طاقت

Home Forums Siasi Discussion طاقت طاقت

#87
shahidabassi
Participant
Offline
  • Expert
  • Threads: 31
  • Posts: 6897
  • Total Posts: 6928
  • Join Date:
    5 Apr, 2017

Re: طاقت

غلط کاری اور استحصال میں فرق ہوتا ہے اور یہ فرق ہمیں کرنا چاہیے کسی غیر ملکی یا عالمی طاقت کے استحصال اور ہماری ملکی فوج اور سیاسی قیادت کے اپنے ہی ملک و قوم کا استحصال کرنے میں بہت فرق ہے، ہمارے ہاں انکی باہمی لڑائی نے ملک و قوم کو پچھلے 50سالوں سے وقت کے اندر منجمد کر رکھا ہے جس سے معاشرتی اور معاشی نوعیت کے بحران جنم لے چکے ہیں اور نوبت اب گڑ گڑا کر مودی کے پاؤں چھونے اور اور اس سے امن کی بھیک مانگنے تک آن پہنچی ہے عالمی اور دوسری طاقتیں کم از کم اپنے ملک و قوم کا استحصال نہیں کرتی اور اپنے تمام شہریوں کو بلا امتیاز زندگی کی بنیادی ضرورتیں فراہم کرتی ہیں یا اس ضمن میں کوشش ضرور کر تی ہیں دوسروں کا ستحصال کرنے کا سوچنے سے پہلے :bigsmile: :bigsmile: :bigsmile:

درویش جی مقصد یہ نہی تھا کہ بتاؤں فوج امریکہ یا سیاسی جماعتوں میں سے کس کے کیے استحصال کو بڑا جرم گردانا جانا چاہئے۔ میں طاقت کے ڈائنامکس کی بات کر رہا تھا کہ عموما جس کے ہاتھ بھی طاقت آتی ہے وہ استحصال ہی کرتا ہے۔ ویسے بھی کس طاقت کا جرم زیادہ قابلِ نفرت ہے اس کا فیصلہ تو صرف اس عمل سے متاثرہ افراد ہی کر سکتے ہیں۔ عراق، شام لیبیا کے باشندوں سے پوچھیں تو جواب اور ہوگا ایک پڑھے لکھے جمہوریت پسند پاکستانی کا جواب کچھ اور جبکہ ڈیرہ غازی خان کے کسی دیہاتی جو کہ تھانیدار کا عذاب سہہ رہا ہو اس کا جواب ان سب سے مختلف۔
رہا پاکستان کا مسئلہ تو یہاں فوج اور سیاست دان، دونوں نے معاشی استحصال کیا ہے بلکہ سیاستدان نے تو بلکل ہی گند گالا ہے۔ ایوب کے دور میں کوئی قرضہ نہی تھا، پھر سیاستدانوں نے آکر قرض لئے، ضیا کے دس سال میں قرضہ نہ ہونے کے قریب تھا اور پھر بے نظیر اور شریف نے آکر قرض لئے، مشرف آٹھ سال رہا لیکن قرض صرف دو ارب ڈالر ہی بڑھا لیکن اگلے دس سال میں چھ سے ۲۴ ہزار ارب ہو گئے۔ معاشی نمو بھی ڈکٹیٹرز کے دور کی اوسط چھ رہی جبکہ سیاست دانوں کے ادوار میں یہ ۳ کے قریب۔
میں یہ کہنا چاہتا تھا کہ فوج کی کارستانیوں پر ڈھکن لگانے کا واحد رستہ سیاست دانوں کے کردار اور کارکردگی پر منحصر ہے۔ قرار صاحب کے اس اسرار کہ جیسا بھی ہے لیکن سیاست دان کم از کم عوام کا نمائندہ ہے سے میں اس لئے متفق نہی کہ جمہوریت ووٹ لینے ہی کا نام نہی بلکہ ووٹ سے تو جمہوریت کا صرف آغاز ہوتا ہے۔ رہی ان کی یہ دلیل کہ عوام پانچ سال بعد ایسے سیاستدان کو گھر بھیج سکتے ہیں بھی وزن نہی رکھتی کہ جہاں لغاری کے مقابلے کھچی، شریفوں کے مقابل زرداری کا چائس ہو تو جمہوری عمل بھی بے معنی ہو کر دہایوں تک چلتا رہتا ہے۔

Navigation