لاہور بند ہے یا کھلا ہے؟؟

Home Forums Siasi Discussion لاہور بند ہے یا کھلا ہے؟؟ لاہور بند ہے یا کھلا ہے؟؟

#91
Ghost Protocol
Participant
Offline
  • Professional
  • Threads: 92
  • Posts: 2463
  • Total Posts: 2555
  • Join Date:
    7 Jan, 2017

Re: لاہور بند ہے یا کھلا ہے؟؟

پنجاب کا زخمی شیر بیٹا اپنی بے انتہا بہادر بیٹی کے ساتھ پنجاب کے دل لاہور میں غیر یقینی مستقبل کے ساے میں پنجابیوں کے متوقع احتجاج کے آسرے پر اپنی زندگی کی اتنی بڑی بازی چل گیا مگر نہ کسی نے اپنے آپ کو آگ لگائی، نہ پولیس اور رینجرز نے سیدھا فائر کرکے شہدا کا تحفہ نون لیگ کو دیا- نگرانوں کے ماسٹروں نے میڈیا کو موثر انداز میں کنٹرول کیا اور سیاسی کھیل میں نواز اور مریم نے جسطرح گیند اپنے ڈی سے لے کر مخالفین کے دفاعی حصار کو توڑ تے ہوے مخالفین کے گول تک پہنچایا مگر آج لاہوریوں نے گول کرنے کا موقع ضایع کردیا- نگرانوں اور ان کے ماسٹروں نے پہلا راونڈ جیت لیا ہے

گھوسٹ پروٹوکول بھائی لگتا ہے آپ نے نواز شریف، مریم نواز، مسلم لیگ نون کی موجودہ قیادت، انتخابی امیدواروں، سپورٹرز اور ووٹرز کے بارے میں بہت زیادہ توقعات وابسطہ کی لی تھیں. یہ سب لوگ اپنے اپنے مفادات کے غلام ہیں اور کوئی بھی قدم اٹھانے سے پہلے اس بات کو یقینی بناتے ہیں کہ انکے مفادات کو کوئی نقصان نہ پہنچے نواز شریف اور مریم نواز اسوقت تک جوڈیشری کے خلاف نہیں بولے جب تک نواز شریف کے خلاف سپریم کورٹ کا فیصلہ نہیں آگیا اور اسوقت تک فوج کے خلاف زبان نہیں کھولی جب تک انہیں احتساب عدالت کی طرف سے انہیں سزا بنائے جانے کا یقین نہیں ہوگیا تھا. نواز شریف اور مریم نواز کا سزا ہونے کے بعد واپس آنا انکی مجبوری تھی کیونکہ ایسا نہ کرنے کی صورت میں ایک تو انکا سیاسی مستقبل ختم ہو جاتا اور دوسرے انہیں سزا ہونے کے بعد انٹر پول سے واپس لانے کے روشن امکانات تھے. بیرون ملک سے گرفتار ہو کر واپس آنے سے کہیں بہتر تھا کہ خود گرفتاری دے کر نہ صرف اپنے آپکو بہادر ثابت کر سکیں بلکہ اپنا اور اپنی پارٹی کا مستقبل بھی بچا سکیں شہباز شریف اور حمزہ شہباز کو نواز شریف اور مریم نواز سے کوئی ہمدردی