طاقت

Home Forums Siasi Discussion طاقت طاقت

#137
پرولتاری درویش
Participant
Offline
  • Advanced
  • Threads: 2
  • Posts: 268
  • Total Posts: 270
  • Join Date:
    29 May, 2019
  • Location: Lea

Re: طاقت

۔۔۔۔

I was able to dig out some pieces from the member whom you are unable to forget. This is what is causing you chronic pain? Really nice piece of writing, huh……. :bigsmile:

ہائے رے وقت کی کمیابی ۔ ۔  ۔ ۔ خیر ۔ ۔ ۔

علامہ کی جوانی کا ذکر چھڑ ہی گیا ہے تو کچھ اور ان کہے رازوں سے بھی پردہ اٹھنا چاہیے اور کچھ بے شناخت نطفہء ناتحقیق ارواح کی شانخت کی کھوج کر کے ان کی  روح کے اطمینان کا کچھ تو انتظام ہونا چاہیے

جاوید اقبال نے والد کی سوانح لکھی تو اس کو زندہ رُود کا نام دیا۔ بے وثوق ذرائع کے مطابق کتاب کے دو مسودے تیار ہوئے، ایک پبلک کنزمپشن کیلئے جو چھپ کر مارکیٹ میں دستیاب ہے اور نیت پر بھی، اور ایک ٹیل آل اور بغیر کسی لگی لپٹی کے با ذوق      لوگوں کیلئے۔

یہ دوسرا مسودہ خاصے کی چیز تھا، اس میں علامہ کی جوانی کی قصوں یعنی غیر نصابی سرگرمیوں کی تفصیل تھی اور ان غیر نصابی سرگرمیوں کے نتیجے میں پھلنے اور پھیلنے والے خاندان یعنی بے شناخت نطفہء ناتحقیق ارواح کا ذکر۔

تفصیل اس غیر مصدقہ اجمال کی کچھ یوں ہے کہ ہم میں سے کچھ تو جانتے ہیں کہ جوانی کے نشے میں علامہ سے کسی کوٹھے پر کوئی قتل شتل ہو گیا تھا لیکن جو پبلک نالج نہیں ہے اور صرف اس بے وثوق گمشدہ زندہ رود کے مسودے میں ہی درج ہے کہ ان محترمہ کے ساتھ علامہ کی غیر نصابی سرگرمیوں ک نتیجے میں ایک نطفہء ناتحقیق متوازی خاندان چلا (کیونکہ کوٹھے پر علامہ کے علاوہ بھی شوقین لوگوں کا آنا جانا تھا   ) جو انہی گلیوں میں رہا اور پلا بڑھا اور پھر اسی طرح کی اور غیر نصابی سرگرمیوں کے نتیجے میں آگے پھلا پھولا

اب مصیبت یہ ہوئی کہ نسل در نسل نطفہءبے تحقیق رہنے سے نسل میں جینیاتی میوٹیشن ہوگئی تھی جس کی وجہ سے اس متوازی خاندان میں انسانوں سے ملتی جلتی ایک ایسی بے شناخت شئے وجود میں آئی جو بہت زور حس واقع ہوئی، کائنات، زندگی، دنیا اور اپنی تخلیق کا کوئی مقصد سمجھ نہ آئے، کرے تو کیا کرے؟؟ پھر سمجھ میں یہی آیا کہ اپنی تخلیق کو ہی ظلم قرار دیکر کائنات اور زندگی بارے ظلم اور بے انصافی کا واوہلا شروع کیا جائے

قارئین زندہ رود کا یہ مسودہ اسی طرح کی دیگر تفاصیل سے بھرا پڑا ہے، ظلم و ستم و نا انصافی کے اس سفر میں ظلم و ستم و نا انصافی کے بیان کے علاوہ، ایک نطفہء نا تحقیق بے شناخت روح اپنی مصنوعی ششناخت کے سفر پر کیسے روانہ ہوتی ہے، جب اپنے بے وثوق مجرم جدِ امجد کی شناخت تک پہنچتی ہے تو زود حسی کن حدوں کو چھوتی ہے اور مانسک سنتولن کیسے تہہ وبالا کرتی ہے اور یہ نطفہء نا تحقیق بے شناخت روح انتقام کے سفر پر کیسے روانہ ہوتی ہے، یہ ساری تفاصیل بشرطِ فرصت پھر کبھی کسی اگلی لڑی کڑی میں

Navigation