کک باکسر سے سنجیدہ مکالمہ

Home Forums Hyde Park / گوشہ لفنگاں کک باکسر سے سنجیدہ مکالمہ کک باکسر سے سنجیدہ مکالمہ

#187
shahidabassi
Participant
Offline
  • Expert
  • Threads: 31
  • Posts: 6898
  • Total Posts: 6929
  • Join Date:
    5 Apr, 2017

Re: کک باکسر سے سنجیدہ مکالمہ

یہ ایک جواب رہ گیا تھا اب دے رہا ہوں – آپ کہتے ہیں امپورٹ خود کم کی گئی ہے کبھی وقت ملے تو چینل جو بازاروں کا منظر دکھا رہے ہیں وہ ضرور دیکھیں – چینل دکھا رہے ہیں کہ مصروف بازار اب ویرانی کا منظر پیش کرتے ہیں سیل بہت کم ہو گئی ہے یہ بھی کہا جا رہا ہے دکانوں کی پگڑیاں بہت کم ہو گئی ہیں – بزنس بہت کم اور حکومت کی طرف سے ٹیکس بہت ہونے کی وجہ سے دکاندار اتنا زیادہ ماہانہ کرایہ دینے سے قاصر ہے اور دوکانوں کے کرائے پر نہ چڑھنے کی وجہ سے پگڑیاں کم ہو گئی ہیں – ہر چیز کی سیل میں قابل ذکر کمی ہوئی ہے جس کی وجہ مہنگائی سے لوگوں کی پر چیسنگ پاور کا کم ہونا ہے اس وجہ سے ڈیمانڈ میں کمی ظاہر سی بات ہے – باقی چیزوں کو چھوڑیں روٹی کی قیمت جو ستر سال میں سات روپے تک پوھنچی اب پندرہ کی ہو گئی ہے جبکے نان بارہ سے بیس پر چلا گیا ہے جو دو وقت کی روٹی پوری نہیں کر پاتے وہ امپورٹڈ مال کیا خریدیں گے – امپورٹر کیا اپنے پیسے سے مال خرید کر اپنے گھر میں اسٹاک کر لے – ملک میں حکومتی سطح پر سب پروجیکٹ بند ہیں وہ بھی جو پچھلی حکومت نے شروع کئے تھے نئے تو خیر کیا شروع ہونے تھے تو ڈیمانڈ کس چیز کی ہوتی – آج ہی کی خبر ہے کہ امپورٹ مزید پندرہ فیصد کم ہو گئی ہے جبکے ایکسپورٹ میں کوئی اضافہ نہیں ہوا روپے کی قیمت ڈالر کے مقابلے میں ایک سو ساتھ تک گرا کر کے بھی – ماضی میں اگر روپے کی قدر میں پانچ روپے کی بھی کمی ہوتی تھی تو ایکسپورٹ بڑھتی تھی مگر اب روپیہ ایک سو بیس سے ایک سو ساتھ پر گرا کر بھی ایکسپورٹ کیوں نہیں بڑھ رہی ؟ اس کی وجہ یہ ہے کہ مہنگائی کی وجہ سے ایکسپوٹر کا مال تیار کرنے کا خرچہ بہت بڑھ گیا ہے جس کی بنیادی وجہ یہ ہے کہ اسی فیصد خام مال بھی امپورٹ ہوتا ہے اور ڈالر مہنگا ہونے سے اس کی لاگت بھی بہت بڑھ گئی ہے جب خام مال مہنگا ملے گا تو سستی فنش پروڈکٹ کیسے تیار ہو گی اور جب فنش پروڈکٹ تیار ہی نہیں کرنی تو خام مال کیوں امپورٹ کیا جائے – خام مال اور تیار مال کی ڈیمانڈ میں نمایاں کمی کی وجہ سے امپورٹ میں کمی ہے – آپ نے کبھی اخبار میں دیکھا کہ امپورٹرز کی طرف سے یہ مطالبہ آیا ہو کہ حکومت ہمیں امپورٹ لائسنس جاری نہیں کر رہی – افسوس اس بات کا ہے کہ ماضی کی حکومتوں کی طرح یہ حکومت بھی ان ڈائریکٹ ٹیکس لگا رہی ہے جس سے روٹی بھی غریب کی پوھنچ سے دور ہو تی جا رہی ہے –

