خدا ، مذہب، مکالمہ،

Home Forums Hyde Park / گوشہ لفنگاں خدا ، مذہب، مکالمہ، خدا ، مذہب، مکالمہ،

#157
Zinda Rood
Participant
Offline
  • Advanced
  • Threads: 9
  • Posts: 983
  • Total Posts: 992
  • Join Date:
    3 Apr, 2018
  • Location: NorthPole

Re: خدا ، مذہب، مکالمہ،

یہ آپ کا احساس ہے یا پھر میرے اظہار کی کوئی خامی، ورنہ میں کوئی ایسی شعوری کوشش نہیں کرتا کہ کسی پہلو پر اپنا دامن بچا کے رکھوں میں جو کچھ اپنے لئے چاہتا ہوں انشاءاللہ دوسروں کیلئے اس سے تھوڑا سا زیادہ ہی چاہوں گا، کم نہیں۔ اسلئے آپ کو کسی آگیا کی ضرورت نہیں ہے بس میری کوشش ہوتی ہے کہ موضوع کو منطقی انداز میں، مرحلہ وار اور درجہ بدرجہ لیکر چلا جائے تاکہ لکھنے اور پڑھنے والوں کے سامنے یہ تجریدی قسم کے تصورات وضاحت سے آ سکیں اور انہیں تفہیم میں آسانی ہو

شیراز صاحب! آگیا دینے کا شکریہ ۔۔۔

سورہ اخلاص کی آیت ہے، اللہ الصمد (اللہ بے نیاز ہے)۔ یعنی اللہ بے پروا ہے ، اسے کسی قسم کی تعریف کی حاجت یا خواہش نہیں،۔ جبکہ دوسری طرف معاملہ یہ ہے کہ مذہب اسلام اپنے آغاز سے لے اختتام تک اللہ کی تعریفوں، بڑائیوں سے بھرا پڑا ہے۔ مثال کے طور پرقرآن کی پہلی سورت الفاتحہ کا آغاز ان کلمات سے ہوتا ہے۔۔

تمام تعریفیں اللہ کے لئے ہیں جو تمام جہانوں کا رب ہے۔۔ 

 دن میں پانچ مرتبہ اذان دی جاتی ہے ، اذان کا آغاز ہوتا ہے، ان کلمات سے،۔۔

اللہ سب سے بڑا ہے، اللہ سب سے بڑا ہے۔۔

اور یہ کلمات سارا دن ہر گلی، محلے، کونے کونے میں گونجتے رہتے ہیں ۔ہر طرف اللہ سب سے بڑا ہے، اللہ سب سے بڑا ہے کی گردان پر گردن ہورہی ہوتی ہے۔ 

نماز کا آغاز ان کلمات سے ہوتا ہے۔۔

 اے اللہ تیری ذات پاک ہے خو بیوں والی اور تیرا نام برکت والا ہے اور تیری شان اُونچی ہے اور تیرے سوا کوئی معبود نہیں۔

پھر رکوع و سجود میں جانے کے لئے بھی وہی تعریفی کلمہ دہرانا پڑتا ہے یعنی اللہ سب سے بڑا ہے۔

رکوع میں جانے پر تین یا پانچ بار خدا کی تعریف ان کلمات میں۔۔

 پاک ہے میرا پروردگار عظمت والا۔

پھر سجدے میں جانے پر تین یا پانچ بار خدا کی تعریف ان الفاظ میں ۔۔

 پاک ہے میرا پروردگار بڑا عالی شان۔

اسی طرح پوری نماز تقریباً اللہ کی تعریفوں سے بھری پڑی ہے۔۔۔ نماز کے بعد مسلمانوں میں تین کلموں کا ورد مسنون ہے، جن میں سبحان اللہ (اللہ پاک ہے) ، الحمد للہ (تمام تعریفیں اللہ کے لئے ہیں)، اللہ اکبر (اللہ بہت بڑا ہے) ۔ شامل ہیں۔ تینوں کلمے تعریفوں سے مزین۔۔

