خدا ، مذہب، مکالمہ،

Home Forums Hyde Park / گوشہ لفنگاں خدا ، مذہب، مکالمہ، خدا ، مذہب، مکالمہ،

#148
Ghost Protocol
Participant
Offline
  • Professional
  • Threads: 87
  • Posts: 2181
  • Total Posts: 2268
  • Join Date:
    7 Jan, 2017

Re: خدا ، مذہب، مکالمہ،

آپ کے اس تبصرے کے دو پہلو ہیں پہلا: انسان نے خدا کو پہنچانا یا اس نے خود اعلان کیا۔ دوسرا: تصورِ خدا پر اعتراضات کتنے پرانے ہیں خدا نے اپنی موجودگی، قوت کا اعلان ببانگ دھل کیسے یا کس کے ذریعے کیا؟ انسان یا فطرت کے مظاہر سے انسان کے محسوسات کے ٹکراؤ اور بیان ہی کے ذریعے کیا ناں؟ یعنی اب ہماری توجہ وجود/ہستی (سبسٹانس/کنٹینٹ) سے ہٹ کر طریقے/راستے (میتھڈ) پر آ گئی ہے؟ اگر ایسا ہے تو اس سلسلے میں ایک الوہی/روحانی راستہ ہے اور دوسرا عقلی۔ اب آپ مکالمے کے مرکز/ارتکاز کو ثانی الذکر سے ہٹا کر اول الذکر کی طرف لے جانا چاہ رہے ہیں؟ میں اول الذکر روٹ/راستے سے اس طرح کے مکالمے میں شعوری کوشش سے بچتا ہوں کیونکہ یہ وقت کا ضیاع ہے اس آدمی کے ساتھ جو ایمان ہی نہیں رکھتا۔
——-

شیراز صاحب،
مجھے احساس ہے وقت گزرنے سے گفتگو میں روانی ٹوٹ جاتی ہے مگر ان برقی صفحات پر ہماری کوششیں محفوظ ہیں جن کو ایک مرتبہ پھر رواں کیا جاسکتا ہے
پہلے ایک ذرا ریکیپ کرلیں

Shiraz wrote:

میری محّولہ پوسٹ میں زیادہ زور اس پیرا/حصّے پر تھا اور اپ سے بھی اسی پر توجہ چاہتا ہوں خدا ان پانچ چھ ہزار سالوں کے اجتماعی انسانی عقل و شعور کا قابلِ فخر (انسان میں روحانی خلاء کو پر کرنے والا) اور لامتناہی افادیت رکھنے والا ورثہ ہے جس کے تصور نے دنیا بھر کے انسانوں کو اخلاقیات اور اخلاقی نظام دیئے جن سے آپ جیسے ملحد بھی براہِ راست اور بلواسطہ دن رات مستفید ہوتے ہیں

اس پر میرا استفسار

کیا خدا کا تصور انسانوں کی غیر معلوم کی وضاحت کرنے کی سعی کا نتیجہ ہے ؟ جس پر انسانیت کو فخر کرتی رہی ہے؟ انسانیت اس تصور پر فخر کیوں کررہی ہےاس میں انسانیت کو فخر کرنے والی کیا بات ہے کیا آپ کے کہنے کا مقصد یہ ہے کہ خالق کو مخلوق نے اپنی کوشش سے پہچانا ہے بجاے خالق کی طرف سے اس ضمن میں کسی کوشش یا اس کی مرضی کے بغیر

اس پر آپ کے فرمودات

خدا نے اپنی موجودگی، قوت کا اعلان ببانگ دھل کیسے یا کس کے ذریعے کیا؟ انسان یا فطرت کے مظاہر سے انسان کے محسوسات کے ٹکراؤ اور بیان ہی کے ذریعے کیا ناں؟

اس پیرا میں آپ نے میرے سوال کا جواب دیدیا کہ خدا نے ہی اپنی موجودگی کا اعلان کیا واسطہ کو تھوڑی دیر کے لئے ایک طرف رکھ دیں. جب مقدمہ
حل ہوگیا کہ خدا نے اپنی موجودگی کا اعلان کیا تو آپ کے زیل میں بیان کئے گئے پیرا کی وضاحت کس طرح ہوگی؟

خدا ان پانچ چھ ہزار سالوں کے اجتماعی انسانی عقل و شعور کا قابلِ فخر (انسان میں روحانی خلاء کو پر کرنے والا) اور لامتناہی افادیت رکھنے والا ورثہ ہے

رہا سوال اس بات کا کہ

یعنی اب ہماری توجہ وجود/ہستی (سبسٹانس/کنٹینٹ) سے ہٹ کر طریقے/راستے (میتھڈ) پر آ گئی ہے؟

ہماری توجہ اپنی جگہ پر موجود ہے آپ کے ارشادات میرے تجسس کا سبب بنتے ہیں تو سوال کی جسارت ہورہی ہے میں نے پہلے بھی واضح کیا تھا میرا مطمع طلب علم اور ایک عام بشر کے ذہن میں اٹھنے والے سوالات کے قابل اطمینان جواب کے حصول تک محدود ہے

اب آجاییں دوسرے نقطہ کی جانب. آپ کا اوریجنل بیان تھا

٤-٥ ہزار سال سے لے کر ٤٠/٥٠ سال قبل تک انسانیت کو تصور خدا سے نہ کویی مسلہ ہوا نہ تشویش

جس پر میں نے مزید استفسارات کئے اور کچھ حوالے پیش کئے تو آپ کی زیل میں دی گئی وضاحت آگئی. جس کے بعد میرے ذہن میں کویی نیا سوال پیدا نہیں ہوا

پچھلی گذارشات میں میرے عرض کرنے کا مقصد یہ نہیں تھا کہ 50 سال پہلے خدا کے باغی وجود ہی نہیں رکھتے تھے یا پیدا ہی نہیں ہوتے تھے۔ گے، امرد پرستی، لیزبیئنزم یا سماج کے دوسرے باغی جن میں ملحد بھی شامل ہیں یہ انسانی فطرت کے رجحانات ہیں، لیکن غالب نہیں ہیں یا میرا خدا اپنی حکمت کے تحت ان کو غلبہ عطا نہیں کرتا۔ جب سے نوعِ انسانی ہے یہ رجحانات موجود ہیں کم از کم سماجیات و بشریات کے علوم یہی بتاتے ہیں پچھلے 40-50 سال سے اس میں شدت کیوں آئی ہے؟

Navigation