خدا ، مذہب، مکالمہ،

Home Forums Hyde Park / گوشہ لفنگاں خدا ، مذہب، مکالمہ، خدا ، مذہب، مکالمہ،

#119
Aamir Siddique
Moderator
Offline
  • Threads: 25
  • Posts: 2536
  • Total Posts: 2561
  • Join Date:
    7 Oct, 2016

Re: خدا ، مذہب، مکالمہ،




جناب شیراز صاحب! علمی گفتگو کے دوران جارحانہ رویہ روا رکھنا بذاتِ خود علم کی نفی کرنا ہے، اس لئے اگر آپ کو ایسا محسوس ہوا ہے تو شاید اس کی وجہ یہ ہوسکتی ہے کہ میں اور میرا طرزِ گفتگو آپ کے لئے اجنبی ہے، امید ہے گفتگو بڑھی تو آپ کا یہ احساس مٹ جائے گا۔ خیر تو آپ نے فرمایا کہ خدا کی ہستی کا اظہار دو طریقوں سے ہوا، ایک عقلی دوسرا الوہی / روحانی۔ اول الذکر طریقے سے میں اس لحاظ سے متفق ہوں کہ قدیم زمانے میں اس خطہ ارضی پر انسان کی تنہائی اور کم علمی نے اس کو ایک طاقت کے ہونے کا احساس دلایا ، اپنی کم علمی کی وجہ سے انسان کے پاس اپنے وجود اور مظاہر قدرت کی کوئی توجیح کرنا ممکن نہ تھا، لہذا اس کے لئے یہ آسان اور عین ممکن تھا کہ وہ اس کا ذمہ ایک طاقت کو قرار دے دے، اور لوگوں نے یہ تسلیم کرنا شروع کردیا کہ پردہ کائنات سے پرے ہے کوئی جس نے ہمیں اور اس کائنات کو تخلیق کیا، یوں انسانوں نے عقلی طور پر خدا کا تصور تراشا، جہاں تک آپ کے روحانی طریقہ “واردات” کا تعلق ہے تو اس سلسلے کو بھی بڑی آسانی سے پہچانا جاسکتا ہے، انسان نے خدا کے تصور کو تراش تو لیا، مگر ایک مسئلہ تھا کہ اس کا خدا کے ساتھ کوئی رابطہ نہ تھا، اور بیچ میں ایک بہت بڑا خلا تھا جو انسان بڑی شدت سے محسوس کرتا تھا، پھر یوں ہوا کہ کسی شاطر دماغ میں ایک اچھوتا خیال ابھرا، اس نے سوچا کہ خدا اور انسانوں کا تعلق جوڑا جائے، (اس کی نیت کے بارے میں ، میں کچھ نہیں کہہ سکتا، ہوسکتا ہے اس کا ارادہ، انسان کی ذات کے خلاف کو پر کرنا ہو) ، وہ کھڑا ہوا اور اس نے دعویٰ کردیا کہ مجھے خدا نے بھیجا ہے، وہ مجھ سے باتیں کرتا ہے، وہ میرے پاس فرشتہ بھیجتا ہے، اور یوں اس نے انسانوں کو ایک نئی ٹرک کی بتی کے پیچھے لگایا، زمانوں کے حساب سے مختلف لوگ پیدا ہوتے رہے جو اپنے اپنے دور میں مختلف انداز میں ایسے ہی دعوے دہراتے رہے اور پہلوں کے دعوں / تعلیمات سے مواد کاپی پیسٹ کرتے رہے اور یوں یہ روحانی طریقہ واردات چلتا رہا اور مذہب کہلایا۔





Navigation