موجودہ حکومت نے کوئی نیا ٹیکس نہیں لگایا۔ پاکستان کی خام مال کی امپورٹ بہت کم ہے۔ایکسپورٹس میں ۹۰ فیصد سے زیادہ مقامی خام مال استعمال ہوتا ہے۔ ڈیمانڈ میں کمی وقت کی ضرورت ہے تاکہ امپورٹس کم ہونے کی وجہ سے جو انفلیشن ہے اسے کنٹرول کیا جا سکے۔ شرح سود میں اضافہ بھی اسی سلسلے کی ایک کڑی ہے۔حکومت چاہتی ہے کہ لوگ خرچ کرنے کی بجائے سیونگز کریں تاکہ امپورٹس میں کمی کی وجہ سے جو رسد میں کمی آئی ہے اتنی ہی طلب میں بھی کمی آئے اور مہنگائی رک جائے۔ اس میں خاطر خواہ کامیابی ہوئی ہے۔ اور صرف ایک سال میں بنکوں میں ڈپازٹس ایک ہزار ارب بڑھ گئے ہیں جو آج تک پہلے کبھی نہی ہوا تھا۔

.
ایکسپورٹس میں مقدار کے حساب سے ۲۵ فیصد اضافہ ہوا ہے ویلیو کے حساب سے ابھی تھوڑا ہوا ہے اور مزید جلد آنا شروع ہو جائے گا۔ رواں مالی سال کے آخر تک ایکسپورٹس ۲۶ ارب اور اگلے سال تیس ارب ڈالر کی ہو جانے کا امکان ہے۔ مہنگائی کم ہونا شروع ہو گئی ہے۔ ساڑھے نو فیصد سے انفلیشن ساڑھے آٹھ فیصد پر آگیا ہے جبکہ کور انفلیشن سوا سات فیصد ہے۔

.
عوام ن لیگ کی مالی اور معاشی پالیسیوں کی قیمت ادا کر رہی ہے لیکن نونی عوام ابھی تک اسے سمجھنے سے قاصر ہے۔ پاکستان بنکرپٹسی کو چھو کر واپس آیا ہے اور حکومت کے ان تکلیف دہ اقدام کے باوجود ن لیگ کے پانچ سال عوام کو اگلے دس سال تک بھگتنے پڑیں گے۔ آئی ایم ایف کی رپورٹ کے مطابق، ان سارے اقدامات کے باوجود پاکستان کو اگلے پانچ سال میں ۷۵ ارب ڈالر کے قرضوں کی ضرورت ہے (اگر یہ اقدامات نہ کئے جاتے تو تخمینہ ۱۵۶ ارب ڈالرز تھا) ۔ آپ کا مسئلہ یہ ہے کہ مہنگائی ہوگئی مہنگائی ہو گئی کی رٹ تو لگا رکھی ہے لیکن اصل صورتِ حال کا ادراک نہیں ہے۔ یہ بلکل سمجھ نہیں آتی کہ یہ ۱۵۶ ڈالرز ارب قرضوں کی ضرورت اس حکومت کو ورثے میں ملی تھی۔ اور یہ بھی سمجھ نہی آتا کہ جب ۶ ارب ڈالرز کے لئے ماتھے رگڑنے پڑتے ہیں تو ۱۵۶ ڈالرز ارب کہاں سے آتے۔ اور اگر آ بھی جاتے تو اس سے اگلے پانچ سال میں ۳۰۰ ڈالرز ارب کہاں سے آتے۔ کیا ڈیفالٹ کرنا اور بنکرپٹ ہونا منظور ہے یا نو فیصد مہنگائی؟ عجیب سی بات ہے کہ نونیوں کو یا تو سمجھ نہی آتی یا شرم نہی آتی (خیرآپ کو تو سمجھ نہی آتی )۔

Navigation