کک باکسر سے سنجیدہ مکالمہ

Home Forums Hyde Park / گوشہ لفنگاں کک باکسر سے سنجیدہ مکالمہ کک باکسر سے سنجیدہ مکالمہ

#200
Awan
Participant
Offline
  • Professional
  • Threads: 112
  • Posts: 2181
  • Total Posts: 2293
  • Join Date:
    10 Jun, 2017

Re: کک باکسر سے سنجیدہ مکالمہ

موجودہ حکومت نے کوئی نیا ٹیکس نہیں لگایا۔ پاکستان کی خام مال کی امپورٹ بہت کم ہے۔ایکسپورٹس میں ۹۰ فیصد سے زیادہ مقامی خام مال استعمال ہوتا ہے۔ ڈیمانڈ میں کمی وقت کی ضرورت ہے تاکہ امپورٹس کم ہونے کی وجہ سے جو انفلیشن ہے اسے کنٹرول کیا جا سکے۔ شرح سود میں اضافہ بھی اسی سلسلے کی ایک کڑی ہے۔حکومت چاہتی ہے کہ لوگ خرچ کرنے کی بجائے سیونگز کریں تاکہ امپورٹس میں کمی کی وجہ سے جو رسد میں کمی آئی ہے اتنی ہی طلب میں بھی کمی آئے اور مہنگائی رک جائے۔ اس میں خاطر خواہ کامیابی ہوئی ہے۔ اور صرف ایک سال میں بنکوں میں ڈپازٹس ایک ہزار ارب بڑھ گئے ہیں جو آج تک پہلے کبھی نہی ہوا تھا۔ . ایکسپورٹس میں مقدار کے حساب سے ۲۵ فیصد اضافہ ہوا ہے ویلیو کے حساب سے ابھی تھوڑا ہوا ہے اور مزید جلد آنا شروع ہو جائے گا۔ رواں مالی سال کے آخر تک ایکسپورٹس ۲۶ ارب اور اگلے سال تیس ارب ڈالر کی ہو جانے کا امکان ہے۔ مہنگائی کم ہونا شروع ہو گئی ہے۔ ساڑھے نو فیصد سے انفلیشن ساڑھے آٹھ فیصد پر آگیا ہے جبکہ کور انفلیشن سوا سات فیصد ہے۔ . عوام ن لیگ کی مالی اور معاشی پالیسیوں کی قیمت ادا کر رہی ہے لیکن نونی عوام ابھی تک اسے سمجھنے سے قاصر ہے۔ پاکستان بنکرپٹسی کو چھو کر واپس آیا ہے اور حکومت کے ان تکلیف دہ اقدام کے باوجود ن لیگ کے پانچ سال عوام کو اگلے دس سال تک بھگتنے پڑیں گے۔ آئی ایم ایف کی رپورٹ کے مطابق، ان سارے اقدامات کے باوجود پاکستان کو اگلے پانچ سال میں ۷۵ ارب ڈالر کے قرضوں کی ضرورت ہے (اگر یہ اقدامات نہ کئے جاتے تو تخمینہ ۱۵۶ ارب ڈالرز تھا) ۔ آپ کا مسئلہ یہ ہے کہ مہنگائی ہوگئی مہنگائی ہو گئی کی رٹ تو لگا رکھی ہے لیکن اصل صورتِ حال کا ادراک نہیں ہے۔ یہ بلکل سمجھ نہیں آتی کہ یہ ۱۵۶ ڈالرز ارب قرضوں کی ضرورت اس حکومت کو ورثے میں ملی تھی۔ اور یہ بھی سمجھ نہی آتا کہ جب ۶ ارب ڈالرز کے لئے ماتھے رگڑنے پڑتے ہیں تو ۱۵۶ ڈالرز ارب کہاں سے آتے۔ اور اگر آ بھی جاتے تو اس سے اگلے پانچ سال میں ۳۰۰ ڈالرز ارب کہاں سے آتے۔ کیا ڈیفالٹ کرنا اور بنکرپٹ ہونا منظور ہے یا نو فیصد مہنگائی؟ عجیب سی بات ہے کہ نونیوں کو یا تو سمجھ نہی آتی یا شرم نہی آتی (خیرآپ کو تو سمجھ نہی آتی )۔

