ہم سیکھتے کیسے ہیں؟

Home Forums Science and Technology ہم سیکھتے کیسے ہیں؟ ہم سیکھتے کیسے ہیں؟

#19
Shiraz
Participant
Offline
Thread Starter
  • Advanced
  • Threads: 18
  • Posts: 694
  • Total Posts: 712
  • Join Date:
    31 May, 2017
  • Location: شمالی امریکہ

Re: ہم سیکھتے کیسے ہیں؟




ایک انسانی ذہن میں سیکھنے کی (انسانی پیمانوں کے مطابق) لا محدود حلاحیت ہوتی ہے۔ ایک نومولود بچہ سب سے زیادہ تیزی سے سیکھتا ہے۔ کیوں؟ وہ اس لئے کہ اس کاذہن کھلا ہوتا ہے اور کسی قسم کی پابندی سے آلودہ نہیں ہوتا۔ جیسے جیسے بچہ بڑا ہوتا ہے اس کا ماحول، جس میں اس کے والدین سے لیکر اساتذہ اور معاشرہ شامل ہوتا ہے غیر محسوس طریقے پر بچے کے ذہن پر مختلف قسم کے قدغن لگاتے جاتے ہیں۔ جن کے سبب اس کا ذہن محدود ہونا شروع ہو جاتا ہے اور اس کی سوچ کی ایک سمت متعین ہونی شروع ہوجاتی۔ اس مرحلے پر بچے کا ذہن ایک خاص سمت میں تو آگے بڑھتا ہے مگر سوچ کی ہمہ جہتی اور وسعت محدود ہونے لگتی ہے۔ جیسے جیسے عمر بڑھتی ہے مستعار نظریات اور عقائد سوچ کو محدود کرتے چلے جاتے ہیں۔ محدود ہوتی سوچ کے ساتھ ایک وقت ایسا آتا ہے کہ انسان اپنے علاوہ سب کو غلط سجھنے لگتا ہے۔ یہ ارتقا کی سب سے نچلی سطح ہوتی ہے۔ انسانی ذہن کو ایک کمپیوٹر کی مثال سے سمجھا جا سکتا ہے۔ کمپیوٹر کی خالی میموری ہر قسم کے پروگرام کیلئے تیار ہوتی ہے۔ جب اس میں ایک آپریٹنگ سسٹم ڈال دیا جاتا ہے تو اس کی ایک شناخت معین ہو جاتی ہے- اب وہ یا تو ونڈوز یا پھر ایپل پروگرامز تک محدود ہو جاتا۔ پھر اگر استعمال کنندہ ایک بینکار ہے تو کمپیوٹر کی یادشت مالی نوعیت کے استعمال تک محدود ہونے لگتی ہے اور اگر استعمال کنندہ انجینئر ہے تو کمپیوٹر فنی استعمال تک محدود ہو جاتا۔ اور جیسا کہ آپ جانتے ہیں کہ ونڈوز کمپیوٹر ایپل کے پروگرامز کو رد کرتا ہے اور ایپل گوگل کے پروگرامز کو رد کرتا ہے۔ اور جس طرح وائرس کمپیوٹر میں خرابی لاکر اس کی کارگردگی محدود کر دیتا ہے اسی طرح فاسد خیالات و تعصبات انسانی ذہن کی کارگردگی محدود کر دیتے ہیں۔ ایک انسانی ذہن کو آپ جتنا ایک مخصوص نظریہ اور عقیدہ کے تحت لائینگے اس کی وسعت و استعداد و کارگردگی و صلاحیت محدود سے محدود ہوتی جائیگی۔ دوسری طرف جتنا آپ ذہن کو مختلف النوع خیالات و افکار کیلئے کھلا رکھینگے اتنی ہی استعداد بڑھتی جائیگی۔


جب اظہار کی بات آتی ہے تو کسی بھی حقیقت (رئیلٹی) کو اس کی ساری جہتوں سمیت لفظوں میں قید کرنا انسان کا ہمیشہ سے مسئلہ رہا ہے اور مستقبل میں اس کی شدت میں اضافہ ہونے کا مکان ہے کیونکہ وقت کے ساتھ حقیقت پیچیدہ تر ہوتی جا رہی ہے


آپ نے انسان کو ودیعت کی گئی سیکھنے کی سلاحیت/استعداد/آلے پر توجہ مرکوز کر کے یعنی جڑ سے پکڑ کر موضوع پر جس طرح پہلا پیرا رقم کیا ہے ایسا کم کم دیکھنے میں آتا ہے اور پھر ایک عملی مثال سے اسکی وضاحت نے تفہیم کو اور بھی آسان کر دیا ہے


لیکن ایک دو نکات ہیں اگر ان پر بھی کچھ رہنمائی ہو سکے، ایک تو کوئی بھی تیکنیکی یا میکانکی نظام سخت و ثقیل (رجڈ) ہوتا ہے یعنی معین (پروگرام) کئے گئے اصولوں پر ہی کام کرتا ہے اس سے پرے اس کی عملیت و افادیت صفر یا بہت ہی محدود ہو جاتی ہے، جب کہ انسانی ذہن نسبتاً بہت زیادہ لچکیلا ہوتا ہے


دوسری طرف اگر ذہنی استعداد کو کوئی سمت نہ دی جائے تو اسکے اندر بہت سارے موضوعات، خیالات اور سمتوں کا جمگھٹا ہوجانے کی وجہ اندر کا شور بہت بڑھ جاتا ہے چیزیں واضح نہیں رہتیں (لَیک آف کلیرٹی) اور اسکی بھی عملیت و افادیت متاثر ہوتی ہے


بظاہر اس صورتحال اور آپ نے جو موقف اپنایا ہے ذہن کو  سیکھنے کے عمل میں مطلق آزاد اور کھلا چھوڑ دینے کا اسکی وجہ سے ہمیں ایک شش وپنج کا سامنا ہے


Navigation