Is Monogamy natural?

Home Forums Science and Technology Is Monogamy natural? Is Monogamy natural?

#20
اَتھرا
Participant
Online
Thread Starter
  • Advanced
  • Threads: 5
  • Posts: 148
  • Total Posts: 153
  • Join Date:
    9 Sep, 2018
  • Location: sydney

Re: Is Monogamy natural?

شکریہ اتھرا صاحب، ایک اچھا اور اچھوتا موضوع ہے اس فورم کے لئے- اس موضوع پر سیر حاصل گفتگو کے لئے مذہبی قید سے کچھ دیر کے لئے آزاد ہونا ضروری ہے اور انسانی ضروریات ، بقا، ارتقا اور معاشرت اوراق کھنگالے جاسکتے ہیں میرے خیال میں اس موضوع کے جائزے کے لئے مرد اور عورتوں کے درمیان رشتہ کی فطری ضرورت کا جائزہ لینا ضروری ہے جو کہ جنسی تسکین ہے قدرت نے اس تسکین میں نسل انسانی کی بقا کا سامان رکھ دیا ہے جو کہ جنسی عمل کا بظاہر ایک ضمنی نتیجہ ہے روایتی طور پر مرد جنسی تسکین چاہتا ہے جبکہ خواتین اس تسکین کے بدلہ میں معاشی اور معاشرتی تحفظ بھی حاصل کرتیں ہیں مرد اپنی فطرت میں بلکل بھی ایک پارٹنر کے لئے نہیں بنا ہوا نہ وہ ایسا چاہتا ہے- مرد کو اگر مواقع میسر ہوں تو اس سے ایک پارٹنر کے ساتھ منسلک رہنے کی امید عموما غلط ثابت ہوگی- پچھلے ساٹھ ستر سالوں میں خواتین کی حقوق کی تحاریک زور پکڑ گئیں ہیں جیسے جیسے خواتین کو زندگی کے ہر شعبه میں اپنی برابری منوانے کا شعور آرہا ہے مردوں کو ہر میدان میں چیلنج کررہی ہیں اور اس اہم معاشرتی میدان میں بھی وہ اپنے پارٹنر کی شراکت داری قبول کرنے کے لئے تیار نہیں ہیں لےہذا وہ بیک وقت اپنے مرد ساتھی کی ایک سے زیادہ پارٹنر کو برداشت نہیں کرسکتیں- مرد میرے خیال میں کبھی بھی اس کشادہ دلی کا مظاہرہ اپنی شریک کے لئے کرنے کے لئے تیار نہیں ہے جسکا وہ خود کو حقدار سمجھتا ہے درج بالا بحث سے یہ نتیجہ اخذ کیا جاسکتا ہے کہ ایک ہی پارٹنر کے ساتھ منسلک رہنا ایک قدرتی اور فطری امر کم سے کم مردوں کے لئے نہیں ہے یہاں ایک سوال اور پیدا ہوتا ہے کہ اگر قدرتی اور فطری طور پر انسان ایک سے زائد جنسی پارٹنر کے لئے بنا ہے تو اس کے نتیجہ میں جنسی بیماریاں کیوں پھیلتی ہیں اور قدرتی طور پر اسکا سد باب کسطرح ہوتا ہے ؟ ایک سوال یہ بھی پیدا ہوتا ہے کہ ایک سے زائد پارٹنر رکھنے پر انسانوں میں کیا حسد اور رشک کا جذبہ پیدا ہوتا ہے؟ اگر ہوتا ہے تو کیوں ہوتا ہے جبکہ یہ ایک فطری عمل ہے ؟

شکریہ پروٹوکول صاحب

گو کہ آپ نے ایک مرد کے نکتہ نظر سے ہی موضوع سے رجوع کیا ہے لیکن پھر بھی مجھے آپ کے کافی نکات سے اتفاق ہے، لیکن رشتے کی نوعیت کیا صرف جنسی تسکین اور بقا پر ہی ہے یا کوئی اور جذبہ کوئی اور ضرورت بھی لا شعور میں ہوتی ہے یا ہو سکتی ہے؟ کسی سے بات کرنے کی ضرورت/خواہش یا تکمیلَ ذات کی تلاش وغیرہ کا بھی کچھ حصہ ہو سکتا ہے؟

آپ نے خواتین کے ساتھ کچھ زیادتی نہیں کر دی ان کی ضرورت کو صرف تحفظ کے کھاتے میں ڈال کر؟

میرے خیال میں تو حسد و رشک کا محرک محرومی ہوتی یا پھر احساسَ ملکیت، آپ کیا کہتے ہیں

میرا نہیں خیال کہ یہ صرف موقع ملنے کی بات ہے، مشاہدہ یہ بتاتا ہے کہ ایک اچھی خاصی تعداد موقع نہ بھی ملے تو ڈھونڈ لیتی ہے

جب اپ کشادہ دلی کی بات درمیاں میں لاتے ہیں تو میرا خیال ہے آپ اس کو صرف مردانگی یا طاقت سے جوڑ دیتے ہیں

جنسی بیماریاں پھیلنے کی ایک وجہ شائد یہ بھی ہو کہ جنسی تسکین کا حصول ایک حیوانی جبلت ہے اور جب موقع میسر ا گیا تو پھر کفر کرنے کیلئے شعور کی ہمراہی ضروری ہوتی ہے جبکہ ٹانگوں کے درمیان جو گھوڑا یا گھوڑی ہے وہ چاہتے ہیں کہ کبھی کبھی ہمیں تنہا بھی چھوڑ دے

:bigsmile:

  • This reply was modified 4 days, 14 hours ago by  اَتھرا.

Navigation