شاہد بھاہی ترقی کے دو ماڈل ہیں جن پر چل کر دور جدید میں ملکوں نے ترقی کی ہے – ایک ترقی یافتہ ملکوں کا ماڈل ہے جس کے تحت چین ، جاپان اور کوریا وغیرہ نے ترقی کی ہے اور دوسرا ترقی پذیر ملکوں کا ماڈل ہے جس کے تحت انڈیا نے ترقی کی ہےدیکھتے ہیں دونوں ماڈلوں میں کیا فرق ہے اور پاکستان اب کس ماڈل پر چل رہا ہے – پہلا ترقی یافتہ ملکوں کا ماڈل ہے جس میں انہوں نے اپنی ایکسپورٹ بڑھائی اور پوری دنیا کو تیار مال بیچنے لگے وہ سستا خام مال غریب ملکوں سے خرید کر انہی کو مہنگا تیار مال بیچتے ہیں جدید دور میں اس اس ماڈل میں تھوڑی سے تبدیلی یہ آئی ہے کہ پہلے مشینیں بھی یہ بنا کر بیچتے تھے مگر یہ اب تھوڑی کم ہو گئی ہیں کیوں کہ وہ ملک خود بنانے لگے ہیں اور ان کی جگہ ٹیکنالوجی ہے جیسے فون، کمپوٹر اور بلکل نئے سافٹ ویئر بنانا ( سافٹ ویئر ڈویلپمنٹ الگ چیز ہے اسے اس کے ساتھ مکس نہ کیا جائے )- دوسرا ماڈل یہ ہے کہ اپنی آبادی ، امن و امان ، ترقی کا پوٹنشل وغیرہ دنیا کو دکھا کر اپنے ملک میں بیرونی دنیا سے خوب انویسٹمنٹ سمیٹی جاۓ ، جب انویسٹمنٹ آتی ہے تو ایکسپورٹ بھی بڑھتی ہے لیکن بنیادی نقطہ دنیا سے انویسٹمنٹ لینا ہے ملک میں ترقی کا پوٹینشل دکھانے کے لئے  خوب بیرونی قرضے بھی لئے جاتے ہیں تا کہ جی ڈی پی اور دوسرے مہاشی نمبر دنیا کو متاثر کن لگیں اس میں تھوڑی دو نمبری کر کہ نمبر تھوڑے بڑھا چڑھا کر بھی پیش کئے جاتے ہیں جیسے مودی پر الزام ہے کہ اس کے دکھاۓ گئے نمبر مبالغہ آرائی ہے مگر مقصد دنیا کو متاثر کرنا ہوتا ہے کہ ان کے سرمایے کو یہاں بہت منافع لگے گا قرض چڑھتے رہتے ہیں مگر کبھی نہ کبھی اتر جاییں گے کیونکے مجموہی ترقی ہو رہی ہے یہ ہے وہ ماڈل جس پر اسحاق ڈار چل رہا تھا اور پاکستان کی ترقی کی دنیا تحریف کر رہی تھی اور عالمی ادارے بھی دھڑا دھڑ قرض دے رہے تھے کیونکے انہیں لگ رہا تھا پاکستان چکا دے گا – موجودہ گوورنمنٹ اس میں سے سے کسی بھی ماڈل پر نہیں چل رہی – وہ ڈائریکٹ ٹیکس لگا کر غریب کا خون چوس رہی ہے تا کہ نئے قرضے صرف پرانے قرض کی واپسی کے لئے استعمال ہوں اور عوام کا چوسا ہوا خون بجٹ خسارے میں استعمال ہو اس میں ملک ترقی کرے نہ کرے کبھی نہ کبھی قرض بھی اتر جاییں گے اور ملک بھی خود کفیل ہو جائےگا مگر کیا عوام اتنا لمبا عرصہ یہ سب برداشت کر سکیں گے کیونکے مہنگائی اب ان سے دو وقت کی روٹی بھی چھین رہی ہے –

BlackSheep

  • This reply was modified 1 week ago by  Awan.

Navigation