الیکشن دو ہزار اٹھارہ

Home Forums Siasi Discussion الیکشن دو ہزار اٹھارہ الیکشن دو ہزار اٹھارہ

#30
Bawa
Participant
Offline
  • Expert
  • Threads: 103
  • Posts: 6255
  • Total Posts: 6358
  • Join Date:
    24 Aug, 2016

Re: الیکشن دو ہزار اٹھارہ

باوا جی ۔ میں نے فوج کے پاکستان کے سیاسی سیٹ اپ میں مداخلت یا ہماری خارجہ اور دفاعی سٹریٹیجیز پر قابض ہو جانے کی کبھی حمایت نہیں کی اور ہمیشہ غیر مبہم الفاظ میں اسے ملک کے مسائل کی جڑ سمجھا ہے۔ فوج کے غیر آئینی اقدامات کی مخالفت اور فوج کی دفاعی قوت کی تعریف دو مختلف موزوں ہیں اور انہیں اسی پیرائے میں سمجھنا اور ڈسکس کیا جانا چاہیے۔ ان کے غیر آئینی اقدامات پر اپنے غصے کا اظہار کرنے کے لئے ہر چوتھے دن ڈھاکہ میں ہتھیار ڈالنے کی تصویریں لگا کر دو چیزوں کو ایک دوسرے سے منسلق نہیں کیا جاسکتا۔ ایک ہزار میل دور، بغیر کسی رسد، سول پبلک کی مخالفت اور اڑھائی لاکھ انڈین فوج کے سامنے ۲۲۰۰۰ ملٹری ٹروپس کا ہتھیار ڈال دینا سب پاکستانیوں کے لئے ایک دکھ کی بات تھی لیکن اگر کچھ اچھے لیڈر مل جائیں تو اقوام ایسے سیٹ بیکس سے نکل کر بھی مظبوط ہو جایا کرتی ہیں۔ فرانس کے دو ملین فوجیوں کا ہتھیار ڈالنا ہو، ۶ لاکھ سویت فوج کا کیوو یوکرین میں ۱۹۴۲ میں ہتھیار ڈالنا یا ۸۰ ہزار برٹش فوج کا سنگاپور میں جاپانی فوج کے سامنے ہتھیار ڈالنا، فرانس، سویت اور برٹش ان واقعات کے بعد مضبوط قومیں بن کر ابھرے اور ان کی فوجوں نے اپنا لوہا بھی منوایا۔ فرق صرف یہی تھا کہ ان ممالک کےآنے والے لیڈران چور اچکے نہیں تھے اور انہوں نے فوج کو ایسا ویکیوم ہی مہیا نہی کیا تھا کہ جسے لیورج کے طور پر استعمال کرکے وہ ملک کے کرتا دھرتا بن بیٹھتے۔ آپ کی اور میری سوچ میں کچھ قدرِ مشترک ہے اور کچھ مختلف۔ مشترک یہ کہ ہم دونوں ہی فوج کو سیاسی اور انتظامی سسٹم میں مداخلت پر غاصب سمجھتے ہیں اور اختلاف یہ کہ آپ اور بہت سے لوگ یہ سمجھتے ہیں کہ فوج کو برا بھلا کہنے سے یہ مسئلہ حل ہو جائے گا جب کہ میں یہ سمجھتا ہوں کہ اس مسئلے کا حل سیاست دان کے پاس ہے۔ جب تک سیاست دان ڈاکہ زنی اقربا پروری اور غیر آئینی طرز حکومت اور جیتنے کے لئے فوج کی مدد سے باز نہیں آتا فوج خود سے یا باواجی کے کوسنے سے نہ تو اپنے یہ کرتوت چھوڑے گی اور نہ عوام کی بڑی تعداد ان کی طرف مدد کے لئے دیکھنا بند کرے گی۔ چور کی چوری کو روکنے کے لئے چور کو کوسنا کافی نہیں ہوتا چوکیدار کے کان کھنچے جاتے ہیں جبکہ ہمارے تو چوکیدار خود ہی اتنے ہی بڑے چور ہیں۔ رہی بات میرے پہلے کمنٹ کی تو یہی بات کی تھی کہ آپ کے پسندیدہ لیڈران ۳۰ سال سے جو کرتے آئے ہیں ان کا بھی اس ذلالت میں اتنا ہی حصہ ہے جتنا عمران خان کا یا پی پی پی کا۔

