طاقت

Home Forums Siasi Discussion طاقت طاقت

#65
shahidabassi
Participant
Offline
  • Expert
  • Threads: 31
  • Posts: 6991
  • Total Posts: 7022
  • Join Date:
    5 Apr, 2017

Re: طاقت

میرے خیال میں طاقت کی نہ تو کوئی آفاقی تعریف ہوسکتی ہے نہ آفاقی پیمانہ۔۔ طاقت مختلف لوگوں کے لئے مختلف ہوسکتی ہے۔۔ ہم یہاں اکثر یہ بحث کرتے رہتے ہیں کہ پاکستان کی فوج آخر کس طرح پورے سیاسی نظام پر حاوی ہے، کیا وہ صرف بندوق ہے جس نے انہیں یہ طاقت فراہم کررکھی ہے۔۔ اگر ہم پاکستان اور بھارت کا موازنہ کریں تو مجھے دونوں کے حالات میں کوئی زیادہ فرق نظر نہیں آتا۔۔ بھارت کے سیاستدان بھی کم و بیش اتنے ہی کرپٹ ہیں جتنے کہ پاکستانی سیاستدان، پھر کیا وجہ ہے کہ بھارتی فوج نے کبھی کرپشن یا ملکی حالات کی خرابی کو جواز بنا کر اقتدار پر قبضہ نہیں کیا۔ بھارت میں تو حب الوطنی اور پاکستان دشمنی کا چورن پاکستان سے بھی زیادہ بکتا ہے، وہاں کا میڈیا تو سراسر بھارتی فوج کا ترجمان بنا ہوتا ہے، یہ تمام چیزیں فوج کے حق میں جاتی ہیں۔ وہاں فوج کی بہت عزت ہے اور سیاستدانوں کی بھارتی فلموں میں جس طرح آتما رولی جاتی ہے، وہ کسی سے نہاں نہیں۔ الغرض بھارت میں فوج کے اقتدار پر قبضہ کرنے کے وہ تمام لوازمات موجود ہیں جو پاکستان میں پاکستانی فوج کو میسر ہیں۔ اس کے باوجود بھارتی فوج اقتدار نے آج تک اقتدار پر قبضہ نہیں کیا۔ حالانکہ پڑوسی ملک کی طرف دیکھ کر تو کبھی نہ کبھی دل میں خیال آہی جاتا ہے۔۔مگر وہاں ایسا کبھی نہیں ہوا۔۔۔

میرے مشاہدے کے مطابق اس کی وجہ ایک معمولی سا فرق ہے جو مسلمان قوم اور ہندو قوم میں پایا جاتا ہے۔۔ مسلمانوں کے مزاج میں جو جارحیت پائی جاتی ہے اس کے مقابلے میں ہندو قوم میں عاجزی اور انکساری کا عنصر زیادہ ہوتا ہے۔۔ برصغیر کی تاریخ اٹھا کر دیکھ لیں، ہمیشہ مسلمان حملہ آور ہی یہاں یلغار کرتے رہے، نہ صرف برصغیر بلکہ دنیا کے دیگر حصوں میں بھی مسلم حملہ آوروں کی داستانیں رقم ہیں۔ اس کے مقابلے میں ہندوؤں کی جارحیت کی کوئی ایسی خاص مثالیں نہیں ملتیں۔۔ ہندوؤں کے مقابلے میں مسلمان طاقت اور غلبہ حاصل کرنے کا زیادہ متمنی ہوتا ہے، جارح مزاج ہوتا ہے۔۔ پاکستان میں فوج جو اقتدار پر قابض رہتی ہے اس کی وجہ میری نظر میں مسلمانوں کے مزاج میں پائی جانے والی جارحیت ہی ہے، اس لئے یہ صرف فوج تک محدود نہیں، پاکستان میں اگر طاقت کا توازن سیاستدانوں کی طرف پلٹے تو وہ بھی آمر بن بیٹھتا ہے، کیونکہ بطور مسلمان اس کے مزاج میں بھی وہی اکڑفوں پائی جاتی ہے۔۔ الیکشن سے کچھ دن قبل بھارتی وزیراعظم نریندر مودی نے گٹر ، نالیاں اور سڑکیں صاف کرنے والے سینٹری ورکرز (جن کو ہمارے ہاں مختلف برے برے ناموں چوڑے چمار، جمعدار وغیرہ سے پکارا جاتا ہے) کے پاؤں خود دھوئے اور انہیں ٹی وی پر دکھایا۔۔ مانا کہ ووٹ بٹورنے کے لئے الیکشن سٹنٹ کے طور پر اس نے ایسا کیا، مگر اصل نکتہ یہ نہیں، اصل نکتہ یہ ہے کہ ایسے منکسرانہ کاموں کو ہندوؤں میں اچھا سمجھا جاتا ہے، پذیرائی ملتی ہے، تبھی اس نے ایسا کیا۔۔ ذرا تصور کیجئے پاکستان میں وزیراعظم تو کجا کوئی معمولی (مسلمان) سیاستدان بھی ایسا کرنے کا سوچ سکتا ہے کیا؟ یہ وہ فرق ہے جو دونوں قوموں میں پایا جاتا ہے اور میری نظر میں اسی وجہ سے ہندو فوج جارحیت کرکے بھارتی اقتدار پر قابض نہیں ہورہی۔۔ وگرنہ اس کی جگہ اگر مسلمان فوج ہوتی تو اب تک بھارت کو کئی بار فتح کرچکی ہوتی۔۔۔ نصرمن اللہ وفتح قریب۔۔۔

تو کیا یونان، سپین، پرتگال، برازیل، ارجنٹائن، میکسیکو اور ۵۷ دوسرے ممالک کے فوجی ڈکٹیٹر بھی مسلمان تھے

Navigation