Right to insult or offend

#21
Qarar
Participant
Offline
  • Professional
  • Threads: 80
  • Posts: 1811
  • Total Posts: 1891
  • Join Date:
    5 Jan, 2017

Re: Right to insult or offend

گھوسٹ پروٹوکول صاحب

آپ نے سب اچھے سوال اٹھائے ہیں …اور ان پر بحث ہونی چاہیے تاکہ فورم ممبران کا نقطہ نظر سامنے آئے اگرچہ فنڈو حضرات کی اس معاملے میں کیا پوزیشن ہے وہ پہلے ہی معلوم ہے …یعنی بقول غالب

میں جانتا ہوں وہ کیا لکھیں گے جواب میں

آپ نے کئی دفعہ بیشمار پاکستانیوں سے یہ سنا ہوگا کہ انڈیا سے صلح کی بات نہیں ہوسکتی کیونکہ وہ ہمارا دشمن ہے …. اگر آپ غور کریں تو یہ عجیب و غریب نقطہء نظر ہے …کیونکہ صلح ہمیشہ دشمنوں ہی سے کی جاتی ہے .. دوستوں سے صلح کرنے کی کیا منطق ہے؟

اسی طرح آپ نے یہ بھی سنا ہوگا کہ اظہار راۓ کی آزادی بلکل ہونی چاہیے مگر دوسرے مذاہب ، عقائد اور نظریات کا احترام کیا جانا چاہیے اور کوئی ایسی بات نہیں کہی جانی چاہیے جس سے کسی کی دل آزاری ہو

میرا ذاتی خیال ہے کہ اگر آپ نے رام کی پوجا بھی کرنی ہے اور محمد کو بھی سچا اور آخری نبی ماننا ہے …حسین کو بھی شہید کہنا ہے اور یزید کو بھی سلام کرنا ہے تو پھر آپ کو اظہار راۓ کی آزادی کی ضرورت ہی کیوں ہے؟ یعنی اگر سب کے متعلق اچھی اچھی باتیں کرنی ہے اور کسی کا دل بھی نہیں توڑنا تو پھر یہ بابرکت کام کرنے کے لیے کسی قسم کی آزادی مانگنے کی کوئی ضرورت نہیں ….اظہار کی آزادی کا بنیادی مقصد ہی یہ ہے کہ میں وہ باتیں کہنے اور لکھنے میں آزاد ہوں چاہے ان سے کسی فرد ، گروہ ..طبقے ..معاشرے ..ملک یا پھر ساری دنیا کے جذبات کو ٹھیس پونہچنے کا امکان ہو …کبھی کسی کی تعریف کرنے کے لیے بھی کوئی آزادی چاہیے ہوتی ہے؟ …آزادی تو چاہیے ہی اس لیے کہ ان باتوں سے سٹیٹس کو …کو چلینج دینا مقصود ہوتا ہے

آپ نے ایک دو دفعہ اپنے پرانے پوسٹس میں سوال اٹھایا تھا کہ کیا اظہار رائے کی آزادی کے نام پر مذہب کو گالیاں نکالنے کی اجازت ہونی چاہیے؟

میں آپ کو مثال دیتا ہوں کہ پاکستانیوں کو جب بھی کبھی یہ کہا جاۓ کہ وہ امریکیوں یا یورپی اقوام کی پیروی کرکے ترقی کرنے کی کوشش کیوں نہیں کرتے …تو جواب یہ ملتا ہے کہ کیا ہم بھی بے راہ روی کا شکار ہوجائیں اور پورن دیکھنا اور بنانا شروح ہوجائیں ..اور اخلاقیات کا جنازہ نکال دیں؟ اس کا جواب یہ ہے کہ امریکیوں اور یورپیوں نے ترقی پورن یا بغیر شادی کے تعلقات کی وجہ سے نہیں کی …صرف ایک غیر اہم چیز کو پکڑ کر دوسرے ہر میدان میں ان کی ترقی کو جھٹلایا نہیں جاسکتا