شاہد عباسی بھائی

اگر آپ نے فوج کے پاکستان کے سیاسی سیٹ اپ میں مداخلت یا ہماری خارجہ اور دفاعی سٹریٹیجیز پر قابض ہو جانے کی کبھی حمایت نہیں کی اور ہمیشہ غیر مبہم الفاظ میں اسے ملک کے مسائل کی جڑ سمجھا ہے تو پھر آپکے وہ ابتدائی کلمات بے معنی ہو جاتے ہیں جن میں آپ نے بینظیر بھٹو کی جنرل پرویز مشرف سے ڈیل اور نواز شریف کے جنرل کیانی کے پاس قاصد بھیجنے کی بات کی ہے. سیاستدانوں کو ایسا کیوں کرنا پڑتا ہے؟ صرف اس لیے کہ فوج نے اس ملک کے اقتدار پر قبضہ کر رکھا ہے اور سیاستدان انتخابات کے ذریعے عوام کی بھر پور تائید حاصل ہونے کے باوجود حکومت حاصل کرنے کیلیے فوج کے رحم و کرم پر ہوتے ہیں اور حکومت اسے ہی ملتی ہے اور حکومت اسی کی چلتی ہے جو فوج کے تھلے لگ کر رہتا ہے. جو فوج کو آنکھیں دکھاتا ہے اور عوام کی بالادستی کی بات کرتا ہے اسے حکومت دینے سے انکار کر دیا جاتا ہے (بیشک بعد میں وہ نیا ملک بنا کر اسکا بانی بن جائے)، اسکا مقدر پھانسی ہوتی ہے، ملک بدری ہوتی ہے، حکومت سے محرومی ہوتی ہے اور بستر مرگ پر لیٹی بیوی کو چھوڑ کر بیٹی سمیت جیل کی کال کوٹھری ہوتی ہے. فوجی ملک توڑ کر بھی دندناتے پھرتے ہیں اور سیاست دان نہ کردہ غلطیوں کی بھی سزا پاتے ہیں

فوج کی دفاعی قوت کونسی ہے، کس نے دی ہے اور کب اور کس کے خلاف استعمال ہوئی ہے؟ مجھے کوئی ایک جنگ تو بتا دیں جو آج تک اس بزدل فوج نے جیتی ہو؟ ہاں، اپنا ملک پر پانچ دس سال بعد فتح کرنے کا اس فوج کا شاندار ریکارڈ ہے جس پر یہ فوج ضرور “فخر” کر سکتی ہے. یہ وہ بے شرم فوج ہے جو ملک توڑنے والے اپنے کتوں کو تو قومی پرچم میں لپیٹ کر اور گرینڈ سیلیوٹ کرکے دفناتی ہے لیکن ان کتوں کو بھارت کی قید سے نکال کر لانے والوں کو پھانسی اور کارگل کی ذلت سے نکال کر لانے والوں کو ملک بدر کرتی ہے اور جیل میں ڈالتی ہے

ایک لاکھ فوج کو ڈھاکہ میں ہتھیار ڈال کر ذلیل و خوار ہونے اور بھارت کی قید میں ذلت آمیز زندگی گزارنے کا سبب مشرقی پاکستان کی مغربی پاکستان سے ایک ہزار میل کی دور نہیں بلکہ فوج کے کرتوت تھے. جب فوج کسی ملک پر قبضہ کرکے عوام کے حقوق چھین لیتی ہے تو وہ عوام کی ہمدردی سے محروم ہو جاتی ہے. کوئی فوج بدمعاشی کے زور پر کسی ملک یا اسکے کسی حصے پر ہمیشہ قابض نہیں رہ سکتی ہے. آخر اسے ڈھاکہ کے پلٹن گراونڈ والی ذلت و رسوائی کا سامنا کرنا پڑتا ہے. مشرقی پاکستان میں اس فوج کے ساتھ جو کچھ ہوا وہ اسے اسکے کرتوتوں کی سزا تھی کیونکہ اس فوج نے بنگالیوں کو اپنا غلام سمجھ لیا تھا اور ان پر نہ صرف ٹینک چڑھا دیے تھے اور انکے پورے پورے شہر بمباری کرکے اڑا دیے تھے بلکہ انکی عورتوں کو مال غنیمت سمجھکر انکی آبروریزی کی جاتی تھی اور فوج کا سربراہ اپنی بنگالی بہنوں کی عزتیں لوٹنے والے فوجیوں سے ہر شام فخر سے پوچھتا تھا

میرے نوجوانو! آج تمھارا کیا سکور رہا ہے؟

ایسی بے غیرت فوج کو ایسی ذلت آمیز شکست ہی ہوتی ہے اور اسکے مقدر میں پوری دنیا میں اسی طرح ذلیل و خوار ہونا ہی لکھا ہوتا ہے. اب تو اس وقت کے دو فاتح آپس میں ملتے ہیں تو اس شکست خوردہ فوج کی بے غیرتی کی تصویر ایک دوسرے کو گفٹ کرکے ہمیں شرمسار کرتے ہیں

سیاست دانوں کی غلطیوں کا تو ہم دن رات ذکر کرتے ہیں لیکن کیا کبھی اس فوج کی غلطیوں کا ذکر کیا ہے؟ کیا فوج نے ماضی کی غلطیوں سے کچھ سیکھا ہے؟ کیا فوج کے آج بھی کرتوت وہی پلٹن گراونڈ والی کروانے والے نہیں ہیں؟ فوج اب بھی اگر اپنے آئینی کردار تک محدود نہیں ہوگی تو پھر اسی طرح ذلیل و خوار ہوگی لیکن اس بار ایک فرق ہوگا کہ اب کولی سیاست دان فوج کو نہ تو بھارت کی قید سے اور نہ ہی کارگل کی ذلت سے نکال کر لائے گا

تاریخ کا یہ سبق ہے کہ تاریخ سے کوئی سبق نہیں سیکھتا ہے اور تاریخ اپنے آپ کو دہراتی ہے

Navigation