سپریم کورٹ نے شیخ رشید احمد کو اہل قرار دے دیا

Home Forums Siasi Discussion سپریم کورٹ نے شیخ رشید احمد کو اہل قرار دے دیا سپریم کورٹ نے شیخ رشید احمد کو اہل قرار دے دیا

#18
Bawa
Participant
Offline
  • Expert
  • Threads: 86
  • Posts: 5704
  • Total Posts: 5790
  • Join Date:
    24 Aug, 2016

Re: سپریم کورٹ نے شیخ رشید احمد کو اہل قرار دے دیا

باوا جی،کنٹینر پر چڑھ کر ارشادات فرمانے والے مہان لیڈر کو تو آپ اتنا مقام دیتے ہیں مگر اس کے گرو کی مدح سرائی کرنا جانے کیوں بھول جاتے ہیں۔میرا اشارہ آج سپریم کورٹ سے اہل قرار دئے جانے والے شیخ رشید صاحب کی طرف ہے۔ شاید آپ نے اس میں غالب کے اس شعر کی جھلک دیکھ لی ہےجس میں مرزا صاحب نے اپنے متعلق حقیقت کا اعتراف کیا تھا۔ بنا ہے شاہ کا مصاحب پھرے ہے اتراتا وگرنہ شہر میں غالب کی آبرو کیا ہے آج فیصلے کے بعد میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے اس کا نواز شریف اور شہباز شریف کو للکارنا،اور خبردار کرنا کہ میں آ رہا ہوں۔اور مزید یہ کہنا کہ میں گیٹ نمبر چار کی پیداوار نہیں ہوں سن کرمیرا خیال تو یہ تھا کہ نواز ،شہباز کی بہتری اسی میں ہے کہ وہ ہاتھ باندھ کر شیخ صاحب سے معافی مانگ لیں سیاست کو خیر باد کہہ دیں مگر “بھولا” نےشیخ کی بڑھکیں سن کر زوردار قہقہہ لگایا اورایک کہانی سنانے لگا جس میں ایک چوہے کے شراب کے ڈرم میں گرنے اور باہر آ کر پونچھ کے بل کھڑے ہو کر بلی کو للکارنے کی نا معقول سی بات تھی۔

بہت شکریہ عبدالجبار بھائی

میں اس بندے کو اس قابل ہی نہیں سمجھتا ہوں کہ اس پر کوئی تبصرہ کرکے اپنا وقت ضائع کیا جائے

کل جب اس بے شرم شیدے ٹلی نے شاہ زیب خانزادہ کے پروگرام میں مریم نواز کو ٹی وی پر آ کر کھلی دھمکیاں دیں تو اس نے اسکی خوب بے عزتی کی لیکن بے شرم لوگوں کو بے عزتی محسوس ہی کب ہوتی ہے؟

کالی شیروانی سے محروم سرکار نے اسکے بارے میں ٹھیک ہی کہا تھا

یہ الگ بات ہے کہ اب اس نے اپنی دیگر تمام باتوں کی طرح تھوک چاٹ کر اور یو ٹرن لیکر اسے اپنا گرو اور سیاسی استاد بنا لیا ہے

کالی شیروانی سے محروم سرکار کا بھی ریکارڈ ہے کہ اس نے جس کو شیطان کہا، بعد میں اسکی پوجا کی اور جس کی پوجا کی، بعد میں اسے گالیاں دیں

سیاست برداشت اور رواداری کا نام ہے. جس پارٹی کی لیڈرشپ ہی برداشت اور رواداری سے عاری ہو اس کے کارکنوں سے کیا توقع کی جا سکتی ہے؟ نہ تو پی ٹی آئی کی لیڈرشپ کی کوئی سیاسی تربیت ہوئی ہے اور نہ ہی کارکنوں کی اور یہ چیز انکے روئیے سے عیاں ہے

ہمارے ملک کے نوجوان طبقے نے کالی شیروانی سے محروم سرکار سے تبدیلی کیلیے بہت زیادہ امیدیں وابستہ کر لی تھیں لیکن جیسے جیسے انتخابات کے نتائج سامنے آتے گئے تو انکی فریسٹیشن بڑھتی گئی. ان نوجوانوں کا زمینی حقائق اور ملکی صورتحال سے واقف نہ ہونا کوئی عجیب بات نہیں تھا لیکن افسوس کالی شیروانی سے محروم سرکار جیسے لوگوں پر ہوتا ہے جو محض اقتدار کے حصول کے لیے ان نوجوانوں سے اصل صورتحال چھپا کر انہیں تیس سے نوے دنوں میں دودھ اور شہد کی نہریں بہانے کے سہانے خواب دکھلاتا ہے

