طاقت

Home Forums Siasi Discussion طاقت طاقت

#33
blacksheep
Participant
Offline
  • Professional
  • Threads: 15
  • Posts: 1877
  • Total Posts: 1892
  • Join Date:
    11 Feb, 2017
  • Location: عالمِ غیب

Re: طاقت

سلیم رضا ….یہ کیسا جبر ہے کہ ضمنی الیکشن میں ہر پولنگ پر سینکڑوں کیمروں کی موجودگی میں بھی دبے ایم کیو ایم کے ووٹوں سے بھرے نکلتے ہیں …آپ کب تک جماعتی پروپیگنڈے سے متاثر رہیں گے

قرار صاحب۔۔۔۔۔

کیا وسعت اللہ خان بھی جماعتی پروپیگنڈے کے زیرِ اثر ہے۔۔۔۔۔

الطاف حسین: ایک پپی اِدھر ایک پپی اُدھر

کیا آپ کو نہیں لگتا کہ کبھی کبھار ہم جیسے لبرل قسم کے لوگ انسانی حقوق وغیرہ کی جنگ میں اِس قدر اندھے ہوجاتے ہیں کہ دھونس دھمکی تشدد قتل و غارت کے دوبارہ اِجراء کرنے کو بھی تیار رہتے ہیں۔۔۔۔۔ کیا آپ نہیں سمجھتے کہ یہ ہمارا ایک شدید قسم کا تعصب ہے۔۔۔۔۔

آپ بخوبی جانتے ہیں کہ عاصمہ جہانگیر کو مَیں کتنا پسند کرتا ہوں۔۔۔۔۔ عمومی طور پر وہ ایک آئیڈلسٹ عورت تھی۔۔۔۔۔ ساتھ ساتھ مَیں عاصمہ کے کچھ اقدامات پر تنقید بھی کرتا ہوں کہ حقیقی دُنیا میں شاید ایسا ممکن نہ ہوسکے گا جیسا وہ چاہتی تھیں۔۔۔۔۔ الطاف حُسین کی تقاریر کے نشر کرنے پر پابندی ایک ایسا ہی نکتہ تھا جس کے بارے میں، مَیں سمجھتا ہوں کہ عاصمہ جہانگیر کو اِس معاملے میں نہیں پڑنا چاہئے تھا۔۔۔۔۔ الطاف حُسین نے تشدد دھونس دھمکی کے ذریعے ٹی وی چینلز کو مجبور کئے ہوئے تھا کہ اُن کو براہِ راست بغیر کسی وفقہ کے شروع سے آخر تک گھنٹوں طویل خطاب دکھانا پڑتا تھا۔۔۔۔۔ دُنیا کی ذرا بھی کوئی مضبوط سی ریاست یہ برداشت نہیں کرسکتی کہ اُس ریاست کا مالیاتی مرکز، واحد بندرگاہ ایک شخص کے نوٹس پر بند ہوجائے۔۔۔۔۔ مَیں یہاں قطعاً یہ نہیں کہہ رہا کہ ایم کیو ایم کو یا ایم کیو ایم کے کارکنوں کو ہڑتال کرنے کا کوئی حق نہیں ہے بلکہ میرے کہنے کا مقصد یہ ہے کہ اگر ہڑتال کرنی ہے تو شوق سے کرو گھر بیٹھو لیکن تشدد کو بیچ میں نہ لاؤ کہ زبردستی دُکانیں بند کروائی جائیں یا بَسیں جلائی جائیں۔۔۔۔۔ لیکن کراچی میں ایسا نہیں ہوتا تھا۔۔۔۔۔ وہاں ایم کیو ایم کی ہڑتال کا مطلب یہ ہوتا تھا کہ اگر کوئی ٹرانسپورٹر اپنی بَسیں روڈ پر لے آیا تو وہ بَسیں تھوڑی دَیر ہی میں انتقال فرما جانی ہیں۔۔۔۔۔ بلکہ ہڑتال سے ایک دن پہلے شام سے ہی یہ سلسلہ شروع ہوجاتا تھا۔۔۔۔۔ کم و بیش ہر صحافی ایم کیو ایم سے ڈرتا تھا کہ اگر ذرا بھی الطاف بھائی یا ایم کیو ایم کے خلاف لکھ دیا تو نتائج کیا ہوں گے۔۔۔۔۔ ابھی آپ نے ایک دو دن پہلے ہی کہا کہ آپ کسی ایسے ملک میں نہیں رہنا چاہیں گے جہاں لکھنے بولنے کی آزادی نہ ہو۔۔۔۔۔ کیا آپ الطاف بھائی کی حکمرانی والے کراچی میں رہ سکتے ہیں۔۔۔۔۔

مَیں ہوا، آپ ہوئے یا ہمارا یہ لبرل گروپ فری اسپیچ پر بہت زیادہ زور دیتا ہے۔۔۔۔۔ اور مَیں واقعی فری اِسپیچ کے حق میں ہوں۔۔۔۔۔ لیکن ساتھ ساتھ میرا سمجھنا ہے کہ دوسرے زاویوں سے بھی معاملے کو دیکھنا چاہئے۔۔۔۔۔ مَیں آپ کی توجہ ایک انتہائی اہم نُکتے کی طرف دلاتا ہوں۔۔۔۔۔ کارل پوپر ایک امیریکن فلاسفر تھا۔۔۔۔۔ یہ فلاسفر اپنے ایک پیراڈوکس کی وجہ سے مشہور ہے جو اُس کی کتاب اوپن سوسائٹی اینڈ اِٹس اینیمیز میں تھا۔۔۔۔۔ وہ پیراڈوکس کچھ یوں ہے۔۔۔۔۔

Paradox of tolerance

The paradox of tolerance was described by Karl Popper in 1945. The paradox states that if a society is tolerant without limit, their ability to be tolerant will eventually be seized or destroyed by the intolerant. Popper came to the seemingly paradoxical conclusion that in order to maintain a tolerant society, the society must be intolerant of intolerance.

  • This reply was modified 4 days ago by  blacksheep.

Navigation