اسی طرح یہ بھی سمجھنا ضروری ہے کہ آزادی کی وجہ سے کچھ کچھ لوگ مذاہب کو گالیاں بھی نکالیں گے مگر خدا یا مذہب کو نہ ماننے والوں کی واضح اکثریت منطقی لحاظ سے مذاہب کی سرجری کرتے ہیں ..طنز کرتے ہیں ..بعض دفعہ مذاق بھی اڑاتے ہیں تو اسے گالی گلوچ نہیں کہا جا سکتا اور نہ ہی اس پر پابندی لگائی جاسکتی ہے

اگر فیس بک اور ٹویٹر اسلام کے خلاف مواد ہٹا دیتے ہیں تو اس کا یہ مطلب نہیں کہ وہ ایسے کرنے کو غلط سمجھتے ہیں …یہ دونوں کمپنیاں کاروبار کرتی ہیں ..اور گاہک چاہے دنیا کے کسی حصے میں بھی ہو ..وہ اسے ناراض نہیں کرنا چاہتے ..لہذا اکثر ممالک میں …کاروباری نقطہء نظر سے کیے گئے فیصلے اظہار راۓ کی آزادی کی حدود و قیود مقرر کرتے نظر آتے ہیں…شاید مکمل اظہار کی آزادی کہیں بھی نہیں ہے …صرف کہیں زیادہ ہے اور کہیں کم

میں سمجھتا ہوں کہ اظہار رائے کی آزادی کی ایک ہی حد ہونی چاہیے اور وہ یہ کہ آپ اپنی مکالموں اور تحریروں سے کسی دوسرے فرد یا گروہ کے خلاف ایسی نفرت کا پرچار نہ کریں کہ کسی کے جان و مال کو خطرہ ہو …مثال کے طور پر ..اگر ایک امریکی یہ لکھنا اور کہنا شروع کردے کہ مسلمان امریکہ میں نہیں رہ سکتے اور جو بھی مسلمان نظر آئے ، اسے سبق سکھایا جاۓ گا
ظاہر ہے یہ دوسروں کو اشتعال دلانے کے مترادف ہے اور نفرت انگیز شمار ہوگا اور اور اس حرکت کا مرتکب اظہار راۓ کی آزادی کے پیچھے نہیں چھپ سکتا …لیکن اس کے علاوہ ہر قسم کے اظہار کی آزادی ہونی چاہیے ..مغربی ممالک نے آزادی دینے کے ساتھ ساتھ ہتک عزت کے سخت قوانین بھی بنا رکھے ہیں جو اس بات کو یقینی بناتے ہیں کہ آپ بغیر ثبوت کسی پر الزام نہ لگائیں

مجھے یہ اعتراف کرنے میں بھی کوئی عار نہیں کہ لبرل طبقہ بھی اس معاملے میں بعض دفعہ فنڈو حضرات سے مختف نہیں …اس کی مثال یونیورسٹی آف کلیفورنیا (برکلی) ہے…یہ یونیورسٹی اظہار راۓ پر ایک عظیم ماضی رکھتی ہے …روایتی پابندیوں اور قدغنوں کے عروج میں یہاں ایسے لبرل لوگوں کو مدعو کیا جاتا تھا جوکہ اقلیت میں تھے ….تاہم آج کے زمانے میں جب کہ کلیفورنیا اور خاص طور پر اس یونیورسٹی میں لبرل ہی لبرل ہیں …یونیورسٹی انتظامیہ کی بارہا کوشش کے باوجود یہاں قدامت پسند مہمان آ نہیں پا رہے …جب بھی کسی ایسے ایونٹ کا اعلان ہوتا ہے …لبرل طلباء اور مقامی لوگ اس قدر احتجاج کرتے ہیں اور توڑ پھوڑ کرتے ہیں کہ انتظامیہ ایونٹ منسوخ کرنے پر مجبور ہوجاتی ہے ….اظہار راۓ کا مطلب صرف اپنی پسند کی بات سننا نہیں بلکہ مخالف نقطہ نظر کو سنننا اور سمجھنا بھی ہے چاہے وہ کتنا بھی نا خوشگوار ہی کیوں نہ ہو

Navigation