کک باکسر سے سنجیدہ مکالمہ

Home Forums Hyde Park / گوشہ لفنگاں کک باکسر سے سنجیدہ مکالمہ کک باکسر سے سنجیدہ مکالمہ

#190
shahidabassi
Participant
Offline
  • Expert
  • Threads: 31
  • Posts: 6898
  • Total Posts: 6929
  • Join Date:
    5 Apr, 2017

Re: کک باکسر سے سنجیدہ مکالمہ

ھ

اگر صرف ٹریڈ بیلنس ہی مسلہ تھا تو امپورٹ ڈیوٹی کو چار گنا بڑھا دیتے ایک سال کے لئے ہر غیر ضروری امپورٹ بین کر دیتے

یہ ڈالر کو چالیس فیصد نیچے لے جانے کی کیا ضرورت تھی – کتنی ایکسپورٹ بڑھی ہیں ابھی تک اور کتنا قرضہ.پاکستان جا کر دیکھ .ے

امید ہے آئیندہ شائستہ روئیے کا جواب بھی شائستگی ہی سے دیں گے۔ اسی امید سے جواب دینے کی جسارت کر رہا ہوں۔
۔۔۔
امپورٹ ڈیوٹیز چار گنا کرنا نا ممکن ہے۔ آپ کسی چیز پر امپورٹ ڈیوٹی کو بیس سے اسی فیصد کریں گے تو سب سے پہلے تو آپ کے ٹریڈ پارٹنر ممالک آپ کی اشیاء پر بھی اسی حساب سے امپورٹ ڈیوٹیز لگا دیں گے اور ایکسپورٹ بائیس ارب سے دس ارب پر آجائے گی۔ ایسا نہ کر سکنے کی دوسری وجہ ڈبلیو ٹی او کی لمیٹیشنز ہیں۔ تیسری وجہ یہ کہ آپ روپئے کو مصنوعی طور پر اوور ویلیوڈ رکھنے کے لئے اگلے پانچ سال میں ۲۰ سے ۲۵ ارب ڈالر کی مارکیٹ میں ترسیل ضروری ہوتی جس کی کہ اب پاکستان میں سکت نہی ہے۔ پاکستانی معیشت کو سٹرکچل چینجز کی اشد ضرورت تھی اس کے علاوہ کوئی اور حل موجود نہی تھا۔ عوام تکلیف اٹھا رہی ہے، حکومت عوامی فیصلے نہی بلکہ ملکی بہتری کے فیصلے کر رہی ہے۔ کرنٹ اکاؤنٹ ڈیفیسٹ ماہانہ دو ارب ڈالر سے ایک ارب ڈالر پر آ گیا ہے۔ ملکی تاریخ میں پہلی دفعہ ریونیو کالیکشن پر ایک بہت بڑا جمپ یعنی ۳۵ فیصد بڑھوتی کی کوششیں کی جارہی ہیں اور اگر ایف بی آر اپنے ٹارگٹس کا ۹۵ فیصد بھی حاصل کر لے تو روپووں میں یہ بڑھوتی پچھلی حکومت کے پانچ سال کی بڑھوتی کے تقریبا برابر ہو گی۔ اگلے تین سال تک ریپو ریٹ ۱۳ سے ۱۵ فیصد تک ہی رہے گا لیکن جیسے ہی اکانومی میں سٹیپللائزیشن آئی اور انٹرسٹ ریٹس آٹھ فیصد پر آئے تو بجٹ خسارہ بھی کم ہو کر پانچ فیصد پر آ جائے گا۔

Navigation