Right to insult or offend

#8
Zinda Rood
Participant
Offline
  • Advanced
  • Threads: 8
  • Posts: 597
  • Total Posts: 605
  • Join Date:
    3 Apr, 2018
  • Location: NorthPole

Re: Right to insult or offend

بلیک شیپ صاحب، میں اس موضوع کو سمجھنا چاہتا ہوں مجھے یہ سادہ اور آسان بھی نہیں لگتا ہے- اگر میں کبھی پوری ایمانداری سے اپنا سچ بیان کروں جو ہوسکتا ہے کسی کی توہین کا موجب بنے تو کیا یہ عمل صحیح ہوگا؟ میں ایک چور کو چور کہوں جس سے چور کو توہین محسوس ہوتی ہو تو کیا میرا یہ عمل درست ہوگا؟ میں ایک عام شخص کو ماں بہن کی گالی دوں جس سے اسکو توہین محسوس ہوتی ہو کیا یہ میرے آزادی اظھار کے دائرے میں آتا ہے؟ کیا میرا حق آزادی اظھار مطلق ہے یا اسکی کچھ حدود و قیود بھی ہیں ؟ اگر حدود و قیود بھی ہیں تو اسکا فیصلہ کون کرے گا اور اسکا طریقہ کار کون طے کرے گا ؟ کیا یہ حدود و قیود کائناتی ہوں گی یا ہر خطہ کی ثقافت اور اقدار کے مطابق تغیر پزیر ہو سکتیں ہیں؟ یہی اور اسی طرح کے بہت سے سوال ذہن میں گھوم تے رہتے ہیں

پروٹوکول صاحب! آپ کےسوالات کے جواب تو بلیک شیپ صاحب ہی دیں گے، مگر کچھ باتوں کی طرف میں آپ کی توجہ دلانا چاہتا ہوں۔ آپ نے صحیح اور غلط کی بات کی، میرے خیال میں صحیح اور غلط ریلٹیو ٹرمز ہیں، ہر معاشرے کا اپنا اپنا صحیح اور اپنا اپنا غلط ہوتا ہے، اسی طرح ایک فرد کا صحیح اور غلط دوسرے فرد کے صحیح اور غلط سے مختلف ہوسکتا ہے۔ آزادیِ اظہار کی حدود و قیود بھی معاشروں کے اپنے ہاتھ میں ہوتی ہیں، اگر معاشرے کے افراد کی اکثریت بلند ذہن، آسودہ حال، مطمئن اور برداشت کی حامل ہوگی تو وہ معاشرہ یقیناً اپنے لئے زیادہ سے زیادہ آزادی کا نہ صرف خواہش مند ہوگا بلکہ خود کیلئے یہ ممکن بھی بنانے کی کوشش کرے گا۔ دوسری طرف ایک ایسا معاشرہ جس کے افراد کی اکثریت پست ذہن، غیر مطمئن، معاشی طور پر ناآسودہ اور عدم برداشت کی حامل ہو، جہاں زبان سے زیادہ لات مکے سے بات کرنا معمول ہو، ایسا معاشرہ اپنی آزادی خود ہی سلب کرنے کا باعث بنے گا، ایسا معاشرہ خود پر قانوناً اور اخلاقاً گھٹن لاگو کرے گا، ایسے لوگ خود اپنے لئےتو سزا ہوتے ہی ہیں ساتھ اس اقلیت کے لئے بھی آزار کا باعث بنتے ہیں جو ان سے بلند ذہن اور بہتر برداشت کی حامل ہوتی ہے۔

آپ نے کہا کہ کیا آزادی اظہار کی حدود و قیود ہیں، اگر ہیں تو انہیں کون طے کرے گا۔ میرے خیال میں ہر معاشرہ اس کا تعین اپنے لئے خود کرتا ہے، اپنی حدود و قیود خود طے کرتا ہے، یہ ہر معاشرے کی اپنی اپنی برداشت اور ذہنی سطح پر منحصر ہے، ایک ایسا معاشرہ جس میں افراد کی اکثریت ذمہ دار ہو، بلند خیال ہو،  وہ یقیناً اپنے اوپر کوئی قانونی و اخلاقی پابندی لاگو کرنا پسند نہیں کرے گا۔ اور معاشروں کے قانون اکثریت کی مرضی سے ہی طے ہوتے ہیں۔روون اٹکنسن نے جو باتیں کیں، وہ اس نے اپنے معاشرے کے حساب سے کیں، پاکستان جیسے معاشروں میں ایسی بحثوں کا تصور ہی نہیں، کیونکہ یہاں لوگ ابھی اس سطح پر نہیں پہنچے۔۔

روون کے نکتہ نظر سے مجھے بھی اتفاق ہے، سوائے آخری کے وہ بھی پاکستانی معاشرے کو مدنظر رکھتے ہوئے۔ ہیٹ سپیچ کی آزادی / لوگوں کو تشدد پر ابھارنے کی آزادی نہیں ہونی چاہئے، ہمارا معاشرہ مذہبی جنونیوں سے بھرا پڑا ہے اور کوئی بھی مذہب کے نام پر ان کو بڑی آسانی سے انسانی بموں میں تبدیل کرسکتا ہے، لہذا یہاں کسی کو آزادی نہیں ہونی چاہیے کہ وہ اٹھ کر لوگوں کو تشدد پر اکسانا شروع کردے۔۔۔ 

Navigation