منافقت چھوڑیں اور اپنی اپنی پارٹی کا نام بتائیں

Home Forums Siasi Discussion منافقت چھوڑیں اور اپنی اپنی پارٹی کا نام بتائیں منافقت چھوڑیں اور اپنی اپنی پارٹی کا نام بتائیں

#86
Gulraiz
Participant
Offline
  • Advanced
  • Threads: 32
  • Posts: 1054
  • Total Posts: 1086
  • Join Date:
    16 May, 2017
  • Location: Santa Barbara

Re: منافقت چھوڑیں اور اپنی اپنی پارٹی کا نام بتائیں

ملک بھائی کس کو سمجھا رہے ہو؟ ارے یار ایم کیو ایم کی بدمعاشی کے وقت تو بالکل خیر تھا. رکشہ ڈرائیور،بس ڈرائیور خود ہی اپنے گاڑیوں کو آگ لگاتے تاکہ الطاف بدنام ہو. اجمل پہاڑی اور کان کٹے،سرپھیرے، وغیرہ وغیرہ منٹو کے افسانوں کے کردار تھے. مونگ پھلی والے بھی اداکار تھے سڑک پر ریڑھی لگا کر اپنی ہی ریڑھی کو آگ لگا دیتے تھے. بوری بند لاشیں اور بھتے نا نا اللہ کا خوف کھا ایسا بالکل نہیں تھا بیڑا غرق ہو ہمارے سوچ کا ہمیں کھبی نہیں سدھرے گے. غلطی اس کی نہیں ہم سب ایسے ہی ہے

شکرہے کہ آپ نے نقیب اللہ کے قتل کا ذمہ دار ایمکیوایم کو نہیں ٹھیرایا ، ورطہء حیرت میں غوطے کھا رہا ہوں

یارا ، وہی پرانی کہانیاں بار بار دھراتے ہو، وہی کن کٹا، پھن کٹا ، ٹن کٹا کا راگ بار بار
کوئی نیا راگ الاپ بھائی ، کتنی دفعہ جواب دیں ، الغوزہ پر کوئی نئی دھن چھیڑ نہیں تو چلغوزہ پر کوئی دھن چھیڑدے تاکہ دوسروں کو نہیں تو خود کو تو مزہ آئے

ہم تو سمجہتے تھے کہ پٹھان کا دماغ پتھر کا چٹان ہوتا ہے جو کام کرے تو دلیپ کمار ، شاہ رخ اور مدہو بالا بن جائے ، شاعر بنے تو فراز اور پریشان خٹک بن جائے ، سیاست کرے تو باچہ خان اور عبدالرب نشتر بن جائے اور حکمراں بنے تو شیرشاہ سوری بن جائے
مگر یار تیرا دماغ اسپونج کا بناہوا لگتا ہے اور سوچتا بھی اسپونج بوب کی طرح ہے ، بوری میں جائے بغیر سوچتا ایسے ہے جیسے بوری میں بند ہے ، اسے ذرا استعمال کرلیا کر

مادر ملت کا ساتھہ کس نے دیا اور پھر گوہر ایوب کنجر نے کیا کیا ، اسوقت سے لیکر پی پی کے پچہلے دور تک تم لوگوں کے دماغ میں مہاجروں کے خلاف بغض بھرا ہوا تھا ، ایک ویگن میں گلشن میں سات پٹھانوں کی لاشیں ملی تھیں ، یاد ہے نا ، مہاجر اتنا بے وقوف ہے کہ اپنی ہی گلیوں میں پٹھانوں کی لاشیں پھِینگ دینگے ، ابے ہم تو تمہیں لڑکیوں کے ہوسٹل میں چوکیدار رکھتے ہیں اور جب مہینے کے آخر میں تنخواہ دیں تو کہتے ہوکہ اچھا اس کام کا پیسہ بھی ملتا ہے

پھر جب طالبان نے کراچی میں اے این پی کے تین سو دفتروں پر قبضہ کیا اور اسکے لوگ مارے تو تم لوگ کی سمجہ میں آیا کہ اسکے پیچہے تو وردی ہے ، اب بولتے ہونا کہ یہ جو دہشتگردی ہے اسکے پیچہے وردی ہے ، یہی تو ہم پجہلے تیس سال سے بک رہے ہیں ، لیکن تم تم ، تم تو راو انور کو ہیرو مانتے تھے وہ کراچی میں لڑکے مارتا تھا تو تم پشاور میں اسکی حمایت میں جلوس نکالتے تھے ، نوسو چوہے کھا کے بلی حج کو چلی

کراچی کی ساری دہشتگردی کی ذمہ دار دہشگرد ایجنسیاں ہیں ہم کیا ساری دنیا انہیں دہشتگرد کہہ رہی ہے ، شکر ہے کہ پٹھانوں کی سمجہ میں اب یہ بات آگئی ہے لیکن یارا تیری سمجہ میں لگتا ہے ابھی بھِی نہیں آیا

ہم تمہاری طرح نہیں ہیں ، ہم منظور پشتین اور اسکی تحریک کے ساتھہ ہیں ، اسلئِے کہ ہم حق کا ساتھۃ دیتے ہیں ، اور حکومت ایجنسیاں اور میڈیا اسے غدار اور را کا ایجنٹ کہتے ہیں ، کراچی میں اسکا جلسہ ہوا تو کراچی امڈ آیا تو ریجنرز کے کنجرز نے سارے راستے بند کردئیے ، اسے کہتے ہیں حق اور سچ کا ساتھۃ دینا نہ کہ ہم یہ کہتے کہ نامنظور نامنظور ، منظور پشتین نامنظور دا سنگہ آزادی دا

Haidar asmari

Navigation