طاقت

Home Forums Siasi Discussion طاقت طاقت

#39
Qarar
Participant
Offline
  • Professional
  • Threads: 97
  • Posts: 2333
  • Total Posts: 2430
  • Join Date:
    5 Jan, 2017

Re: طاقت

قرار صاحب۔۔۔۔۔ کیا وسعت اللہ خان بھی جماعتی پروپیگنڈے کے زیرِ اثر ہے۔۔۔۔۔ الطاف حسین: ایک پپی اِدھر ایک پپی اُدھر کیا آپ کو نہیں لگتا کہ کبھی کبھار ہم جیسے لبرل قسم کے لوگ انسانی حقوق وغیرہ کی جنگ میں اِس قدر اندھے ہوجاتے ہیں کہ دھونس دھمکی تشدد قتل و غارت کے دوبارہ اِجراء کرنے کو بھی تیار رہتے ہیں۔۔۔۔۔ کیا آپ نہیں سمجھتے کہ یہ ہمارا ایک شدید قسم کا تعصب ہے۔۔۔۔۔ آپ بخوبی جانتے ہیں کہ عاصمہ جہانگیر کو مَیں کتنا پسند کرتا ہوں۔۔۔۔۔ عمومی طور پر وہ ایک آئیڈلسٹ عورت تھی۔۔۔۔۔ ساتھ ساتھ مَیں عاصمہ کے کچھ اقدامات پر تنقید بھی کرتا ہوں کہ حقیقی دُنیا میں شاید ایسا ممکن نہ ہوسکے گا جیسا وہ چاہتی تھیں۔۔۔۔۔ الطاف حُسین کی تقاریر کے نشر کرنے پر پابندی ایک ایسا ہی نکتہ تھا جس کے بارے میں، مَیں سمجھتا ہوں کہ عاصمہ جہانگیر کو اِس معاملے میں نہیں پڑنا چاہئے تھا۔۔۔۔۔ الطاف حُسین نے تشدد دھونس دھمکی کے ذریعے ٹی وی چینلز کو مجبور کئے ہوئے تھا کہ اُن کو براہِ راست بغیر کسی وفقہ کے شروع سے آخر تک گھنٹوں طویل خطاب دکھانا پڑتا تھا۔۔۔۔۔ دُنیا کی ذرا بھی کوئی مضبوط سی ریاست یہ برداشت نہیں کرسکتی کہ اُس ریاست کا مالیاتی مرکز، واحد بندرگاہ ایک شخص کے نوٹس پر بند ہوجائے۔۔۔۔۔ مَیں یہاں قطعاً یہ نہیں کہہ رہا کہ ایم کیو ایم کو یا ایم کیو ایم کے کارکنوں کو ہڑتال کرنے کا کوئی حق نہیں ہے بلکہ میرے کہنے کا مقصد یہ ہے کہ اگر ہڑتال کرنی ہے تو شوق سے کرو گھر بیٹھو لیکن تشدد کو بیچ میں نہ لاؤ کہ زبردستی دُکانیں بند کروائی جائیں یا بَسیں جلائی جائیں۔۔۔۔۔ لیکن کراچی میں ایسا نہیں ہوتا تھا۔۔۔۔۔ وہاں ایم کیو ایم کی ہڑتال کا مطلب یہ ہوتا تھا کہ اگر کوئی ٹرانسپورٹر اپنی بَسیں روڈ پر لے آیا تو وہ بَسیں تھوڑی دَیر ہی میں انتقال فرما جانی ہیں۔۔۔۔۔ بلکہ ہڑتال سے ایک دن پہلے شام سے ہی یہ سلسلہ شروع ہوجاتا تھا۔۔۔۔۔ کم و بیش ہر صحافی ایم کیو ایم سے ڈرتا تھا کہ اگر ذرا بھی الطاف بھائی یا ایم کیو ایم کے خلاف لکھ دیا تو نتائج کیا ہوں گے۔۔۔۔۔ ابھی آپ نے ایک دو دن پہلے ہی کہا کہ آپ کسی ایسے ملک میں نہیں رہنا چاہیں گے جہاں لکھنے بولنے کی آزادی نہ ہو۔۔۔۔۔ کیا آپ الطاف بھائی کی حکمرانی والے کراچی میں رہ سکتے ہیں۔۔۔۔۔ مَیں ہوا، آپ ہوئے یا ہمارا یہ لبرل گروپ فری اسپیچ پر بہت زیادہ زور دیتا ہے۔۔۔۔۔ اور مَیں واقعی فری اِسپیچ کے حق میں ہوں۔۔۔۔۔ لیکن ساتھ ساتھ میرا سمجھنا ہے کہ دوسرے زاویوں سے بھی معاملے کو دیکھنا چاہئے۔۔۔۔۔ مَیں آپ کی توجہ ایک انتہائی اہم نُکتے کی طرف دلاتا ہوں۔۔۔۔۔ کارل پوپر ایک امیریکن فلاسفر تھا۔۔۔۔۔ یہ فلاسفر اپنے ایک پیراڈوکس کی وجہ سے مشہور ہے جو اُس کی کتاب اوپن سوسائٹی اینڈ اِٹس اینیمیز میں تھا۔۔۔۔۔ وہ پیراڈوکس کچھ یوں ہے۔۔۔۔۔

Paradox of tolerance

The paradox of tolerance was described by Karl Popper in 1945. The paradox states that if a society is tolerant without limit, their ability to be tolerant will eventually be seized or destroyed by the intolerant. Popper came to the seemingly paradoxical conclusion that in order to maintain a tolerant society, the society must be intolerant of intolerance.