نہیں ہے. ان باپ بیٹی کا جیل جانا ہی ان باپ بیٹوں (شہباز شریف، حمزہ شریف اور سلمان شریف) کے مفاد میں ہے. انکا آج کا شو محض ایک دکھاوے سے زیادہ کچھ نہ تھا اور انکا اس شو کا مقصد نواز شریف کے نام پر ملنے والا ووٹ حاصل کرنا تھا. پوری ریلی کے دوران کہیں بھی شہباز شریف نے نہ تو ریلی کے شرکاء سے خطاب کیا اور نہ ہی ایئر پورٹ پہنچنے کی کوئی کوشش کی. انکا سارا زور نواز شریف کی حمایت کی بجائے مسلم لیگ کے ووٹرز سے ووٹ بٹورنے پر رہا مسلم لیگ نون کے امید واروں نے بھی ریلی میں شریک ہونے کی نیم دلی سے کوشش کی. کوئی بھی امید وار نہیں چاہتا تھا کہ وہ اور اسکے سرگرم سپورٹرز عین انتخابات کے موقع پر ایک ماہ کیلیے گرفتار ہو جائیں اور اسے انتخابات کے روز تجربہ کار پولنگ ایجنٹس نہ مل سکیں مسلم لیگ نون کے سپوٹرز کی واضح اکثریت کاروباری طبقے سے تعلق رکھتی ہیں جنھیں مسلم لیگ نون یا نواز شریف سے زیادہ اپنا کاروبار عزیز ہے. وہ مسلم لیگ نون کی مالی مدد کرنے کے علاوہ ووٹرز پر اپنا اثر و رسوخ استعمال کر سکتے ہیں لیکن جیک جا کر اپنے کاروبار کا نقصان نہیں کر سکتے ہیں مسلم لیگ نون کا ووٹرز نچلے اور درمیانہ طبقے سے تعلق رکھتا ہے. یہ دیہاڑی دار یا ملازم پیشہ لوگ ہیں. یہ لوگ کماتے ہیں اور اپنے خاندان کے اخراجات چلاتے ہیں. یہ لوگ جیل جا کر اپنے خاندان کو بھوکے مارنے کا رسک نہیں لے سکتے ہیں. انکی ہمدردی صرف ووٹ دینے یا اپنے کام سے فارغ ہو کر انتخابی سرگرمیوں میں حصہ لینے تک محدود ہیں یہ وہ وجوہات ہیں جن کی وجہ سے آپکے خیال میں “آج لاہوریوں نے گول کرنے کا موقع ضائع کر دیا” ہے مسلم لیگ نوں کی اندرونی صورتحال اسٹبلشمنٹ اور نگران حکومت بھی خوب سمجھتی تھی. ان کا اصل مقصد لاہور میں بہت بڑی تعداد میں لوگوں کو جمع ہونے سے روکنا تھا جو انہوں نے بغیر کسی خون خرابے کے حاصل کر لیا ورنہ وہ بھی جانتے تھے کہ اگر ہجوم بے قابو ہوگیا تو اسے کنٹرول کرنا مشکل بلکہ ناممکن ہو جائے گا میری نظر میں نواز شریف، مریم نواز، شہباز شریف، مسلم لیگ نون، نگرانوں اور ان کے ماسٹروں سب نے ہی یہ رونڈ جیت لیا ہے اور سب اپنے اپنے مقاصد حاصل کرنے میں کامیاب رہے ہیں

