنانے لگے ہیں اور ان کی جگہ ٹیکنالوجی ہے جیسے فون، کمپوٹر اور بلکل نئے سافٹ ویئر بنانا ( سافٹ ویئر ڈویلپمنٹ الگ چیز ہے اسے اس کے ساتھ مکس نہ کیا جائے )- دوسرا ماڈل یہ ہے کہ اپنی آبادی ، امن و امان ، ترقی کا پوٹنشل وغیرہ دنیا کو دکھا کر اپنے ملک میں بیرونی دنیا سے خوب انویسٹمنٹ سمیٹی جاۓ ، جب انویسٹمنٹ آتی ہے تو ایکسپورٹ بھی بڑھتی ہے لیکن بنیادی نقطہ دنیا سے انویسٹمنٹ لینا ہے ملک میں ترقی کا پوٹینشل دکھانے کے لئے خوب بیرونی قرضے بھی لئے جاتے ہیں تا کہ جی ڈی پی اور دوسرے مہاشی نمبر دنیا کو متاثر کن لگیں اس میں تھوڑی دو نمبری کر کہ نمبر تھوڑے بڑھا چڑھا کر بھی پیش کئے جاتے ہیں جیسے مودی پر الزام ہے کہ اس کے دکھاۓ گئے نمبر مبالغہ آرائی ہے مگر مقصد دنیا کو متاثر کرنا ہوتا ہے کہ ان کے سرمایے کو یہاں بہت منافع لگے گا قرض چڑھتے رہتے ہیں مگر کبھی نہ کبھی اتر جاییں گے کیونکے مجموہی ترقی ہو رہی ہے یہ ہے وہ ماڈل جس پر اسحاق ڈار چل رہا تھا اور پاکستان کی ترقی کی دنیا تحریف کر رہی تھی اور عالمی ادارے بھی دھڑا دھڑ قرض دے رہے تھے کیونکے انہیں لگ رہا تھا پاکستان چکا دے گا – موجودہ گوورنمنٹ اس میں سے سے کسی بھی ماڈل پر نہیں چل رہی – وہ ڈائریکٹ ٹیکس لگا کر غریب کا خون چوس رہی ہے تا کہ نئے قرضے صرف پرانے قرض کی واپسی کے لئے استعمال ہوں اور عوام کا چوسا ہوا خون بجٹ خسارے میں استعمال ہو اس میں ملک ترقی کرے نہ کرے کبھی نہ کبھی قرض بھی اتر جاییں گے اور ملک بھی خود کفیل ہو جائےگا مگر کیا عوام اتنا لمبا عرصہ یہ سب برداشت کر سکیں گے کیونکے مہنگائی اب ان سے دو وقت کی روٹی بھی چھین رہی ہے – blacksheep

چلو ٹھیک ہے اگر اسحاق ڈار کا کیا آپ کو ترقی کا ایک ماڈل لگتا ہے تو مجھے صرف ایک سوال کا جواب دے دیں۔
بلفرض موجودہ حکومت بھی اسحاق ڈار والا ہی کام کرتی ہے۔ اور جو ٹرینڈز تھے انہیں چلتے رہنے دیتی تو ان پانچ سال میں ۱۵۶ ارب ڈالر کا قرضہ کہاں سے لینا تھا اور اس سے اگلے پانچ سال ۳۰۰ ارب؟ پاکستان کو تو چھ ارب کے لئے انہوں نے ناکوں چنے چبوائے ہیں۔ صرف اسی سوال کا جواب دیجئے گا۔

Navigation