بلیک شیپ صاحب ….اس تھریڈ میں بحث یہ ہے کہ سیاستدان اور فوج والے اپنی طاقت کیسے دکھاتے ہیں …یا ان کی طاقت کا منبع کیا ہے آئیڈیل ہوکر سوچا جاۓ ظاہر ہے کوئی بھی غنڈہ گردی کی حمایت نہیں کرے گا …لیکن آپ ہی نے تو اتنی بار لکھا ہے کہ طاقت کی اپنی نفسیات ہوتی ہے …اور میں سمجھتا ہوں کہ ہر طاقتور اپنی طاقت کا تحفظ کرنا چاہتا ہے

فوج اور الطاف کو آپ بڑا بدمعاش چھوٹا بدمعاش کہ سکتے ہیں …فوج الطاف کو سرنگوں کرنا چاہتی تھی اور نوے کی دہائی کے آپریشن اسی سلسلے کی کڑی تھے …آپ نے کہا کہ کوئی ریاست یہ برداشت نہیں کرسکتی کہ واحد بندرگاہ کو ایک مقامی ”غنڈہ” جب مرضی بند کردے …آپ شاید یہ لکھنا چاہ رہے تھے کہ فوج یہ برداشت نہیں کر سکتی تھی …کیونکہ سیاسی جماعتیں اب ایم کیو ایم کی عادی ہوچکی تھیں …انہیں الطاف سے کوئی مسئلہ نہیں تھا …اور ویسے بھی مشرف دور میں امن رہا ہے …نواز کے پانچ سال بھی برے نہیں گزرے …پی پی کے دور میں ان کی آپس کی رسہ کشی نے امن و امان کا کچھ مسئلہ پیدا کیا تھا …لہذا کراچی کہاں ہر روز بند ہوتا تھا …

الطاف کا خیال تھا کہ مشرف دور میں اس کی فوج سے صلح ہوچکی تھی …لیکن ایسا نہیں تھا ..فوج کے لیے وہ ہمیشہ سے ناقابل قبول تھا …لہذا راحیل شریف اور باجوہ دونوں کے ادوار میں ایم کیو ایم کے پیچ کسے گئے …الطاف کواپنی زبان پر قابو نہیں اور حالات زیادہ خراب ھوئے

لیکن میں دو بدمعاشوں کی لڑائی میں فوج کی سپورٹ کیسے کرسکتا ہوں …کیونکہ فوج الطاف سے بھی بڑے پیمانے پر بدمعاشی کرتی ہے …مخالف خبر لگانے پر اغوا اور پھر قتل ….کبھی صرف وارننگ …چینلز پر پابندی کہ میر شکیل کو بھی گھٹنے ٹیکنے پڑے …اب تو میڈیا کا کام صرف یہ رہ گیا ہے کہ آئ ایس پی آر کی پریس ریلیز کو مصدقہ خبر کے طور پر نشر کیا جاتا ہے …کوئی پوچھتا نہیں کہ قومی اسمبلی کے ممبران محسن داوڑ اور علی وزیر نے واقعی پولیس چوکی پر حملہ کیا تھا

صرف الطاف کو ہی قصوروار کیوں گردانا جاۓ کہ اس نے میڈیا کو یرغمال بنایا ہوا ہے؟

وہ کہتا ہے کہ میڈیا عمران کی سارا دن کوریج کرتا تھا مگر الطاف کو کوئی لفٹ نہیں کرواتا …لہذا اس نے بلیک میلنگ والا حربہ اپنایا ….یہاں صحیح غلط کی بات نہیں ہورہی صرف یہ کہ طاقتور اپنی طاقت استعمال کرنا جانتا ہے

میں الطاف کی سپورٹ اس لیے کرتا ہوں کہ وہ بہرحال ووٹ لے کر آتا تھا …اور جمہوریت میں واحد اصول یہی ہے کہ اکثریت کا فیصلہ ماننا پڑتا ہے لیکن لازمی نہیں کہ فیصلہ درست ہو …اگر کراچی والے اس سے اتنا ہی تنگ تھے تو اسے ووٹ کیوں دیتے تھے …میں ذاتی طور پر شاید کراچی میں گزارا نہ کرسکوں مگر اکثریت کے لیے الطاف اور اس کی سیاست قابل قبول تھی

میرا خیال نہیں کہ وسعت الله نے یہ کہا ہے کہ الطاف کا مینڈیٹ جعلی تھا ..اس کی باقی باتیں شاید ٹھیک ہیں …الطاف کے زوال میں اس کا اپنا بھی ہاتھ ہے

Navigation