قرآن بھی سارا اللہ کی تعریفوں سے بھرا ہوا ہے، جن میں چند مثالیں پیش کررہا ہوں۔ 

سَبِّحِ اسْمَ رَبِّكَ الْأَعْلَى ﴿۱﴾۔۔ سورۃ الاعلی۔ 1۔ 

پڑھو اپنے رب کے نام کی تسبیح جو سب سے بلند ہے۔۔ 

{وَلَا یَؤُدُہُ حِفْظُہُمَا وَہُوَ الْعَلِیُّ الْعَظِیمُ}البقرہ:۲۵۵

وہ ان کی حفاظت سے نہ تھکتا ہے اور نہ اکتاتاہے وہ بہت ہی بلند وبالا اور بڑی عظمت والا ہے۔

وَهُوَ الْحَكِيمُ الْخَبِيرُ(سورہ الانعام 18)

وہ بہت دانا اور خبر رکھنے والا ہے۔ 

دَعْوَاهُمْ فِيهَا سُبْحَانَكَ اللَّهُمَّ وَتَحِيَّتُهُمْ فِيهَا سَلَامٌ ۚ وَآخِرُ دَعْوَاهُمْ أَنِ الْحَمْدُ لِلَّهِ رَبِّ الْعَالَمِينَ (سورہ یونس، آیت 10)۔ ۔۔ ‘‘

(جب وہ (دیکھیں گے تو)   کہیں گے اللہ پاک ہے۔ اور آپس میں ان کی دعا سلامٌ علیکم ہوگی اور ان کا آخری قول یہ (ہوگا) کہ تمام تعریفیں اللہ ہی کیلئے ہیں جو جہانوں کا رب ہے۔
سُبْحَانَهُ وَتَعَالَىٰ عَمَّا يُشْرِكُونَ (سورہ یونس ، آیت 18) ۔۔

وہ پاک ہے اور (اس کی شان) ان کے شرک کرنے سے بہت بلند ہے

یہ لسٹ بہت طویل ہوسکتی ہے، لیکن وقت کی نزاکت کو مدنظر رکھتے ہوئے اتنی ہی مثالوں پر اکتفا کرتا ہوں، سوال یہ ہے کہ اگر یہ واقعی حقیقی، اصلی خدا  ہوتا، جس نے اتنی بڑی، وسیع و عریض کائنات تخلیق کردی تو اس کے لئے تو اپنی تعریف کی حیثیت پرِ کاہ سے بھی کم تر ہونی چاہیئے تھی، بلکہ اس کو اپنی تعریفوں سے بالکل بے نیاز ہونا چاہیے تھا، مگر یہ “خدا” تو اپنی تعریف کا اس قدر شوقین بلکہ میری پیشگی معذرت قبول کیجیے اور مجھے کہنے دیجیے کہ اپنی تعریف کا اس قدر بھوکا ہے کہ چاہتا ہے کہ سبھی دن رات، اس کی تعریفیں کرتے رہیں اور اس کی بڑائیاں ہی بیان کرتے ہیں، اور اپنی تعریفوں کو مستقل بنیادوں پر زندہ رکھنے کا ایسا بندوبست کیا ہے کہ اذان میں دن میں پانچ بار جگہ جگہ ہر کونے کھدرے میں ، اللہ سب سے بڑا ہے کی صدا بلند ہوتی ہے، اسی طرح نماز بھی دن میں پانچ بار پڑھی جاتی ہے اور نماز کی چار رکعت میں خدا کی بیسیوں بار بڑائی بیان کی جاتی ہے، تعریف کی جاتی ہے۔۔

یہ کیسی بے نیازی ہے جو اپنی تعریف سننے کی ہوس سے اس قدر پُر ہے۔۔۔؟؟؟

 

Navigation