عمران خان کا قومی قرضے پر کمیشن کا اعلان: نواز اور زرداری حکومتوں نے کتنا قرضہ ل

Home Forums Siasi Discussion عمران خان کا قومی قرضے پر کمیشن کا اعلان: نواز اور زرداری حکومتوں نے کتنا قرضہ ل عمران خان کا قومی قرضے پر کمیشن کا اعلان: نواز اور زرداری حکومتوں نے کتنا قرضہ ل

#3
shahidabassi
Participant
Offline
  • Expert
  • Threads: 31
  • Posts: 6991
  • Total Posts: 7022
  • Join Date:
    5 Apr, 2017

Re: عمران خان کا قومی قرضے پر کمیشن کا اعلان: نواز اور زرداری حکومتوں نے کتنا قرضہ ل

محمد حفیظ بھائی یقین مانیں مجھے اس سارے گورکھ دھندے کا ککھ کچھ پتا نہیں چلا میں تو سادہ سا بندہ ہوں اور سادی کی ضرب تقسیم سے بات کو اس طرح سے سمجھ سکتا ہوں کہ ایک باپ کی پانچ اولادیں ہیں وہ گھسٹ گھسٹا کر دو تین آٹھویں دسویں تک پڑھا لیتا ہے ایک دو کسی کام میں لگ جاتے ہیں لیکن دسویں آٹھویں کے بچوں کو اعلیٰ تعلیم اور ہنر سیکھنے والوں کو اپنا کاروبار کر کے دینے کے لیے وہ فرد کسی سے 15سال کی مدت کے قرض لیتا ہے سات آٹھ سالوں تک وہ قرض کی رقم تھوڑی تھوڑی کر کے اُتارتا رہتا ہے لیکن جب بچے اعلیٰ تعلیم یافتہ ہوکر اچھی ملازمتیں کرنا شروع کر دیتے ہیں ہنر مند بچوں کے کاروبار سیٹ ہوجاتے ہیں تو بقیہ مدت کا قرضہ نہ صرف وہ سب مل کر آسانی سے ادا بھی کر دیتے ہیں بلکہ اپنے بہتر معاشی حالات کی بنا پر قرضہ کی مدت سے قبل قرضہ اُتار کر سود کی مزید رقم ادا کرنے سے بھی بچ جاتے ہیں ایسا ہی کچھ وہ “قومی مجرم”کر گئے تھے کہ قوم کے لیے سازگار ماحول اور بجلی گیس کی کمی ختم کر کے ہر فرد کو آزادانہ طور پر اپنی اپنی صلاحیتوں کے مطابق مناسب ماحول فراہم کر دیا تھا یہ قوم اتنی نکمی نہیں کہ وہ ایسے شاندار ماحول کے ملنے کے باوجود اپنے قرض نہ اُتار پاتی جس کا ثبوت اُس وقت کی سٹاک مارکیٹ دے رہی تھی اگر وہی تسلسل جاری رہتا تو اس وقت کاروبار کے اشارئے 6کے لگ بھگ پہنچ رہے ہوتے نہ ڈالر یک دم بے لگام ہوتا نہ پٹرول ڈیزل ہاتھوں سے اُڑتے۔ یہی کام اگر زردآری یا نیازی ملعون کر دیتے تو بھی میرا جیسا فرد یہی کہتا کہ اُنہوں نے اپنے تئیں بہترین کوشش کی کہ قوم کو کاروبار کے لیئے دہشت گردی اور انرجی کےمسائل سے نجات دے کر سازگار ماحول فراہم کر دیا اگرصرف 5سال کی مدت میں یہ کچھ کر دیا تو اگلے پانچ سال میں اس کے ثمرات پوری طرح حاصل ہونا شروع ہوجانے تھے لیکن افسوس یہ کام “صادق اور امین سے پہلے”قومی مجرم”کر کے سزا کے مستحق پائے۔ اتنی طویل تحریر میں املاکی غلطیوں کو نظر انداز کیا جائے۔شکریہ

واقعی آپ معصوم ہو اطہر بھائی۔
بجلی کے کارخانے، موٹر وے، اورنج ٹرین اور اسی طرح دوسرے پراجیکٹ تو سی پیک کے تحت بنے ہیں۔ یہ تو قرضوں میں شامل ہی نہی۔ اور اس کے علاوہ کچھ بنایا ہے تو پانچ سال کا بجٹ میں ترقیاتی بجٹ بھی ۵۰۰۰ ارب روپئے کا تھا۔ ادھار کے پیسے کی عیاشیوں سے سٹاک ایکسچینج ۵۳۰۰۰ ہزار تک پہنچ کر ن ہی کی حکومت میں ۴۲ ہزار پر آ چکی تھی۔
رہی بات دو بیٹوں قرضہ لے کر پڑھانے اور پھر ان کی انکم سے قرض واپس کرنے کی تو میاں جی وہ قرض بھی خرچ ہوگیا لیکن انکم تو بڑھنے کی بجائے مزید کم ہوتی چلی گئی۔ یعنی جہاں سے قرض اتارنے کے لئے ڈالر آنے تھے وہ ایکسپورٹ تو مزید کم ہوگئی اور امپورٹس کو ٹربو لگا کر ۴۰ سے ۶۰ ارب کر دیا۔ یعنی ایک طرف قرضے لے لئے اور دوسری طرف ڈالروں کی آمدن ۲۰ ارب کم ہوگئی۔ میرا نہی خیال کہ یہ سمجھنا اتنا مشکل ہے۔

Navigation