عمران کا قوم سے خطاب

Home Forums Siasi Discussion عمران کا قوم سے خطاب عمران کا قوم سے خطاب

#221
Zinda Rood
Participant
Offline
  • Advanced
  • Threads: 8
  • Posts: 799
  • Total Posts: 807
  • Join Date:
    3 Apr, 2018
  • Location: NorthPole

Re: عمران کا قوم سے خطاب

گزشتہ سے پیوستہ۔۔۔

لوگوں کو متذبذب دیکھ کر لمبے قد والے شاطر شخص نے اگلا وار کیا۔۔

۔۔ لوگو۔۔! ذرا سوچو، تم صبح اٹھتے ہو، سارا دن کام کرتے ہو، پیٹ کا سامان کرتے اور پھر رات کو سو جاتے ہو، پھر اگلے دن یہی کام کرتے ہو، اور پھر یہی کرتے کرتے ایک دن مرجاتے ہو، کیا تمہارے ذہن میں کبھی سوال نہیں اٹھا کہ آخر تم اس دھرتی پر کیا یہی کچھ کرنے آئے ہو، تمہاری زندگی کا مقصد کیا ہے،  کیا تمہاری زندگی، تمہارا وجود فضول ہے، بے مقصد ہے۔۔ نہیں۔۔ نہیں۔ ایسا ہرگز نہیں ہے۔۔ تمہیں بدرے قصائی نے ایک مقصد کے لئے پیدا کیا ہے، اور اب وقت آگیا ہے کہ تمہیں بتایا جائے کہ وہ مقصد کیا ہے، تم اس دھرتی پر کیوں پیدا کیے گئے ہو۔۔۔ اور تم تک یہ پیغام پہنچانے کے لئے بدرے قصائی نے مجھے منتخب کیا ہے۔۔

۔۔یہ کہہ کر وہ شخص رکا کیونکہ مجمع سے ایک بزرگ شخص کھڑا ہوا، جس کے سفید بال، جھکے ہوئے کندھے اور چہرے پر لاتعداد آڑھی ترچھی جھریاں اس بات کا پتا دے رہی تھیں کہ وہ حوادثِ زمانہ جھیلتے جھیلتے تھک چکا ہے، وہ بدرے قصائی کے نمائندہ ہونے کے دعویدار کی طرف دیکھتے ہوئے آہستہ آہستہ بولنے لگا۔۔

۔۔ایک زمانہ ہوا مجھے اس دھرتی پر خوار ہوتے ہوئے،  میری گزرتی عمر کے ہر ماہ و سن کے ساتھ اس سوال نے مجھے بہت تنگ کیا ہے کہ میں کون ہوں، کہاں سے آیا ہوں، اور مرنے کے بعد کہاں جاؤں گا۔ اپنی اس طویل عمر میں دنیا کا کون سا دکھ ہوگا جو میں نے نہیں جھیلا۔ میں ملکوں ملکوں پھرا ہوں، میں نے لوگوں کو بلاوجہ جنگوں میں مرتے دیکھا ہے، معمولی معمولی باتوں پر ایک دوسرے کا گلا کاٹتے دیکھا ہے، لوگ ہمیشہ سے ایک دوسرے کے خون کے پیاسے رہے ہیں، انہیں صرف لڑائی کا، مرنے مارنے کا کوئی جواز چاہیے، جو انہیں بڑی آسانی سے دستیاب ہوجاتا ہے، پھر ان کی میانوں سے تلواریں نکل آتی ہیں، نیزے سیدھے ہوجاتے ہیں، تیر کمانوں پر چڑھ جاتے ہیں اور پھر انسانی خون کی بارش ہوتی ہے،لاشے تڑپتے ہیں، بلکتے ہیں، سسکتے ہیں، اور انسانوں کی خون کی پیاس پھر بھی نہیں بجھتی۔۔ یہ سلسلہ تب سے جاری ہے جب سے یہ سورج ہے، چاند ہے ، اور انسان ہے۔میں نے بہت سوچا، یہ میرے سر پر جلتی ہوئی بتی دیکھ رہے ہو (بوڑھے نے اپنے سر کی طرف انگلی کا اشارہ کرتے ہوئے کہا)، یہ اتنی جلی ہے، اتنی جلی ہے کہ اس کی روشنی ماند پڑگئی ہے، میں نے بہت سوچا ہے، میری آدھی سے زیادہ زندگی سوچنے میں صرف ہوئی ہے، آخر کیا وجہ ہے کہ انسان ایک دوسرے کو دکھ پہنچاتے ہیں، وہ ہمیشہ ایک دوسرے کے لئے اذیت کا باعث بنتے ہیں، وہ ظالم ہیں، متعصب ہیں، کینہ پرور ہیں، سازشی ہیں، حسد کرتے ہیں، جھوٹ بولتے ہیں، دھوکہ دیتے ہیں، ایک دوسرے کا خون کرتے ہیں، ،وہ زمین کے ٹکڑے کے لئے لڑتے ہیں، دوسروں کا حق غصب کرتے ہیں، آخر اتنی شر انگیز مخلوق کہاں سے آئی، اس سرتاپا شر کو کس نے تخلیق کیا، یہ جاننا ہمیشہ سے میری تمنا تھی۔۔۔

