سوال پوچھنے کی جسارت اور جواب دینے کی عاجزانہ اور مودبانہ گزارش

Home Forums Siasi Discussion سوال پوچھنے کی جسارت اور جواب دینے کی عاجزانہ اور مودبانہ گزارش سوال پوچھنے کی جسارت اور جواب دینے کی عاجزانہ اور مودبانہ گزارش

#9
JMP
Participant
Offline
Thread Starter
  • Professional
  • Threads: 169
  • Posts: 3199
  • Total Posts: 3368
  • Join Date:
    7 Jan, 2017

Re: سوال پوچھنے کی جسارت اور جواب دینے کی عاجزانہ اور مودبانہ گزارش

محترم عمران خان صاحب کس ملک کے وزیر اعظم ہیں پاکستان کے لیکن ایسا بچگانہ سوال پوچھنے کی وجہ کیا ملک کی ترقی ہمارا مقصد ہے یا ہمارا مقصد سیاسی حمایت یا سیاسی مخالفت ہے ملک کی ترقی کیا ہمیں یقین ہے کے موجودہ حکومت ملک کے لے بہتر ہے. اگر ہے تو کیوں اور اگر نہیں تو کیوں نہیں ہاں یقین ہے لیڈر صادق اور امین ہے اداروں کو مضبوط کرنے والا ہے اگر موجودہ حکومت اپنی مدت میں ملک کو ترقی کی راہ پر گامزن کرنے میں کامیاب ہو گئی تو کیا ہم اسکی حمایت کریں گے اور اگر نہیں کر سکی تو کیا ہم اسکی حمایت چھوڑ دیں گے جی بلکل .لیکن ترقی کی راہ پر گامزن کرنا پانچ سالوں میں بہت مشکل ہے میرے نزدیک اچھے اقدامات نظر آنے چاہییں یہی کافی ہے اس حکومت نے پچھلے تین ہفتوں میں کیا اچھے اقدام کئے ہیں اور کیا غلط اقدام کئے ہیں سابق حکمرانوں جیسی شاہ خرچیاں دوبارہ ہونے کا راستہ بند کیا فارن پالیسی مربوط کی کرپشن کے خلاف اقدامات کیے نورا ای سی ایل میں ، زرداری پھندے میں دیگر تمام مسائل کی زبردست پلاننگ

Shah G sahib

محترم شاہ جی صاحب

بہت بہت شکریہ کے آپ نے وقتنکال کر اپنی راۓ سے نوازا. انتہائی مشکور ہوں

اس محفل میں تین چار معزز ہستیوں سے کوئی دس سالوں سے شناسائی ہے اور وہ جانتے ہیں کے میری باتیں اکثر بچکانہ اور بے معنی ہوتی ہیں لہٰذا وہ اب کنی کتراتے ہیں. آپ کو بھی جلد اندازہ ہو جاۓ گا

پہلے دن سے دیکھا کے خان صاحب پر بہت لوگ بہت تنقید کر رہے تھے اور تنقید کرنے والے پاکستانی تھے مگر مجھے ایسا لگ رہا تھا کے ہم کسی دشمن ( گو میں کسی بھی ملک کو ذاتی طور پر نہ دشمن سمجھتا ہوں نہ دوست ) ملک کے وزیر اعظم پر تنقید کر رہے ہیں اور اکثر بلاوجہ . لہٰذا اپنے ہی شک کو دور کرنے کے لئے پہلا سوال پوچھ لیا . پھر غور کیا تو احساس ہوا کے چونکہ لوگ بھی پاکستانی ہیں اور وزیر اعظم صاحب بھی پاکستانی لہٰذا اپنے ہی ملک کے وزیر اعظم پر تنقید کرنے کا حق تو ہے . مگر کیا پنے ہی ملک کے وزیر اعظم کی مثبت بات کی تعریف کرنا ہماری ذمے داری اور وزیر اعظم کا حق نہیں

دوسرے سوال کا مقصد بھی یہ اندازہ لگانا تھا کے ہم بس تنقید براۓ تنقید کر رہے ہیں یا ہم صدق دل سے چاہتے ہیں کے پاکستان ترقی کرے. ذاتی طور پر میرا مشھائدہ یہ ہے کے کسی مخالف سیاسی جماعت کے رہنما پر تنقید کرنا یا اپنی حمایت یافتہ سیاسی جماعت اور رہنما کی صرف تعریف کرانا ہمارا بنیادی عمل ہے. میرا مشھائدہ غلط ہو سکتا ہے مگر میری نظر میں ایسا ہی ہے

تیسرے سوال کا مقصد یہ تھا کے ہم اپنی مخالفت براۓ مخالفت اور اندھی تقلید کو بالاۓ طاق رکھ کر دیکھیں اور سوچیں کے کیا وجوہات ہیں جو ہمیں موجودہ حکومت اچھی لگ رہی ہے یا نہیں . جب تک کسی بات کے پیچھے کوئی دلیل ، کوئی شواہد ، کوئی دیانت دارانہ ( ایک زہین شخص کے الفاظ استعمال کر رہا ہوں ) سوچ نہ ہو بات کچھ بے پرکی سی لگتی ہے

چوتھے سوال کا مقصد بھی یہ تھا کے کیا ہماری سوچ منصفانہ، مدلل، دیانت دارانہ اور مثبت ہے یا نہیں. کیا ہم میں اتنی دیانت داری ہے کے اچھے کو اچھا اور برے کو بغیر کسی ذاتی پسند یا نا پسند کے اچھا یا برا کہہ سکیں

پانچواں سوال اس لے پوچھا تھا کے جان سکوں کے تنقید سے پہلے یا تعریف سے پہلے ہم نے کچھ دیکھا، کچھ جانچا ، کچھ سوچا یا میدان عمل میں ایسے ہی کود پڑے

اس بات کو کہنے میں کوئی جھجھک نہیں کے ایک مفروضہ کو پرکھنے کے لئے تجربہ کیا تھا اور صدق دل سے دعا کر رہا تھا کے میرا مفروضہ غلط ثابت ہو مگر ایسا نہیں ہوا

ایک بار پھر آپکی راۓ اور مثبت جوابوں کا بے انتہا شکریہ

میں متاثر ہوا اور ممنون بھی

املا کی غلطیاں اکثر کرتا ہوں اور اس پر معذرت خواہ ہوں

Navigation