سوال پوچھنے کی جسارت اور جواب دینے کی عاجزانہ اور مودبانہ گزارش

Home Forums Siasi Discussion سوال پوچھنے کی جسارت اور جواب دینے کی عاجزانہ اور مودبانہ گزارش سوال پوچھنے کی جسارت اور جواب دینے کی عاجزانہ اور مودبانہ گزارش

#11
JMP
Participant
Offline
Thread Starter
  • Professional
  • Threads: 154
  • Posts: 2977
  • Total Posts: 3131
  • Join Date:
    7 Jan, 2017

Re: سوال پوچھنے کی جسارت اور جواب دینے کی عاجزانہ اور مودبانہ گزارش

نمبر ایک) عمران خان پاکستان کے وزیر اعظم ہیں،پاکستان ہمارا ہے، اس کا دنیا میں با وقار ہونا،باعزت قوموں میں سربلند ہونا ہمارا خواب ہے۔وزیر اعظم پاکستان پاکستانی قوم کا نمائیدہ ہے۔۔جیسے بھی ہوا اس کے سر پر پاکستان کی پگ ہے۔ اس پگ کا دنیا احترام کرے ہمارا مطمع نظر ہونا چاہیئے،اگر ایسا ہی ہے تو اختلافات کے باوجود ہمیں خود اپنے وزیر اعظم کو عزت دینا ہوگی۔ویسی ہی عزت جس کا تقاضا ہم پی ٹی آئی سے نواز شریف کے لئے کرتے تھے۔اگرچہ ان کا رویہ نہایت منفی تھا لیکن ہمیں ایسے بچگانہ طرز عمل سے پرہیز کرنا ہوگا۔ نمبر دو) ملک کی ترقی ہی ہمارا مقصد ہے اورہونا چاہیئے،اس مقصد کے لئے سیاسی حمایت کے ساتھ ساتھ سیاسی مخالفت بھی بہت ضروری ہے۔مثبت اپوزیشن حکومت کو راہ راست پر رکھنے کے لئے بہت ضروری ہے۔ لیکن مخالفت برائے مخالفت تعمیری اپوزیشن نہیں ہوتی، پی ٹی ائی طرز کی اپوزیشن جس سے ملکی نظام معطل ہو کر رہ جائے ۔ معیشت تباہ ہو جائے۔ صنعت کا پہیہ رک جائے ملک غیر یقینی صورت حال کا شکار رہے،کسی طور بھی ملکی مفاد میں نہیں ہے۔ نمبر تین) میرے خیال میں موجودہ حکومت ملک کے لئے بہتر ہے۔ اس لئے کہ جو ملک میں جو ماحول بن گیا تھا یا بنا دیا گیا تھا اس کے لئے پی ٹی آئی کا اقتدار میں آنا ہی بہتر تھا۔ اگر نہ آتی تو ملک اسی دلدل میں پھنسا رہنا تھا۔ لیگی حکومت کو جیسے عضو معطل بنا کر رکھ دیا گیا تھا۔ جس انداز میں روڑے اٹکائے جا رہے تھے۔ اگر وہی پھر آ جاتے تو مزید خرابی تھی۔ لہذا بہتر ہوا کہ بڑے بڑے دعوے کرنے والے اقتدار میں ہیں۔ن لیگ نے بہت کام کیا مگر عمران کے دعوے جو کئے گئے اور خواب جو دکھلائے گئے، ان کاموں سے بہت بلند ہیں۔ انہیں شہباز اور نواز کی کارکردگی سے بہت بڑھ کر کرنا ہوگا۔ اگر کر گئے تو بہت اچھی بات ہے کہ ملکی ترقی اور عوام کی بہتری کی ہی سب کو خواہش ہے۔ اگر نہ کر سکے تو عوام ان کی صلاحیتوں سے آگاہ ہو جائیں گے۔ پھر ان کے پاس یہ عذر نہیں ہوگا کہ وفاقی حکومت ان کی نہیں تھی۔ پھر عوام کو فیصلہ کرنے میں آسانی ہوگی کہ اگلے الیکشن میں کسے چنا جائے۔ نمبر چار) جی بالکل اگر موجودہ حکومت اپنی مدت میں ملک کو نواز دور سے بہتر ترقی کی راہ پر گامزن کرنے میں کامیاب ہو گئی تو ضرور حمایت کریں گے۔ لیکن یہ نہیں سنا جائے گا کہ پانچ سال کچھ کرنے کے لئے بہت تھوڑے ہیں کیونکہ تین بار وزیر اعظم بننے کے باوجود ایک بار بھی پانچ سال پورے نہ کر سکنے والے نواز شریف نے ملک کے لئے جتنا کچھ کیا کبھی بیس ماہ، کبھی تیس ماہ اور کبھی چار سال کی محدود مدت اور افراتفری کی صورت حال میں میں کیا ہے۔ نمبر پانچ)میرے خیال میں ابھی اس مختصر عرصے میں پی تی آئی قیادت خود کو یقین دلانے کی کوشش کر رہی ہے کہ واقعی ہمیں حکومت مل گئی ہے۔ سوچ رہے ہیں کہ کہیں یہ خواب تو نہیں اور حقیقت کا تعین کرنے کے لئے آئے روز کوئی نہ کوئی بونگی کسی وزیر کی طرف سے چھوڑ دی جاتی ہے۔ جس پر میڈیا کی دکانداری چل رہی ہے۔ خان صاحب نے تین ماہ کی بات کی ہے انہیں یہ تین ماہ ہنی مون کی طرح گذارنے دیں۔ تب بات کریں گے۔ یہ اس عمر کی سوچ ہے جب جوش پر ہوش غالب آ جاتا ہے ۔ لیکن گرم خون کے اپنے تقاضے اور اپنے جذبات ہوتے ہیں جن کے آگے کوئی وعض، کوئی نصیحت بند نہیں باندھ سکتی۔ پی ٹی آئی نے اپنے تمام سیاسی مخالفین کے ساتھ جس حسن اخلاق کا مظاہرہ کیا تھالگتا ہے ان کی طرف سے اسی انداز اور اسی گرم جوشی سے انہیں لوٹایا جائے گا۔

shahidabassi sahib

Abdul jabbar sahib

محترم جبار صاحب

معافی چاہتا ہوں کے آپ کو مخاطب نہ کر سکا

ویسے آپ بھی محترم شاہد عباسی صاحب کی طرح ہی مثبت سوچ اور میانہ روی کے پیکر ہیں

اپنا وقت نکلانے کا، اپنی راۓ دینے کا اور عزت افزائی کا بھرپور شکریہ

  • This reply was modified 5 days, 2 hours ago by  JMP.

Navigation