۔۔بوڑھا تھوڑی دیر کے لئے سانس لینے کو تھما، مجمع دم سادھے اس کی گفتگو سن رہا تھا، بدرے قصائی کا مبینہ نمائندہ بھی پوری طرح متوجہ تھا۔بوڑھا تھوڑی دیر ہانپتا رہا، پھر بولا۔۔

۔۔ میں تمہارا احسان مند ہوں کہ تم نے آج ہمیں بتا دیا کہ انسان کو بدرے قصائی نے بنایا ہے، میں بدرے قصائی سے ملنا چاہتا ہوں، میں اس سے ملوں گا، ضرور ملوں گا، میرے من میں بہت سے سوال ہیں جو میں نے بدرے قصائی سے پوچھنے ہیں، صرف انسان کے متعلق ہی  نہیں، اس کائنات کے متعلق، دنیا میں ہر طرف  پھیلے ہوئے شر کے متعلق، اور معصوم جانوروں کے متعلق، جو ہر دم خونخوار درندوں کی خوراک بنتے رہتے ہیں، چلو ہمیں بدرے قصائی کے پاس لے چلو، ہمیں اس سے ملنا ہے۔۔۔

۔۔بوڑھا یہ کہہ کر اپنی جگہ سے ہلا، مجمع سے بھی شور بلند ہوا، ہاں، ہمیں بدرے قصائی سے ملنا ہے، چلو، چلو، بیٹھے ہوئے لوگ اٹھنے لگے۔۔ یہ دیکھ کر بدرے قصائی کا مبینہ نمائندہ ذرا سا بوکھلایا اور زور دار آواز سے چلایا۔۔۔۔

۔۔ ذرا ٹھہرو، میری بات سنو، بیٹھ جاؤ۔۔ بیٹھ جاؤ، میری بات سنو۔۔۔ یہ سن کر لوگ وہیں رک گئے اور بدرے قصائی کے مبینہ نمائندے کی طرف متوجہ ہوگئے۔۔ وہ بولا۔۔

۔۔ تم سب بدرے قصائی سے ضرور ملو گے، تمہیں ملنا ہی ہے، کیونکہ اسی نے تمہیں پیدا کیا ہے، مگر ابھی نہیں، تمہاری اس سے ملاقات اس وقت ہوگی جب تم مرجاؤ گے، تم میں سے جو جو مرجاتا ہے، وہ اسی وقت بدرے قصائی کے پاس پہنچ جاتا ہے۔۔ تم کیا سمجھتے ہو، تم اس دنیا میں سب کچھ کرنے کے لئے آزاد ہو، نہیں۔۔تم میں سے ہر شخص اپنے ہر عمل کا جواب دہ ہے، بدرا قصائی تمہارے ایک ایک عمل کا حساب رکھتا ہے، جب تم مرکر اس کے پاس واپس جاتے ہو تو وہ سارے اعمال تمہارے سامنے رکھ دیتا ہے، اس کے ہاتھ میں انتہائی تیز دھار والا ٹوکہ ہے، جس سے ہر وقت خون ٹپکتا رہتا ہے، بدرے قصائی کے دو لمبے لمبے دانت ہیں، جن سے وہ برے اعمال کرنے والوں کا خون پیتا ہے، جب تم مرنے کے بعد اس کے پاس پہنچو گے، وہ تمہارا حساب تمہارے سامنے رکھ دے گا، تم نے دنیا میں کیا کیا کیا، وہ سب تمہارے سامنے ہوگا، پھر بدرا قصائی اپنا ٹوکہ اٹھائے گا اور پہلے تمہارے ہاتھ کاٹے گا، پھر تمہارے پیر کاٹے گا، پھر تمہارا ایک ایک عضو کاٹے گا، تم تڑپوگے، چلاؤ گے، رؤگے، مگر وہ تمہیں نہیں چھوڑے گا،، پھر وہ اپنے لمبے نوکیلے دانت تمہارے سینے میں گاڑ دے اور تمہارا خون پیے گا۔  وہ تمہارا قیمہ بنادے گا، اور پھر تمہاری گردن کاٹے گا، اس کے بعد تم پھر زندہ ہوگے اور وہ ایک بار پھر تمہیں کاٹے گا، وہ ہمیشہ اسی طرح تم کو کاٹتا رہے گا اور تمہاری اذیت کبھی ختم نہ ہوگی۔۔ جب بدرا قصائی اپنا ٹوکہ اٹھا کر کسی کو کاٹتا ہے، تو اس کا چہرہ خوشی سے کھل اٹھتا ہے، تم نہیں جانتے، اسے سب سے زیادہ خوشی اس بات سے ملتی ہے کہ وہ کسی کو کاٹتا رہے، اور اپنے بڑے بڑے لمبے نوکیلے دانتوں سے تمہارا خون پیتا رہے۔۔ اے لوگو۔۔ میری بات مان لو۔۔ تم مرنے سے پہلے بدرے قصائی سے نہیں مل سکتے۔۔ 

