کک باکسر سے سنجیدہ مکالمہ

Home Forums Hyde Park / گوشہ لفنگاں کک باکسر سے سنجیدہ مکالمہ کک باکسر سے سنجیدہ مکالمہ

#203
shahidabassi
Participant
Offline
  • Expert
  • Threads: 31
  • Posts: 6898
  • Total Posts: 6929
  • Join Date:
    5 Apr, 2017

Re: کک باکسر سے سنجیدہ مکالمہ

جیو جی۔۔۔۔۔ سب سے پہلے تو یہ کہوں گا کہ گفتگو جب اعوان اور بلیور جیسے معصوموں سے ہوتی ہے تو پھر بات مختلف ہوتی ہے لیکن جب گفتگو آپ سے ہوتی ہے تو معاملہ ذرا مختلف ہوتی ہے کیونکہ آپ تھوڑا بہت معاشی معاملات کو سمجھتے ہو۔۔۔۔۔ اگر آپ اپنے آپ کو خود معصوموں کے درجہ پر لے جا کر بچگانہ گفتگو کرنا چاہتے ہو تو آپ کی مرضی۔۔۔۔۔ اب بات کرتے ہیں ذرا معاشی صورتحال پر۔۔۔۔۔ پاکستان کے معاشی حالات دو ہزار اٹھارہ میں خراب ہونا شروع نہیں ہوئے بلکہ یہ سلسلہ دو ہزار سترہ سے ہی شروع ہوگیا تھا جب پاکستان کے کرنٹ اکاؤنٹ کا خسارہ بارہ ارب ڈالر پر جانا شروع ہوگیا تھا۔۔۔۔۔ خاقان عباسی حکومت نے ایک سال کسی نہ کسی طریقے سے نکال لیا لیکن جب یہ حکومت آئی تو خسارہ انیس ارب ڈالر پر پہنچ گیا تھا۔۔۔۔۔ یہ سوال پہلے بھی مَیں نے پوچھا تھا کہ کسی نون لیگ کے حامی نے جواب نہیں دیا۔۔۔۔۔ پھر پوچھتا ہوں۔۔۔۔۔ دو ہزار اٹھارہ انیس کے مالی سال میں اگر نون کی حکومت بھی ہوتی تو وہ کیا کرتی کہ اُس سال انیس ارب ڈالرز کا خسارہ اور قرضوں کی اقساط وغیرہ جو مل ملا کر کوئی اٹھائیس انتیس ارب ڈالر بنتے ہیں، کو چکا پاتی۔۔۔۔۔ آپ کو شاید علم ہوگا کہ اسحاق ڈار نے بطور وزیرِ خزانہ اپنے آخری وقتوں میں پانچ پانچ سو ملین ڈالر کے سکوک بونڈز مارکیٹ میں فلوٹ کئے تھے کہ کسی طرح یہ پانچ پانچ سو ملین ڈالر مل جائیں۔۔۔۔۔ اگر نون کی حکومت بھی ہوتی تو اُن کے پاس کون سا ایسا نادر نُسخہ تھا کہ آج معاشی حالات بہتر ہوتے۔۔۔۔۔ دوسرا سوال بھی فورم کے لیگی میڈیا سَیل کے سربراہ جنابِ محمد حفیظ صاحب سے پوچھا تھا کہ اسحاق ڈار نے کتنے بلینز ڈالر، ڈالر کو مصنوعی طور پر نیچے رکھنے کیلئے استعمال کئے تھے۔۔۔۔۔ جواب نہیں آیا اور مجھے پوری اُمید تھی کہ آئے گا بھی نہیں۔۔۔۔۔ اور یہ ڈالرز کیا پاکستان کے اپنے کمائے ہوئے تھے یا قرض کی صورت میں آئے تھے۔۔۔۔۔ ہوسکے تو اِن دو سوالوں کے جواب دے دیجئے گا۔۔۔۔۔ پھر آگے بات کرتے ہیں۔۔۔۔۔ اِس موجودہ حکومت میں سیاسی و دیگر حوالوں سے بہت سی خامیاں ہیں لیکن معاشی معاملات میں اب تک ایسی ڈنڈی نہیں ماری ہے جیسی نون کی حکومت مار کر گئی ہے۔۔۔۔۔ ذرا دیکھو کہ زرداری حکومت ختم ہوتی ہے تو کرنٹ اکاؤنٹ کا خسارہ غالباً پانچ ارب ڈالرز تھا، اور جب نون کی حکومت گئی تو خسارہ انیس ارب ڈالرز۔۔۔۔۔ اور اگر موقع ملے تو پاکستان کے غیر ملکی قرضوں کو بھی دیکھ لینا کہ نون کی حکومت آتے وقت کتنے تھے اور جاتے وقت کتنے تھے۔۔۔۔۔ اِس کے بعد بھی اگر نون کی حمایت اور عمران خان یا فوج کی نفرت میں قوالیاں ہی گانی ہیں تو آپ کی مرضی۔۔۔۔۔ آپ نے ابھی کچھ عرصہ پہلے کچھ ایسا لکھا تھا کہ مجھے شریف خاندان پسند نہیں ہیں۔۔۔۔۔ میرے خیال میں ایسا نہیں ہے، مجھے شریف خاندان سے زیادہ لیگی برے لگتے ہیں کیونکہ جتنی منافقت اور بے شرمی لیگیوں میں پائی جاتی ہے اتنی شاید ہی کسی اور طبقہ میں ہو۔۔۔۔۔ پسِ تحریر۔۔۔۔۔ بجلی کی جہاں تک بات ہے تو پیداوار کے بجائے زیادہ مسئلہ سبسڈی کا ہے۔۔۔۔۔

بلیک شیپ صاحب ۔

جب زرداری گیا تو کرنٹ اکاؤنٹ ڈیفیسٹ اڑھائی ارب ڈالر تھا
اور جب ن لیگ گئی تو ٹرینڈ ۲۴ ارب ڈالر ڈیفیسیٹ کا تھا۔ یعنی جون ۱۹۱۸ تک پورے سال کا ڈیفیسٹ تو ساڑھے انیس ارب تھا لیکن اگر اسی سال کے آخری مہینوں کو دیکھا جائے تو یہ ڈیفیسٹ دو ارب روپئے ماہانہ تھا۔ اسی بارے گورنر سٹیٹ بنک نے کل کہا تھا کہ کرنٹ اکاؤنٹ ڈیفیسٹ جو اس حکومت کے آنے پر دو ارب ڈالر ماہانہ تھا اب وہ ایک ارب ڈالر پر آ گیا ہے۔

Navigation