Right to insult or offend

#11
Ghost Protocol
Participant
Offline
Thread Starter
  • Professional
  • Threads: 93
  • Posts: 2666
  • Total Posts: 2759
  • Join Date:
    7 Jan, 2017

Re: Right to insult or offend

پروٹوکول صاحب! آپ کےسوالات کے جواب تو بلیک شیپ صاحب ہی دیں گے، مگر کچھ باتوں کی طرف میں آپ کی توجہ دلانا چاہتا ہوں۔ آپ نے صحیح اور غلط کی بات کی، میرے خیال میں صحیح اور غلط ریلٹیو ٹرمز ہیں، ہر معاشرے کا اپنا اپنا صحیح اور اپنا اپنا غلط ہوتا ہے، اسی طرح ایک فرد کا صحیح اور غلط دوسرے فرد کے صحیح اور غلط سے مختلف ہوسکتا ہے۔ آزادیِ اظہار کی حدود و قیود بھی معاشروں کے اپنے ہاتھ میں ہوتی ہیں، اگر معاشرے کے افراد کی اکثریت بلند ذہن، آسودہ حال، مطمئن اور برداشت کی حامل ہوگی تو وہ معاشرہ یقیناً اپنے لئے زیادہ سے زیادہ آزادی کا نہ صرف خواہش مند ہوگا بلکہ خود کیلئے یہ ممکن بھی بنانے کی کوشش کرے گا۔ دوسری طرف ایک ایسا معاشرہ جس کے افراد کی اکثریت پست ذہن، غیر مطمئن، معاشی طور پر ناآسودہ اور عدم برداشت کی حامل ہو، جہاں زبان سے زیادہ لات مکے سے بات کرنا معمول ہو، ایسا معاشرہ اپنی آزادی خود ہی سلب کرنے کا باعث بنے گا، ایسا معاشرہ خود پر قانوناً اور اخلاقاً گھٹن لاگو کرے گا، ایسے لوگ خود اپنے لئےتو سزا ہوتے ہی ہیں ساتھ اس اقلیت کے لئے بھی آزار کا باعث بنتے ہیں جو ان سے بلند ذہن اور بہتر برداشت کی حامل ہوتی ہے۔

آپ نے کہا کہ کیا آزادی اظہار کی حدود و قیود ہیں، اگر ہیں تو انہیں کون طے کرے گا۔ میرے خیال میں ہر معاشرہ اس کا تعین اپنے لئے خود کرتا ہے، اپنی حدود و قیود خود طے کرتا ہے، یہ ہر معاشرے کی اپنی اپنی برداشت اور ذہنی سطح پر منحصر ہے، ایک ایسا معاشرہ جس میں افراد کی اکثریت ذمہ دار ہو، بلند خیال ہو، وہ یقیناً اپنے اوپر کوئی قانونی و اخلاقی پابندی لاگو کرنا پسند نہیں کرے گا۔ اور معاشروں کے قانون اکثریت کی مرضی سے ہی طے ہوتے ہیں۔روون اٹکنسن نے جو باتیں کیں، وہ اس نے اپنے معاشرے کے حساب سے کیں، پاکستان جیسے معاشروں میں ایسی بحثوں کا تصور ہی نہیں، کیونکہ یہاں لوگ ابھی اس سطح پر نہیں پہنچے۔۔

روون کے نکتہ نظر سے مجھے بھی اتفاق ہے، سوائے آخری کے وہ بھی پاکستانی معاشرے کو مدنظر رکھتے ہوئے۔ ہیٹ سپیچ کی آزادی / لوگوں کو تشدد پر ابھارنے کی آزادی نہیں ہونی چاہئے، ہمارا معاشرہ مذہبی جنونیوں سے بھرا پڑا ہے اور کوئی بھی مذہب کے نام پر ان کو بڑی آسانی سے انسانی بموں میں تبدیل کرسکتا ہے، لہذا یہاں کسی کو آزادی نہیں ہونی چاہیے کہ وہ اٹھ کر لوگوں کو تشدد پر اکسانا شروع کردے۔۔۔

زندہ رود صاحب ،کافی جامع تبصرہ کیا ہے آپ نے
آپ کی اس بات کو آگے بڑھاتے ہوے کہ ہر معاشرے کی اپنی اقدار اور حدود و قیود ہوتی ہیں کیا آپ کو نہیں لگتا کہ آج کل کے ٹیکنالوجی اور معاشی / سیاسی ہجرتوں دور میں مختلف معاشروں اور انکی اقدار کا ایک دلچسپ ملغوبہ تیار ہورہا ہے
مثال کے طور پر برقع اور نقاب کا استعمال مغربی معاشروں میں مسلم خواتین کی ایک بہت قلیل تعداد کا مسلہ ہے اور یہ کئی دھائیوں سے جاری بھی ہے مگر شاید کئی دھائیوں کی ناگواری کو برداشت کرکے مغربی معاشرے ان پر قانون سازی کرکے رد عمل کا اظھار کررہے ہیں یہ مہم کامیاب بھی نظر آرہی ہے عوام میں بظاہر اسکی مقبولیت بھی ہے میرے خیال میں یہ مکھی کو توپ سے مارنے کے مترادف ہے اور فرد کی اپنے لباس کے چناؤ کی آزادی کے خلاف ہے اس قسم کی قانون سازی کرکے کیا مغربی معاشرے فرد کی آزادی والی اپنی ہی قدر کی نفی نہیں کررہے ؟

Navigation