۔۔اس پر مجمع میں شور سا اٹھا، کچھ لوگ خوفزدہ اور سہمے سہمے نظر آرہے تھے، جب کچھ لوگ اس کی باتیں ماننے سے بالکل انکاری تھے۔۔ ایک الجھے ہوئے بالوں والا باغی قسم کا نوجوان اٹھا اور گرج کر بولا۔۔

۔۔ہم تمہاری فضول باتوں پر یقین نہیں کرنے والے۔۔ اگر بدرا قصائی ہم سے نہیں مل سکتا تو تم سے کیسے ملا، تم نے مرنے سے پہلے کیسے اسے دیکھ لیا، اگر وہ تم سے مل سکتا ہے، بات کرسکتا ہے تو ہم سے کیوں نہیں۔۔۔اس پر بدرے قصائی کا مبینہ نمائندہ بولا۔

۔۔ لوگو۔۔  بدرے قصائی نے تمہیں اس دنیا میں ایک امتحان اور آزمائش کے لئے بھیجا ہے، اگر تم اسے ابھی دیکھ لو، اس سے مل لو تو امتحان کیسا، پھر تو تم فوراً اس پر ایمان لے آؤ گے اور اس کی ہیبت ناکی دیکھ کر اس کی ہر بات ماننے لگو گے، اس نے تم لوگوں تک اپنی بات پہنچانے کے لئے مجھے منتخب کیا ہے، وہ دیکھنا چاہتا ہے کہ تم میں سے کتنے لوگ اسے دیکھے بغیر، اس پر ایمان لاتے ہو، اس کی اطاعت اور فرمانبرداری کرتے ہو، جو لوگ اس کی اطاعت کریں گے، مرنے کے بعد وہ ان لوگوں کو کاٹے مارے گا نہیں، بلکہ ان لوگوں کے لئے اس نے بیش بہا انعامات رکھے ہیں، ان کو وہ سرسبز، پھلوں سےلدے ہوئے باغوں میں جگہ دے گا اور وہ ہمیشہ وہاں رہیں گے، اور جو لوگ اس  دنیا میں اس کی فرمانبرداری نہیں کریں گے، ان کو وہ ٹوکے سے کاٹے گا اور اپنے لمبے لمبے دانتوں سے ان کا خون پئے گا۔ اب یہ تم لوگوں پر منحصر ہے کہ تم اس پر ایمان لاتے ہو یا اس کا انکار کرتے ہو، آج بدرے قصائی نے مجھے صرف اتنا ہی پیغام پہنچانے کے لئے کہا ہے، بدرے قصائی کا بڑے پروں والا غلام میرے پاس اگلا پیغام لے کر آئے گا، کل پھر ہم سب یہاں جمع ہوں گے، تم اپنے اپنے گھروں کو جاؤ، میری باتوں پر خوب غور کرو، اور پھر فیصلہ کرو، یہ بات یاد رکھنا کہ بدرا قصائی انکار سننے کا عادی نہیں، وہ انکار کرنے والوں کو سخت سزا دیتا ہے۔۔

۔۔یہ کہہ کر لمبے قد والے شخص نے عجیب سے انداز سے آنکھیں بند کیں،سرجھکایا، تھوڑی دیر کچھ پڑھتا رہا اور پھر وہاں سے روانہ ہوگیا۔ اس کی باتوں سے مجمع میں کھلبلی مچ گئی تھی، کچھ لوگ جو مزاج سے کمزور  واقع ہوئے تھے، اس کی باتیں ماننے پر مائل نظر آتے تھے، جبکہ کچھ لوگ اس کی باتوں کو شک سے دیکھ رہے تھے اور تذبذب کا شکار تھے، جبکہ کچھ ایسے بھی تھے جو اسے کھلم کھلا جھوٹا اور دھوکے باز قرار دے رہے تھے۔۔

اس رات زوروں کا طوفان آیا، آندھی نے درختوں کو اکھاڑ پھینکا، تندوتیز بارش نے لوگوں کی کھڑی فصلیں تباہ کردیں، پورے علاقے کے  لوگ خوفزدہ اور سہمے ہوئے تھے۔۔ سب کے دلوں میں رہ رہ کر بدرے قصائی کا خیال آرہا تھا۔۔  پورے علاقے میں صرف بدرے قصائی کا مبینہ نمائندہ ہی تھا جو اپنے گھربیٹھامسرور انداز میں زیرِ لب کچھ گنگنا رہا تھا۔۔۔ 

۔۔(جاری ہے)۔۔ 

Navigation