گھوسٹ پروٹوکول بھائی لگتا ہے آپ نے نواز شریف، مریم نواز، مسلم لیگ نون کی موجودہ قیادت، انتخابی امیدواروں، سپورٹرز اور ووٹرز کے بارے میں بہت زیادہ توقعات وابسطہ کی لی تھیں. یہ سب لوگ اپنے اپنے مفادات کے غلام ہیں اور کوئی بھی قدم اٹھانے سے پہلے اس بات کو یقینی بناتے ہیں کہ انکے مفادات کو کوئی نقصان نہ پہنچے نواز شریف اور مریم نواز اسوقت تک جوڈیشری کے خلاف نہیں بولے جب تک نواز شریف کے خلاف سپریم کورٹ کا فیصلہ نہیں آگیا اور اسوقت تک فوج کے خلاف زبان نہیں کھولی جب تک انہیں احتساب عدالت کی طرف سے انہیں سزا بنائے جانے کا یقین نہیں ہوگیا تھا. نواز شریف اور مریم نواز کا سزا ہونے کے بعد واپس آنا انکی مجبوری تھی کیونکہ ایسا نہ کرنے کی صورت میں ایک تو انکا سیاسی مستقبل ختم ہو جاتا اور دوسرے انہیں سزا ہونے کے بعد انٹر پول سے واپس لانے کے روشن امکانات تھے. بیرون ملک سے گرفتار ہو کر واپس آنے سے کہیں بہتر تھا کہ خود گرفتاری دے کر نہ صرف اپنے آپکو بہادر ثابت کر سکیں بلکہ اپنا اور اپنی پارٹی کا مستقبل بھی بچا سکیں شہباز شریف اور حمزہ شہباز کو نواز شریف اور مریم نواز سے کوئی ہمدردی نہیں ہے. ان باپ بیٹی کا جیل جانا ہی ان باپ بیٹوں (شہباز شریف، حمزہ شریف اور سلمان شریف) کے مفاد میں ہے. انکا آج کا شو محض ایک دکھاوے سے زیادہ کچھ نہ تھا اور انکا اس شو کا مقصد نواز شریف کے نام پر ملنے والا ووٹ حاصل کرنا تھا. پوری ریلی کے دوران کہیں بھی شہباز شریف نے نہ تو ریلی کے شرکاء سے خطاب کیا اور نہ ہی ایئر پورٹ پہنچنے کی کوئی کوشش کی. انکا سارا زور نواز شریف کی حمایت کی بجائے مسلم لیگ کے ووٹرز سے ووٹ بٹورنے پر رہا مسلم لیگ نون کے امید واروں نے بھی ریلی میں شریک ہونے کی نیم دلی سے کوشش کی. کوئی بھی امید وار نہیں چاہتا تھا کہ وہ اور اسکے سرگرم سپورٹرز عین انتخابات کے موقع پر ایک ماہ کیلیے گرفتار ہو جائیں اور اسے انتخابات کے روز تجربہ کار پولنگ ایجنٹس نہ مل سکیں مسلم لیگ نون کے سپوٹرز کی واضح اکثریت کاروباری طبقے سے تعلق رکھتی ہیں جنھیں مسلم لیگ نون یا نواز شریف سے زیادہ اپنا کاروبار عزیز ہے. وہ مسلم لیگ نون کی مالی مدد کرنے کے علاوہ ووٹرز پر اپنا اثر و رسوخ استعمال کر سکتے ہیں لیکن جیک جا کر اپنے کاروبار کا نقصان نہیں کر سکتے ہیں مسلم لیگ نون کا ووٹرز نچلے اور درمیانہ طبقے سے تعلق رکھتا ہے. یہ دیہاڑی دار یا ملازم پیشہ لوگ ہیں. یہ لوگ کماتے ہیں اور اپنے خاندان کے اخراجات چلاتے ہیں. یہ لوگ جیل جا کر اپنے خاندان کو بھوکے مارنے کا رسک نہیں لے سکتے ہیں. انکی ہمدردی صرف ووٹ دینے یا اپنے کام سے فارغ ہو کر انتخابی سرگرمیوں میں حصہ لینے تک محدود ہیں یہ وہ وجوہات ہیں جن کی وجہ سے آپکے خیال میں “آج لاہوریوں نے گول کرنے کا موقع ضائع کر دیا” ہے مسلم لیگ نوں کی اندرونی صورتحال اسٹبلشمنٹ اور نگران حکومت بھی خوب سمجھتی تھی. ان کا اصل مقصد لاہور میں بہت بڑی تعداد میں لوگوں کو جمع ہونے سے روکنا تھا جو انہوں نے بغیر کسی خون خرابے کے حاصل کر لیا ورنہ وہ بھی جانتے تھے کہ اگر ہجوم بے قابو ہوگیا تو اسے کنٹرول کرنا مشکل بلکہ ناممکن ہو جائے گا میری نظر میں نواز شریف، مریم نواز، شہباز شریف، مسلم لیگ نون، نگرانوں اور ان کے ماسٹروں سب نے ہی یہ رونڈ جیت لیا ہے اور سب اپنے اپنے مقاصد حاصل کرنے میں کامیاب رہے ہیں

بہت شکریہ باواجی،
آپ نے نہایت حقیقت پسندانہ تجزیہ کیا ہے-آپ کی تمام ہی باتوں سے اتفاق ہے –
عمومی طور پر انقلابی تحریکوں کا اصل منبع تعلیم یافتہ، درمیانہ طبقہ کے نوجوان ہوتے ہیں جنکے وجود سے نون شاید خالی ہے اور نہ نون کویی انقلابی تحریک ہے

Navigation