ماضی میں عورت کی حکمرانی قبول نہ تھی،آج بیٹی کو ملک کی کمان سونپ دی

Home Forums Siasi Discussion ماضی میں عورت کی حکمرانی قبول نہ تھی،آج بیٹی کو ملک کی کمان سونپ دی ماضی میں عورت کی حکمرانی قبول نہ تھی،آج بیٹی کو ملک کی کمان سونپ دی

#11
Abdul jabbar
Participant
Offline
  • Advanced
  • Threads: 1
  • Posts: 252
  • Total Posts: 253
  • Join Date:
    24 Sep, 2017

Re: ماضی میں عورت کی حکمرانی قبول نہ تھی،آج بیٹی کو ملک کی کمان سونپ دی

چوہدری نثار اور نواز شریف کے درمیان قربت اور گہرے روابط کی بنیاد چوہدری نثار کے اسٹیبلشمنٹ سے گہرے تعلقات تھے۔ چونکہ نواز شریف کی سیاست کی ابتدا جنرلز کی سپورٹ سے ہوئی اور چوہدری نثار کے بھائی بھی ایک جنرل تھے سوان میں نظریاتی ہم آہنگی تھی۔
کہتے ہیں سمندر کی گہرائیوں میں اترنے والا جال جو کچھ دیکھتا ہے وہ ماہی گیر نہیں دیکھ سکتا سو نواز شریف جب اقتدار کے نہاں خانوں کے اسرار و رموز سے اگاہ ہوئے تو ان کے خیالات بدلنے لگے۔انہیں ادراک ہوا کہ سب کچھ درست نہیں ہو رہا۔
مگر چوہدری نثار اپنی جگہ کھڑے تھے۔انہیں اپنی سیاست کی بقا اسی کھونٹے سے بندھے رہنے میں نظر آتی رہی۔
یہاں سے نظریات میں اختلاف پیدا ہوا۔
نواز شریف کو تین بار نکالا گیا لیکن ایک بار بھی چوہدری نے کھل کر ایسا کرنے والوں کی مذمت نہیں کی، اس نا انصافی کے خلاف آواز نہیں اٹھائی بلکہ خاموشی سے گھر بیٹھے رہے۔یہ ان کی نظریاتی سوچ کا تقاضا تھا۔
رہی عورت کی حکمرانی کا طعنہ دینے والی بات تو پاکستانیوں نے دیکھا کہ ننانوے میں جب نواز شریف کو اٹک قلعے میں قید کیا گیا تب بھی چوہدری نثار جیسا بہادر راجپوت باہر نہیں نکلا تھا بلکہ ایک عورت جس کا نام کلثوم نواز تھا اور دوسری عورت تہمینہ دولتانہ اور ایک مرد جاوید ہاشمی جس کی پہچان ایک بہادر آدمی ۔۔ ہاشمی ۔۔ہاشمی بنی سڑکوں پر نکلے تھے۔
اس بار بھی نواز شریف کی بیٹی اس کی طاقت بنی۔اور میدان میں اپنے والد کے شانہ بشانہ نکلی اور پیشیاں بھگت رہی ہے۔اس کی خدمات اور جدوجہد چوہدری نثار سمیت بہت سے سینئر رہنمائوں سے کہیں زیادہ ہیں۔
اس بار تو چوہدری نثار نے حد ہی کر دی، اگرچہ نواز شریف نے اس کے ماضی کو نظر انداز کرتے ہوئے پرانے تعلقات کی بنا پر اسے کابینہ میں اہم عہدہ دیا مگر دھرنے سے کھیل ختم ہونے تک اس کا کردار مشکوک ہی رہا۔ عمران خان تو دھرنے کے کنٹینر ہی سے اسے اپنے ساتھ مل جانے کی صدائیں لگا رہا تھا۔پی پی پی کے اعتزاز احسن اور خورشید شاہ نے شاید درست اندازہ لگایا تھا کہ نواز حکومت کے لئے سب سے بڑا خطرہ چوہدری نثار ہے۔اس لئے کہ یہ اپنے ہر فعل سے جمہوریت کے لئے نواز کا ساتھ دینے والے لیڈروں اور جماعتوں کو خلاف کرنے کی کوشش میں لگا رہا۔
شاید ایک پلان کے تحت اس کی سوچ تھی کہ پارٹی میں رہ کر وہ بہتر طور پر پارٹی اور قیادت کو نقصان پہنچا سکتا ہے۔
اتنا کچھ ہونے کے باوجود نواز شریف کا ایک بیان چوہدری نثار کے خلاف نہیں ہے۔ اور یہی اس کا ظرف ہے۔
دوسری طرف چوہدری نثار کے حالیہ بیانات ہیں جن سے اس کا چہرہ کھل کر سامنے آ گیا ہے۔ اور میرا خیال ہے یہ مزید کھل کر شریف فیملی کی مخالفت کرے گا، الزامات لگائے گا اور اپنی خدمات گنوائے گا۔
مگر اسے یہ بھی ادراک ہونا چاہیئے کہ جو بندہ نواز شریف کے دل سے اتر جاتا ہے، بس اتر جاتا ہے۔

Navigation