ان نوجوانوں کو کوئی بتانے کو تیار نہیں ہے کہ اس ملک کا بال بال قرضے میں جھکڑا ہوا ہے اور قرضوں کا سود دینے کے لیے بھی قرضے لینے پڑ رہے ہیں. اسکے علاوہ ملک کا ہمیشہ اصل اقتدار فوج کے ہاتھوں میں ہوتا ہے بے شک حکومت جمہوری ہی کیوں نہ ہو. جمہوری حکومتیں محض عوام کو دکھانے کا ایک ڈرامہ ہوتی ہیں. کوئی جمہوری حکومت، بے شک اسے عوام کی جتنی مرضی حمایت حاصل ہو، عالمی اسٹبلشمنٹ اور ملکی اسٹبلشمنٹ یا فوج کی منشاء کے بغیر ایک قدم بھی نہیں اٹھا سکتی ہے. جو حکومت اپنا ایجنڈا نافذ کرنے کی کوشش کرتی ہے اسے عالمی مالیاتی اداروں، عدلیہ، میڈیا، سیاسی ایجنٹوں اور مذہبی جماعتوں کی مدد سے راہ راست پر لانے میں ذرا کوتاہی نہیں کی جاتی ہے

یہ نوجوان نہیں جانتے ہیں کہ پاکستان وہ بدقسمت ملک ہے جہاں فوج ہمیشہ برسر اقتدار ہوتی ہے بے شک سیاسی حکومت کسی کی بھی ہو. ملکی دفاع، داخلہ اور خارجہ امور کے سارے فیصلے فوج ہی بلا شرکت غیر کرتی ہے. فوج براہ راست سیاست میں نہ بھی ہو تو بھی سیاسی نظام وہی چلاتی ہے. سیاسی حکومت تو بے چاری چار دن گزارنے کے لیے ان فیصلوں کی صرف ذمہ داری لیتی ہے

پکڑے جاتے ہیں فرشتوں کے لکھے پر ناحق
آدمی کوئی ہمارا دَمِ تحریر بھی تھا

تبدیلی، انقلاب اور سونامی کی اصل حقیقت سامنے آنے کے بعد ان نوجوانوں کی فریسٹیشن ختم کرنے یا کم کرنے پر ابھی سے توجہ دینے اور پلان تیار کرنے کی ضرورت ہوگی تاکہ یہ نوجوان فریسٹیٹ ہو کر غلط ہاتھوں میں نہ کھیل جائیں. جمہوریت کے مستحکم ہونے تک ہمیں ان سیاسی نابالغوں کی گالی گلوچ کو بھی خندہ پیشانی کے ساتھ برداشت کرنا پڑیگا تاکہ ان ممی ڈیڈی انقلابیوں کی فریسٹیشن کم ہو سکے اور وہ خیالوں کی دنیا سے نکل کر حقائق کا سامنا کرنے کے قابل ہو سکیں

تبدیلی کیلیے وژن سب سے پہلا اور اہم عنصر ہے لیکن کالی شیروانی سے محروم سرکار اور اسکے لوٹوں کے پاس نہ کوئی وزن ہے، نہ کوئی پروگرام ہے، نہ کوئی منشور، نہ کوئی سیاسی شعور, نہ کوئی سوچ اور نہ کوئی نظریہ. جن کے پاس کوئی سوچ اور نظریہ نہ ہو وہ اسی طرح کی کنفیوزن کا شکار ہوتے ہیں

فوج کو سیاسی حکومتوں سے معاملے طے کرنے کے لیے بعض اوقات نئے سیاسی چہرے کی ضرورت ہوتی ہے. کل فوج کو بھٹو کو سبق سکھانے کے لیے ایک اصغر خان کی ضرورت تھی اور آج نواز شریف کو سبق سکھانے کے لیے کالی شیروانی سے محروم سرکار کی ضرورت ہے. جب فوج کو سیاسی چہرے کی ضرورت ہوتی ہے تو اصغر خان اور عمران خان کو وزیر اعظم بنانے کے خواب دکھائے جاتے ہیں اور جب فوج کا مطلب نکل جاتا ہے تو اسے کئی محمد خان جونیجو اور شوکت عزیز مل جاتے ہیں. پھر وزیر اعظم بننے کے خواب دیکھنے والوں کی حالت ایسی ہوتی ہے کہ

پھرتے ہیں میر خوار کوئی پوچھتا نہیں
اس عاشقی میں عزت سادات بھی گئی

Navigation