آزاد سوچ

#44
Zinda Rood
Participant
Offline
  • Professional
  • Threads: 12
  • Posts: 1577
  • Total Posts: 1589
  • Join Date:
    3 Apr, 2018
  • Location: NorthPole

Re: آزاد سوچ

آپ کی اس بات سے اصولی طور پر مجھے اتفاق ہے یہ وہ مقام ہے جس کے نزدیک انتہا درجہ کی بلوغت اور اصول پسندی کی صورت میں پہنچا جاسکتا ہے یہ وہ مقام بھی ہے جہاں تک پہنچنے کے لئے سیاست کو سیاسی اصولوں اور قوتوں کے زیر اثر پھلنے پھولنے کا موقع ملے – یہ مقام مزید دور ہوجاتا ہے جب معاشرہ کئی لحاظ سے تقسیم ہو پاکستان کے پس منظر میں آپ کی اس تنقید کو میں موجودہ صورتحال میں قبول کرنے سے گریز کروں گا کہ یہاں سیاسی لحاظ سے بحرانی کیفیت روزاول سے طاری ہے یہاں مختلف غیر فطری قوتیں اپنی اجارہ داری بر قرار رکھنے کے لئے سیاسی عمل کو تسلسل کے ساتھ پٹھری سے اتارنے کی کوششوں میں مصروف ہیں الزامات لگاے جاتے ہیں جھوٹ بولا جاتا ہے منظم پروپیگندہ ہوتا ہے بیانیہ تیار کیا جاتا ہے انصاف کے عمل کو اپنی مرضی سے ڈھالا جاتا ہے غرض ہر طرف اعتماد کا فقدان ہے ایسے ماحول میں اگر سرکاری نشریاتی ادارے سے یا نفع کے حصول کی غرض سے قائم نجی نشریاتی اداروں کی ہر بات ہر الزام پر تابعداری سے سر تسلیم خم بجالانے کی آپ کی توقع نہایت غیر حقیقی ہے جس بات کو آپ دفاع سے تعبیر کررہے ہیں وہ نکتہ نظر بھی کہا جاسکتا ہے اپنی اس بات کو ایک مرتبہ پھر دھرا دیتا ہوں کہ گروہ بندی اصولوں سے زیادہ مفادات کے حصول کے لئے ہوتی ہے اور اگر وسیع تر گروہی مفادات پر ضرب لگنے کا خدشہ ہو تو لوگ اصولوں کی قربانی دیدیتے ہیں یہ انسانی فطرت ہے آپ کی تنقید اور غصہ موجودہ غیر فطری سیاسی کرداروں پر بجا ہے مگر میری گزارش ہوگی کہ انفرادی کرداروں کے بجاے بڑی پکچر دیکھنے کی کوشش کریں اور اس بات پر غور کریں کہ ان کرداروں کی پیدائش میں کن عوامل کا کردار تھا اور آپ کی خیالی قیادت کو وجود میں آنے کے لئے کن عوامل کی ضرورت پڑے گی اور اس میں رکاوٹ کیا ہے آزاد سوچ کے موثر ہونے کے لئے آپ نے نہایت کڑی شرط عائد کردی ہے اس شرط کے لاگو ہونے کے لئے جتنا وقت درکار ہوگا اس دوران مبینہ آزاد سوچ کا حامل کیا کرے گا؟ عموما اگر آپ دیکھیں تو ووٹنگ کی شرح پینتیس سے پچاس کے درمیان رہتی ہے یہ بھی وہ لوگ ہوتے ہیں جو یا تو کسی کو ہرانے کے لئے یا کسی کو جتانے کے لئے ووٹ ڈالنے جاتے ہیں مطلب کسی نہ کسی سیاسی سوچ سے وابستہ ہوتے ہیں ووٹرز کی تو غالب اکثریت تمام موجودہ آپشنز پر تین الفاظ بھیج کر اپنی ذمہ داریوں سے مبرا ہوجاتے ہیں اور بعد میں شکایات کرنے میں بھی سب سے آگے ہوتے ہیں سیاسی جماعت سے وابستگی کا مطلب جلسوں میں کرسیاں لگانا نہیں ہے بلکہ گروہی مفادات کے حصول کے لئے سیاسی سوچ کی حمایت ہے مگر میرے لئے دیواروں پر پمفلٹ لگانے والے، کرسیاں لگانے والے جھنڈے اٹھانے والے یا موجودہ دور کی مناسبت سے سماجی ویبسائٹ پر اپنے سیاسی نظریات کا پرچار کرنے والے کسی بھی طرح کمتر نہیں ہیں بلکہ بہت زیادہ لائق احترام ہیں کہ انکے بغیر نام نہاد سہل پسند آزاد سوچ کے علمبرداروں کو آپشنز نہیں ملیں گے

گھوسٹ پروٹوکول صاحب۔۔ جواب میں تاخیر پر معذرت۔۔۔۔  ایسا نہیں ہے کہ میں سیاسی جدوجہد کا بالکل قائل نہیں ہوں، میں مخصوص حالات میں سیاسی جدوجہد پر یقین رکھتا ہوں، جیسا کہ مشرف کی آمریت کے خلاف جدوجہد یا پھر کسی خاص معاملے میں عوام کا حکومت کے خلاف متحرک ہوجانا۔۔ لیکن اس کیلئے بھی عوام کا کسی خاص سیاسی جماعت کے ساتھ وابستہ ہونا ضروری نہیں ہوتا۔ جب عوامی جذبات بھڑکے ہوتے ہیں تو انہیں ذرا سی تحریک کی ضرورت ہوتی ہے اور وہ ایک جگہ مجتمع ہوجاتے ہیں، جب لوڈشیڈنگ ہوتی ہے تو عوام تمام تر سیاسی وابستگیاں ایک طرف رکھتے ہوئے سڑکوں پر متحرک ہوجاتے ہیں۔

جس چیز کو میں صحیح نہیں سمجھتا، وہ ہے لوگوں کا سیاسی جماعتوں یا سیاسی رہنماؤں  کے ساتھ مذہبی عقیدت پال لینا۔۔۔ اور پاکستان میں یہ کلچر عام ہے۔۔ جب لوگ گروہوں میں بٹ کر مختلف سیاسی رہنماؤں یا سیاسی جماعتوں کے ساتھ باقاعدہ بندھ جاتے ہیں، تو اس کا میری نظر میں ایک بہت بڑا نقصان ہے کہ وہ طاقت جو سیاسی نظام نے ووٹ کی صورت میں ہر شخص کو مہیا کی ہے، وہ عوام کے ہاتھ سے نکل کر ان سیاسی جماعتوں کے ہاتھ میں چلی جاتی ہے جو اپنے ساتھ بیوقوفانہ حد تک عقیدت رکھنے والی عوام کے استحصال کا باعث بنتی ہے۔ اور میرے خیال میں یہ انسانی شعور کی بھی توہین ہے کہ وہ اپنی سوچ سمجھ کو کسی جماعت یا شخص کے ہاتھ گروی رکھ دے۔۔  

Navigation